یہ اسکول کے بھاری بستے۔۔۔ 93

گیٹ اَپ میکر قمر عالی سے منسوب یادیں

میں نے چند ماہ ادھر فلمی دنیا کے نامور میک اپ آرٹسٹ قمر عالی سے قن کے دفت ایور نیو اسٹوڈیوز میں ملاقات کی۔ یہ کہاں علم تھا کہ پاک فلم انڈسٹری کے ہر دل عزیز معروف میک اپ ماسٹر(گیٹ اپ ) میکر قمر علی 18 مئی 2023 کو دل کے دورے کی وجہ سے دنیائے فانی سے رخصت ہوجائیں گے۔ قمر عالی ذہین طالبعلم تھا اور سول سروس میں جانا چاہتا تھا۔ ا سے بادل ناخواستہ اپنے والد کی معاونت کے لئے فلم اسٹوڈیوز آنا پڑا۔ فلمساز و ہدایتکار عنایت حسین بھٹی قمر عالی کے کام سے متاثر ہوئے۔ جب نئی فلم کا ارادہ کرتے قمر عالی کو گھر سے بلوا لیتے۔ بالاخر گھرداری اور بھٹی برادران کی شفقت نے انہیں فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا کہ وہ اس پیشے کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ لے اور منفرد کام کرکے دکھائے۔ والد صاحب کے بعد بھٹی پروڈکشنز کی ساری فلمیں قمر عالی نے کیں۔ انہوں نے اس کے علاوہ بھی ڈائریکٹروں کے ساتھ فلمیں کی ہیں۔جیسے وحید ڈار، ایس اے بخاری ، پرویز رانا، سودی بٹ، وحید اعوان۔ یہ بھی بتایا کہ انہیں کام کرتے ہوئے 45 سال ہو گئے ہیں۔ میڈم انجمن کے ساتھ انہوں نے بڑا کام کیا۔ اس دور کی میڈم صنم، غزالہ بیگم ، چکوری بیگم، آسیہ بیگم وغیرہ سب ہی اداکارائیں مزاجاََ بہت اچھی تھیں۔اس کے علاوہ ہیرو اور دیگر فنکار بھی بہت اچھی طرح ملتے تھے۔ نیز یہ کہانہوں نے سلطان راہی ، مصطفیٰ قریشی ، اقبال حسن ، کیفی ، عنایت حسین بھٹی ، اسلم پرویز ، یوسف خان ، الیاس کاشمیری، ساون وغیرہ کے ساتھ خاصا کام کیا۔ قمر عالی نے ٹی وی ڈرامے بھی کیے۔ جیسے انجم شہزاد کا ”خود دار محبت“، سرمد کھوسٹ کا تاریخی مغلیہ دور سے متعلق بڑا ڈرامہ ” مور محل ”۔اِس کا سارا گیٹ اپ بھی انہوں نے کیا۔ اگر گیٹ اپ صحیح نہ کیا گیا ہو تو تاریخی فلموں اور ڈراموں کے خصوصی ملبوسات بھی تاثر نہیں چھوڑتے۔ ہمارے پاس پروڈیوسر اور ڈائریکٹر تو ہیں لیکن آرٹسٹوں کی کال ہے جن کے سر پر فلم بنتی ہے۔ قمر عالی کا کہنا تھا کہ جو بھی کام کیا اللہ نے مجھے عزت دی۔ آج تک میرا گیٹ اپ مسترد نہیں ہوا۔سرمد کھوسٹ باریک بینی سے کام کر تے ہیں۔ ان کے ڈرامہ ” مور محل ” کے تمام کرداروں کا گیٹ اپ میک اپ روم سے کر کے بھیج دیتا تھا انہوں نے کبھی مجھے سیٹ پر نہیں بلوایا کہ قمر بھائی یہ صحیح کریں !! اللہ کے فضل سے میں کردار کے لحاظ سے کام کرتا تھا۔ سب ہی اداکار اچھے تھے البتہ یوسف خان تھوڑے سے مزاج والے تھے لیکن اگر کام ٹھیک ہوتا تو خوش بھی ہوتے! قمر عالی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ جب میں فلمی لائن سے منسلک ہوا اس وقت اندسٹری میں 250 میک اپ مین تھے۔ اور اب محض تین چار رہ گئے ہیں !! اردو فلموں کے حوالے سے انہوں نے کہا: میں نے محمد علی، ندیم سمیت سب ہی بڑے فنکاروں کے ساتھ کام کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی کا بس ایک ہی گر ہے…محنت ! پرائیویٹ پروڈکشنز کے میک اپ شعبے میں نئے لڑکے اچھا کام کر رہے ہیں لیکن نظریہ میک اپ سے لا علم ہیں۔ اس لئے فلم کے حساب سے کام نہیں ہو رہا ہے۔ البتہ ٹی وی کا میک اپ اور گیٹ اپ بڑا اچھا ہو رہا ہے۔ میری آنے والی فلمیں ”دِلّی گیٹ”، ”چھتیس گڑھ”، ”اشتہاری ڈوگر” وغیرہ ہیں۔ میں نے اپنے شاگردوں سے کام کبھی نہیں چھپایا ! انہوں نے کام تو پھر بھی کر ہی لینا تھا !! اسی وجہ سے اللہ کی ذات نے مجھے اب تک عزت دی ہوئی ہے۔ آج بھی وہ مجھے استاد جی استاد جی کہتے نہیں تھکتے۔ میں نے کراچی کی فلمیں بھی کی ہیں۔جیسے: ”چمبیلی” (2013)، ” بالو ماہی ” (2017)، ” سایہ خدا ئے ذوالجلال ” (2016)۔ میں اپنے کام اور زندگی سے مطمئن ہوں ! پیسہ بہت کمایا۔ بس آیا اور نکل گیا ! شاہ نور اسٹوڈیو دیکھتے ہی دیکھتے بِک گیا اور وہاں مکانات بننے لگے لیکن میں نے موقع سے فائدہ نہیں آٹھایا۔ در اصل میرے والد صاحب نے فلمساز کی حیثیت سے ایک فلم ” یاریاں ” شروع کر دی تھی جس کے ڈائریکٹر بھی وہ خود ہی تھے۔ اس فلم میں ان کی بہت رقم لگ گئی۔ جب دوسرے میک اپ مین فلم کے 2000 روپے لیتے تھے تب میرے والد صاحب بھٹی پکچرز سے 15000 لیتے تھے۔ اس وقت 50 روپے مرلہ زمین تھی۔ اس حساب سے آپ اندازہ لگا لیں کہ اس دور کا پندرہ ہزار اج کا کتنا ہوا؟ وہ فلم مکمل بھی ہو گئی لیکن سنیما ﺅںکی زینت نہ بن سکی ! قمر عالی صاحب نے ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فلم لائن کے سر پر حکومتیں چلی ہیں۔ کروڑوں روپے روزانہ کا ٹیکس وصول کر کے حکومتوں نے بڑا فائدہ اٹھایا۔ اب حکومت کو چاہیے کہ اس انڈسٹری کو واپس ترقی کے راستے پر ڈالے تا کہ وہ پھلے پھولے جس سے فلم سے منسلک لوگوں کو اچھا روزگار ملے اور حکومت کو بھی روزانہ بھاری ٹیکس ملے !! ماضی میں ‘ فلمی خون ‘ کے نام پر استعمال ہونے والا محلول گلابی رنگ کا ہوتا تھا۔ سرخ رنگ کے خون کی ایجاد قمر عالی کی تخلیق ہے۔مجھے فلمی صحافی ظفر اقبال نے فون پر بتایا کہ قمر عالی صاحب انتقال سے پہلے سنگیتا بیگم کے ٹی وی ڈرامے ” بلھے شاہ ” اور ” دو بوند پانی ” کر رہے تھے۔ جو آئے وہ جائے رہے نام اللہ کا…!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں