اقبال لطیف کا تجزیہ 44

گردشِ ایام

اپنے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور ہم ہیں کہ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے اس وقت خطے کے حالات اس نہج پر ہیں کہ ایک ذرا سی چنگاری سارے علاقے کو خاکستر کرکے رکھ سکتی ہیں اور ہم ہیں کہ عالمی سیاست میں کردار ادا کرنے کی بات کررہے ہیں۔ تاریخ سے قومیں نہیں سیکھتی ہیں مگر ہم نے اس سے بھی کچھ نہیں سیکھا بلکہ وقتی فوائد حاصل کرکے ذاتی معاملات سے نفع حاصل کرکے کیا سمجھتے رہے کہ ہم کامیاب و کامران ہو گئے، کسی اچھی بات کی سیاست دان نے کہی ہے کہ سیاست وہی ثمر مند ہوتی ہے جس سے آنے والی نسلوں کی خوشحالی اور ترقی وابستہ ہو مگر یہاں صورت حال یہ ہے کہ
بابر باعیش کوشش کہ عالم دوبارہ نیست
یعنی جو وقت حاصل میں میسر ہو اسے ہی لوٹ مار کر حاصل کر لو، کل کیا ہو گا، میری بلا سے جائے، کل جو ہم نے افغانستان کے سلسلے میں بویا تھا آج اس کے تلخ اور کڑوے پھل سامنے آرہے ہیں ہم نے وقت مفادات کے تحت جو پالیسی بنائی تھی وہ آج ہمارے لئے وبال بن چکی ہے۔ افغانستان کے تیس لاکھ مہاجروں کو پناہ دے کر جو آگ ہم نے اپنی سرزمین میں لگائی تھی آج اس سے پورا ملک الاﺅ بنا ہوا ہے، ہیروئن اور اسلحہ کا جو سیلاب یہ بدبخت لائے تھے اس سے پورا معاشرہ تباہ ہو گیا اور تخریب کاری سے اب ملک کے لالے پڑے ہوئے ہیں جو عناصر جو افغانستان اور روس کی جنگ کو اسلام اور کفر کا معرکہ کہتے تھے جنہوں نے لاتعداد نوجوانوں کو اس کی بھینٹ چڑھا دیا اور اس کے بدلے میں اربوں کھربوں روپیہ حاصل کئے وہ مفتیان دین وہ مذہب کے ٹھیکیدار جو مجاہدین کی سرپرستی کے دعویدار تھے دراصل امریکی ڈالروں کی فصل بو رہے تھے اور وہ قوم پرستی کے دعویدار تھے جو امریکی اسلحہ کی اسمگلنگ اور ہیروئن کے کاروبار میں گلے گلے ڈوبے ہوئے تھے یہ عناصر پاکستان کو دارالکفر گردانتے تھے اور افغانستان کو دارالسلام کہتے تھے مگر ان کے مفادات صرف اور صرف امریکی ڈالروں سے وابستہ تھے۔
اس کے بعد جب روس پسپا ہوا ہو تو امریکہ کو افغانستان میں اپنی موجودگی کا جواز القاعدہ اور 9/11 کے واقعہ کے بات میسر آیا جہاں طالبان کی آڑ میں اس نے امن و امان قائم کرنے کا نام نہاد جواز بتایا اب کھیل میں پاکستان کے مذہبی عناصر شامل ہو گئے جو دعویٰ کرتے تھے کہ یہ افغان میں اسلامی حکومت قائم کرنے والے جنگجو ہمارے طالب علم ہیں اور اس طرح انہوں نے نیا کھیل شروع کردیا یہ طالبان کے پالیسی میکر بن گئے مگر مقاصد ان کے بھی وہی تھے جو مجاہدین کے سرپرستوں کے تھے یہ وہی پرانی شراب تھی جو نئی بوتل میں پیش کی گئی اس دفعہ بن لادن جو کہ امریکہ کا پٹھو تھا اور اس نے ہی افغانستان میں ”تورا بورا“ تعمیر کیا تھا جو پہاڑوں میں امریکہ کے فوجی سازوسامان اور فوجیوں کی پناہ گاہ تھا اور طالبان کا سربراہ ملا عمر تخلیق کیا گیا اور اس طرح ایک نئے خونی باب کی ابتداءہوئی یہ بھی مجاہدین کی طرح مخصوص مذہبی ذہن کے مالک تھے اور ملک میں خالصتاً مذہبی حکومت قائم کرنے کے دعویدار تھے مگر افغانستان اور پاکستان دونوں میں ہی ان کے سرپرست اپنے اپنے مفادات حاصل کررہے تھے یہ خودکش بمبار تشکیل دے کر اپنے مقاصد حاصل کررہے تھے جب کہ افغانستان سے منشیات کی تجارت سے اربوں ڈالر کما رہے تھے اور اس ”نیک کام“ میں ایک طرف امریکی فوج تو دوسری طرف افغانستان کے سرکردہ قبائیلی سردار شریک تھے جب کہ ان سے پاکستان میں بھی طالبان کے نام نہاد استازہ بھی اس بہتی گنگا میں غوطے لگا رہے تھے جس میں اس وقت پاکستان کی ایک مذہبی جماعت کا سربراہ اور اس کے دیگر ساتھی دونوں ہاتھوں سے ڈالر سمیٹ رہے تھے بلکہ آج بھی وہ طالبان کارڈ استعمال کرکے حکومت کو بلیک میل کررہے ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی فوج بنا رکھی ہے۔ جسے افغانستان سے حاصل کئے ہوئے اسلحہ سے لیس کیا ہوا ہے آج یہ پرائیویٹ فوج کرایہ پر حکومت مخالف جماعتوں کو حکومت کے خلاف تحاریک چلانے میں استعمال ہوتیہے اب افغانستان میں طالابن جمہوری حکومت اور آئین کی بات کررہے ہیں جو کہ پوری دنیا کے اسلام کا غم اور ٹھیکیداری کا دعویٰ کرتے ہیں اس کی ابتداءضیاءالحق کے دور سے ہوتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ہزار سال سے یہی روش جاری ہے ہم ہر بات کا ذمہ دار اپنی جگہ دوسروں کو ٹھہرانے کے مرض میں مبتلا ہیں، اپنی ناکردہ کاری کا ملبہ مغرب پر ڈال دیتے ہیں، مذہبی انتہا پسندی کے لئے سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جب کہ ہم خود اپنے ساتھ یہ ظلم کرتے ہیں۔
بات صرف اتنی ہے کہ افغانستان کے معاملے میں ہم نے بھی وہی طرز عمل اختیار کیا جیسے کہ ہم خود اپنے ملک میں اپنے سے کمتر علاقوں سے روا رکھتے ہیں آج افغانستان میں ہندوستان کا اثر و رسوخ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ عالمی اداروں کے تحت مذاکرات میں ہندوستان کو بھی شریک کیا جاتا ہے جب کہ طالبان کی ساری تخریب کاری پاکستان کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت مسلسل پاکستان کے خلاف انتہائی بے ہودہ زبان استعمال کرتی ہے ان میں وہ لوگ شامل ہیں جن کی تعلیم و تربیت ہندوستان میں ہوئی ہے فوج میں بڑی تعداد میں وہ افراد ہیں جنہوں نے ہندوستان کے فوجی اداروں میں تربیت حاصل کی ہے جب کہ وہاں پاکستان کے خلاف وہ لابی بھی موجود ہے جو کہ ڈیونڈر لائن (پاکستان ۔ افغانستان کی سرحد) کو تسلیم نہیں کرتی بلکہ وہ پختونستان کی شکل میں ایک علیحدہ ریاست کی تشکیل کے لئے کام کررہے ہیں جب کہ ہم نے اپنے طرز عمل سے یہ تاثر دیا ہے طالبان ہمارے زیر اثر ہیں اور اس تاثر نے ان حلقوں ک وپاکستان کے خلاف کردیا ہے جنہوں نے طالبان سے جانی اور مالی نقصانات اٹھائے ہیں اور امریکہ ان کی پشت پناہی کررہا ہے وہ ایک طرف پاکستان مخالف افراد کو واشنگٹن بلا کر اس کی میزبانی کررہا ہے۔ خیال رہے جتنے بھی افراد امریکہ گئے ہیں ان میں سے ایک بھی پاکستان کے حق میں بولنے والا نہیں ہے بلکہ پاکستان مخالف میں اشرف غنی ہندوستان میں پڑھا ہوا، وزیر داخلہ پاکستان کا سخت مخالف ”خاد“ (افغان خفیہ ایجنسی) کا سربراہ دھرہ دون کی فوجی اکیڈیمی میں تربیت یافتہ گویا یہ پورا وفد مکمل طور پر پاکستان دشمن ہے اور دوسری طرف امریکہ پاکستان میں فوجی اڈے طلب کررہا ہے تاکہ طالبان کا رخ پاکستان کی طرف ہو جائے اور اس کا خارخیر میں حکومت مخالف جماعتیں امریکہ کو یقین دلا رہی ہیں کہ اگر ہمیں حکومت دلوادی جائے تو ہم اس ”نیک“ کام میں آپ کے ساتھ ہوں گے اس طرح امریکہ جو ”سی پیک“ کو ختم کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر کنٹرول چاہتا ہے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا اور سب کچھ ”جمہوریت“ کے نام پر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں