حو ّ ا کی بیٹی 188

ٹیچر! ایک قابل قدر و قابل عزت پیشہ

استاد کا مقام بلند ہے اور والدین کے بعد اگر کسی کا احترام کیا جانا چاہئے تو وہ ایک استاد ہوتا ہے کہ جس نے آپ کو علم کی روشنی سے منور کیا اور دنیا میں جینے کی راہ دکھائی۔ ہمیں یاد ہے کہ جن دنوں ہم اسکول میں پڑھتے تھے، کوئی پرانی بات نہیں یہی کوئی 70/80ءکی دھائی میں تو اس وقت بھی ٹیچر کا احترام بھی اور خوف بھی قابل دید تھا۔ کہیں سائیکل یا موٹر سائیکل پر جارہے ہیں اور سامنے سے ٹیچر آ جائے تو سائیکل، موٹر سائیکل سے اتر کر کھڑے ہو جاتے تھے اور اس کے گزرنے کے بعد دوبارہ اپنی راہ لیتے تھے۔ یہ ہماری تربیت کا حصہ تھا۔ اس زمانے کے ٹیچرز بھی اعلیٰ صفات کے مالک ہوتے تھے، اپنے کام میں سنجیدہ اور نہایت پروفیشنل، اپنے پیشہ کی لاج رکھنے والے۔ علم اور ادب کا خزانہ اپنے دامن میں سموئے وہ استاد نہ جانے کہاں کھو گئے۔ پاکستان میں آہستہ آہستہ تمام روایتیں، تمام حکایتیں دم توڑ گئیں اور پھر چشم فلک جو کچھ دیکھ رہی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔
گزشتہ دنوں خیرپور میرس کے ایک ٹیچر کی خبر نظروں سے گزری جو اپنے طالبعلموں کے ساتھ سیکس اور گروپ سیکس کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ ان والدین کے دلوں پر کیا گزری ہو گی کہ جنہوں نے استاد کے احترام اور مقام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو اس جیسے بدکردار شخص کے پاس تعلیم حاصل کرنے بھیجا۔ مجھے یقین ہے کہ باقی کیسز کی طرح یہ شخص بھی با عزت بری ہو جائے گا اور ہماری عدالتیں انصاف کے تمام تقاضے پورے کریں گی مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج پاکستان اخلاقی گراوٹ کے کس درجہ پر پہنچ چکا ہے اور جہاں استادوں پر سے بھی والدین کا اعتماد اٹھ جائے گا۔
اسکول ہو یا مدرسہ اب تو کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی، آپ کے بچوں کے ساتھ کوئی بھی واقعہ رونما ہو سکتا ہے جو کہ ان کا مستقبل تباہ و برباد کر سکتا ہے۔ وہ ممالک جنہیں ہم اس بنیاد پر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ وہ کلمہ گو نہیں اور مشرکین ہیں ان کے ممالک میں استاد کا احترام کی مثال انسان کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ استاد عدالتوں میں آجائے تو جج اور عملہ احتراماً کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسے نہایت با عزت طریقہ سے ڈیل کیا جاتا ہے۔ حاصل ہی میں واٹس اپ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ترکش ایئرلائن میں ایک استاد سفر کررہا تھا اور اس جہاز کے کپتان کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کا استاد اس ایئرکرافٹ میں موجود ہے تو اس نے اپنے عملہ کے ذریعہ اسے پھول کا گلدستہ پیش کیا اور اعلان کیا کہ اس کا استاد آج اس ایئرکرافٹ میں موجود ہے جس پر تمام مسافروں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور نتیجتاً وہ عمر رسیدہ استاد اس بے انتہا پذیرائی کے سبب اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔
یہ ہوتی ہے زندہ قوموں کی نشانی اور استادوں کا احترام جو انسان کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے مگر بحیثیت پاکستانی جو اپنے والدین کی عزت نہیں کرتے تو استادوں کی کیا عزت کر پائے۔ میں نے تو کالج اور یونیورسٹیز میں طالبلعموں کو استادوں پر بندوقیں تانے دیکھا ہے۔ ہاں آج کے طالبلعموں کو استاد بھی ویسے ہی مل رہے ہیں جیسے ان کے کرتوت ہیں کیونکہ یا یوں کہیے کہ استادوں نے گزشتہ دھائیوں میں جو کچھ اپنے شاگردوں کو دیا ہے یعنی جو انہوں نے بویا ہے وہی کاٹ رہے ہیں اور خیرپور میرس جیسے واقعات تمام شہروں میں ہو رہے ہیں۔ بس جس کی خبر آجائے وہ عوام اور میڈیا جان لیتا ہے۔ ورنہ تو ہر پاکستان کے ہر گلی اور ہر محلے میں جو گندگی پھیل رہی ہے اور جو کچھ ہمارے پرائیویٹ چینلز پر دکھایا جارہا ہے تو اس کا نتیجہ بھی ایسے ہی واقعات کو جنم دے گا کہ جہاں بیوی کی حرمت، بہنوں کی عزت اور مردوں کی آوارگی کے واقعات سے کئی گرما گرم خبریں آتی رہیں گی اور معاشرے کی بدصورتی میں اضافہ کرتی رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں