عجب لوگ 128

ڈاکوﺅں کے گھر چوری

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مچھیرے نےد ریا میں جال ڈالا تو ایک بہت بڑی مچھلی اس کے جال میں پھنس گئی۔ شکاری مچھیرا بہت خوش ہوا یہ کہ جب وہ جال کھینچ کر اپنا بہت بڑا شکار حاصل کرنے والا ہی تھا کہ تو طاقت ور مچھلی اس کا اپنا ہی جال گھسیٹ کر لے گئی۔ شکار ہاتھ آنے کے بجائے وہ شکاری جال سے بھی محروم ہو گیا۔ ساتھی شکاری اسے ملامت کرنے لگے کہ خوش قسمتی سے ایک بڑا اور اچھا شکار تیرے جال میں آیا اور تو نے الٹا یونہی گنوادیا۔ شکاری نے کہا کہ اے میرے ساتھیوں مجھے ملامت نہ کرو، اصل بات یہ ہے کہ یہ شکار میری قسمت میں نہیں تھا اور مچھلی کی زندگی پانی میں باقی تھی۔ شکاری کی قسمت میں شکار نہ تھا اور مچھلی کی زندگی مزید باقی تھی اسے تو خشکی پر بھی موت نہیں آسکتی تھی۔
اس حکایت میں حضرت سعدی نے اس حقیقت سے روشناس کروایا کہ انسان بہرحال تقدیر الٰہی کی پابند ہے اگرچہ شکار کا انحصار بظاہر ہماری کوششوں سے ہی ہے لیکن اس سلسلے میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایسی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کا انحصار اوّل و آخر اللہ پاک کی ذات پر ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے:
”میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا“
آصف علی زرداری نے اس چالاک شکاری کی طرح گزشتہ 2008ءسے اقتدار پر قبضہ جمایا ہوا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی موت سے جس طرح فائدے اٹھا کر اقتدار کی منزلیں حاصل کیں اس سے یہ ہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ میدان سیاست کے کتنے بڑے ماہر شکاری ہیں۔ انہوں نے بے نظیر کی وصیت کا سہارا لے کر سب سے پہلے پیپلزپارٹی پر قبضہ کیا پھر نواز شریف کی حمایت سے انتخابات میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کی اس کے بعد جس طرح پرویز مشرف کو صدارت سے معزول کرکے قصر صدارت پر قبضہ کے ساتھ ساتھ سندھ پر اپنا تسلط قائم کیا۔ مشرف کے بعد سندھ سے اپنے بہت بڑے حریف الطاف حسین کو نواز شریف کے دور میں فوج کی مدد سے راستے سے ہٹا کر اپنی گرفت مضبوط کی، اس کے بعد میں نواز شریف کے خلاف عمران خان کو استعمال کرکے اس ہی طرح مہم چلائی جس طرح اب وہ نواز شریف کو استعمال کرکے عمران خان کے خلاف مہم جوئی میں مشغول ہیں۔ یوں نواز شریف کو بھی نا اہل کروا کر فوج کا ساتھ دیا اور سندھ میں مکمل طور پر بالاشرکت غیرے واک اوور حاصل کیا۔ گزشتہ تین سال سے عمران خان کے خلاف نواز شریف کو استعمال کرکے ایک طرف تو سندھ کے بدترین حالات سے توجہ ہٹانے میں کامیابی حاصل کی دوسری طرف ملکی سطح پر اس تاثر کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی کہ پیپلزپارٹی جو اندرون سندھ تک محدود پارٹی سمجھی جاتی تھی اس کو ملکی سطح پر پی ٹی آئی کے متبادل لاکھڑا کردیا۔
گزشتہ پانچ سالوں سے نواز لیگ عمران خان اور فوج کے عتاب کا نشانہ بنی ہوئی تھی، زرداری خود سندھ میں ہر سطح پر اپنی گرفت کو طاقتور بنانے میں آمرانہ کارروائیاں کرنے میں مصروف ہے۔ جب نواز شریف نے تنگ آمد بجنگ آمد ہو کر عمران خان اور فوج کے خلاف مہم جوئی شروع کی تو زرداری نے بھی موقع سے فائدے اٹھانے کی خاطر ان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اس طرح وہ گیارہ جماعتی اتحاد میں اپنا مضبوط مقام بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن نے تو احتجاجی سیاست مجبوراً شروع کی لیکن زرداری نے اس احتجاج میں اپنا مقام بہتر بنانے کے لئے شرکت کی۔ ایک طرف فوج سے تعاون بھی جاری رکھا اور نواز شریف اور فضل الرحمن کو پارلیمانی سیاست کی جانب مائل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یوں وہ اقلیت میں ہونے کے باوجود یوسف رضا گیلانی کو سینٹ کا رکن بنانے میں کامیاب رہے دوسری طرف انہوں نے یوسف رضا گیلانی کو سینٹ کے چیئرمین کے لئے بھی مقابلے پر لا کھڑا کیا۔ اس طرح انہوں نے سینٹ کے انتخابات میں حصہ لیا۔ آصف علی زرداری کے نمائندے یوسف رضا گیلانی کے فرزند حیدر گیلانی نے ووٹ کی چوری کے سلسلے میں جو گر پی ٹی آئی کے اناڑیوں کو سمجھانے کی کوشش کی وہ ہی گر آزما کر پی ٹی آئی کے اناڑی چوروں نے ان کے والد اور زرداری کے نمائندے کی کامیاب چوری کی ہے اس کے لئے اردو کا ایک محاورہ یاد آگیا۔
لو اپنے ہی دام میں صیاد آگیا
یعنی شکاری خود شکار ہو گیا۔ بقول حامد میر سینٹ کے انتخابات میں یوسف رضا گیلانی با آسانی جیت سکتے تھے مگر زرداری صاحب کی ضرورت سے زیادہ چالاکی کی وجہ سے گیلانی صاحب کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
انہوں نے اپنے حامی سینیٹروں کی وفاداریوں پر نظر رکھنے کی خاطر ان کو اس بات پر زبردستی آمادہ کیا کہ وہ گیلانی صاحب کو ووٹ دیتے وقت ان کے بیلٹ پیپر پر مخصوص جگہ پر نشان لگانے کی بجائے گیلانی صاحب کے نام پر اپنا ٹھپہ لگائیں تاکہ ان کی شناخت میں آسانی ہو سکے۔ ان کے حامی سنیٹروں نے مجبوراً اپنا ٹھپہ گیلانی صاحب کے نام پر لگا دیا جس کی وجہ سے ان کے وہ سات ووٹ ناقابل قبول ٹھہرا کر مسترد کر دیئے گئے اس طرح گیلانی صاحب صادق سنجرانی کے مقابلے میں سینٹ کی چیئرمین شپ کے مقابلے میں شکست کا شکار ہو گئے۔ یعنی ہاتھ آئی مچھلی زرداری صاحب کا جال ہی اپنے ساتھ چھین کر لے گئی اور زرداری ناکام شکاری کی طرح ہاتھ ملتے رہ گئے اب وہ کورٹوں کے ٹرک کے پیچھے لگا کر پوری پی ڈی ایم کو اپنے پیچھے لگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ چاہتے یہی ہیں کہ کسی طرح وہ اسمبلیوں میں اپنے نمائندوں کو استعفیٰ سے بچائیں تاکہ ان کی مرکزی سیاست میں اہمیت کو برقرار رکھیں۔ دوسری وہ سندھ میں اپنی مکمل اجارہ داری کو بھی محفوظ رکھیں جہاں انہوں نے اپنی حاکمیت اور بادشاہت قائم کر رکھی ہے ان کے اس موقف کی تائید اسٹیبلشمنٹ بھی کررہی ہے اور اس کا فائدہ عمران خان کی کمزور حکومت کو بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف پی ڈی ایم عمران خان کی حکومت کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی دباﺅ میں رکھے ہوئے ہے اس کا وزن بھی کمزور ہو سکتا ہے۔ زرداری صاحب کے پاس طاقت کا توازن بڑی حد تک آچکا ہے۔ جس کا وہ بھرپور فائدہ سندھ کے ساتھ ساتھ وفاق میں اٹھانے کی پوزیشن میں آچکے ہیں۔ اس طرح ایک طرف فوج اور عمران حکومت کی زد میں آنے سے بچے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف وہ پی ڈی ایم کی صفوں میں گھس کر اپنے مقاصد میں بھی کامیابی حاصل کررہے ہیں جس کی وجہ سے وقت کے ساتھ شہری علاقوں سمیت پورا سندھ ان کی ذاتی جاگیر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مرکز میں وہ عمران خان کی حکومت کے متبادل کے طور پر بھی فوج کے لئے قابل قبول حیثیت اختیار کرتے چلے گئے ہیں۔
صورت حال یہ ہے کہ ہر فریق شکاری کی طرح اپنے اپنے جال تان کر دوسرے کو شکار کرنا چاہتا ہے۔ بظاہر مقابلہ دو فریقوں میں ہے جو ایک دوسرے پر اپنے اپنے جال بچھا کر قابو کرنے کے درپے ہیں۔ جس میں سے ایک فریق پی ڈی ایم ہے جو بظاہر زرداری کا حلیف ہے مگر زرداری بھی اپنا ایک جال پھیلائے ہوئے اپنے اپنے شکار کو اس میں جکڑنا چاہتا ہے۔
دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ ہے جس کا حلیف عمران خان ہے جو خود دوسروں کے جال سے بچنے کے لئے پھڑپھڑا رہا ہے وہ ایک طرف پی ڈی ایم کے جال سے بچتے ہوئے فوج کے بتائے ہوئے راستے سے خود کو کسی حد تک گریز کرنے میں لگا ہوا ہے، فوج نے بھی اپنے جال ایسے بچھائے ہوئے ہیں وہ ایک شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو بھی دانا ڈال رہے ہیں دوسری طرف زرداری کو بھی کچھ نہ کچھ لالچ دے کر پی ڈی ایم کے راستے سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔
زرداری نے ہر طرف مختلف طرح کے دانے ڈالے ہوئے ہیں ایک طرف وہ پی ڈی ایم کا حصہ بن کر پنجاب کے ساتھ پورے ملک میں اپنا حلقہ اثر دوبارہ بحال کرنے میں بظاہر کامیاب نظر آتے ہیں دوسری طرف فوج کی طرف بھی اپنے دانے ڈالے ہوئے ہیں۔ ظاہر یہ کررہے ہیں کہ وہ سندھ کارڈ کے ساتھ پنجاب میں بھی اقتدار حاصل کر سکتے ہیں اور عمران خان کا متبادل بن کر نواز شریف کو راستے سے ہٹا سکتے ہیں۔ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن سب کچھ گنوا کر ”مرو یا کرو“ کی حالت میں آچکے ہیں۔ وہ عمران خان کے ساتھ فوج کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، ایک طرف عمران خان اور فوج ان کے مقابل ہے دوسری طرف ان کی آستینوں میں زرداری چھپا ہوا اپنا شکار اکیلے کرنا چاہتا ہے۔ تمام شکاری اپنے اپنے جال بچھائے ہوئے ایک دوسرے کو شکار کرنے کے درپے ہیں۔
انہی سے کوئی ایک دوسرے کا شکار ہو نہ ہو۔ پاکستانی عوام ان سب کے جال میں جکڑے ہوئے کراہ رہے ہیں اور چور، ڈاکو ایک دوسرے کے گھر چوری میں مصروف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں