اقبال لطیف کا تجزیہ 31

۔۔۔ اس کے بعد؟

افغانستان میں امریکیوں کی بظاہر پسپائی ایک ایسے دور کی ابتداءہے جس سے عراق، لیبیا گزر چکے ہیں۔ اب تک گزر رہے ہیں۔ امریکہ کا مقصد حصول زمین نہیں ہے بلکہ ان علاقوں میں ایسے حالات پیدا کرنا ہے کہ یہاں کبھی امن قائم نہ ہو سکے۔ یہاں کے عوام کے درمیان فرقہ واریت، حصول اقتدار کے ساتھ اقتصادی بدحالی کا ایسا سلسلہ شروع ہو جائے جس میں الجھ کر وہ اپنی موت آپ مر جائیں اور امریکہ جیسے سامراجی قوتیں دور بیٹھ کر تماشا دیکھتی رہیں۔
افغانستان میں روسی مداخَت کے بعد امریکہ نے یہاں جہاد کے نام پر جن عناصر کو مجاہدین کا نام دیا تھا جس میں اسلامی ممالک کے وہ خوش فہم شامل تھے جو حصول جنت کے لئے کفار سے جہاد کررہے تھے، یہ مجاہدین جنہیں مذہبی عناصر نے امریکی مفادات کے حصول کی خاطر اس جنگ کا ایندھن بنایا تھا۔ نہ تو جنگ کا تجربہ رکھتے تھے اور نہ ہی مذہب کا ادراک بلکہ اندھا دھند اس موت کے کھیل کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ ان ”مجاہدین“ میں جہاں عرب ممالک اور وسطی ایشیائی ممالک کے افراد شامل تھے وہیں پاکستان سے بھی یہ ”خام مال“ بڑی تعداد میں مہیا کیا جارہا تھا جس کا منافع وہ نام نہاد اسلامی جماعتیں حاصل کررہی تھیں جن کے ادارے چندے اور خیرات پر چل رہے تھے انہیں جب امریکی ڈالروں کے انبار نظر آئے تو انہوں نے اس جنگ کو اسلام اور کفر کا معرکہ قرار دیا اور ہزاروں نوجوانوں کو خاک و خون میں نہلا دیا۔ یہ جماعتیں جنہوں نے سعودی عرب کی مدت سے پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 24 ہزار سے زائد مدرسے قائم کئے تھے اور سعودی ریالوں اور دیگر عرب حکومتوں کی زکوٰة، صدقات اور خیرات پر چل رہے تھے اور اب بھی چل رہے ہیں میں زیر تعلیم طلباءکو اس اسلام اور کفر کی جنگ میں جھونکنے کے لئے افغانستان بھیجنا شروع کردیا۔ اس ”کارخیز“ میں پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاءالحق کا سب سے بڑا کردار تھا جو خود کو پاکستان میں ایک اسلامی حکومت کا قیام اپنا فرض سمجھتے تھے اور خود کو امیر المومنین۔
ان دونوں عناصر کے تعاون کے ذریعے افغانستان کی جنگ میں پاکستان ایک فریق بن گیا اور امریکہ نے اس اسلامی انتہا پسندی کو اپنے حصول اقتدار کے لئے استعمال کیا۔ ابھی یہ جنگ جاری تھی اور اس کے فوائد افغانستان اور پاکستان کے وہ عناصر حاصل کررہے تھے جو امریکہ کے ڈالر حاصل کررہے تھے اور جنگ کے لئے آنے والے اسلحہ کی اسملنگ کرکے اربوں روپیہ کما رہے تھے ان کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کتنے لوگ اس بے مقصد جنگ کی آگ میں جل رہے ہیں۔ امریکی بن لادن جسے سی آئی اے کے عمال کے ذریعہ ”تورا بورا“ بنا رہا تھا جب کہ بے شمار پاکستانی بھی امریکیوں کے لئے کام کررہے تھے جن میں ایک امل کانسی بھی تھا جس کے باپ عبداللہ جان نے جو کوئٹہ کا ایک تاجر تھا امریکی اسلحہ کی اسملنگ سے لاتعداد دولت کمائی خود امل کانسی نے بھی اس میں خوب ہاتھ رنگے، بعد میں وہ سی آئی اے ہیڈ کواٹر بنگلے میں دو امریکیوں کو قتل کرکے پاکستان بھاگ آیا جہاں اسے ڈیرہ غازی خان کے ایک ہوٹل سے امریکی فوجیوں نے گرفتار کیا جس کی مخبری مبینہ طور پر ایک صدر کے بیٹے نے امریکیوں سے کرکے کروڑوں روپیہ لئے تھے۔ امل کانسی کو امریکہ لے جا کر سزائے موت دیدی گئی اور اس کی میت کو کوئٹہ لا کر دفن کیا گیا (راقم بھی اس کے جنازے میں بطور صحافی شریک تھا) بعد میں اسے بھی شہادت کے درجے پر فائز کردیا گیا۔
تو بات افغانستان اور مجاہدین کی ہو رہی تھی اب چونکہ ان کا رول ختم ہونے جا رہا تھا اور ایک نیا کردار اس فل میں شامل ہونے جا رہا تھا وہ تھے طالبان، امریکہ نے جن مجاہدین کو اس جہاد کا ایندھن بنایا تھا انہوں نے افغانستان میں جو کچھ کیا وہ اسلام کے نام پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔
ان کی بدکرداری ان افغانیوں سے پوچھی جائے جو ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ لوگوں کا مل اسباب لوٹنا ان پر غداری کے الزام لگا کر موت کے گھاٹ اتارنا، ذاتی دشمنیوں کا انتقام لینا اور اس سے بڑھ کر خواتین کو اغواءکرکے انہیں پاکستان میں فروخت کرنا۔ منشیات کی اسمگلنگ اور امریکی اسلحہ کو پاکستان اسمگل کرنا شامل ہیں ان کے آخری دور میں جب کہ ان کا رول ختم ہو چکا تھا اور یہ 90 کی دہائی کی بات ہے، راقم کو افغانستان جانے کا متعدد بار موقعہ ملا وہاں لوگوں نے اس ”جہاد“ کے دوران مجاہدین کے جو کارنامے سنائے وہ مسلمان تو کیا انسان ہونے کی حیثیت سے باعث شرم تھے۔ لوگ بتاتے ہیں سڑک پر سات سال تک کی لڑکی یا لڑکا اگر ان مجاہدین کو نظر آ جاتا تھا تو اٹھا کر لے جاتے تھے انہوں نے لوٹ مار اور جرائم کی انتہا کردی تھی اور اب پردہ سمیں پر نمودار ہورہے تھے ”طالبان“۔ امریکہ اب روسیوں کے چیپٹر کے بعد افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ چنانچہ وہی ادارے جو مجاہدین کی شکل میں خام مال فراہم کر چکے تھے اب اپنے مدرسوں سے طلباءکو خوشی خوشی افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے لئے استعمال کرنے والے تھے اب انہوں نے اپنے استادوں کے اشاروں پر اسلامی نظام متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ ادھر حصول اقتدار کی کشمکش شروع ہو چکی تھی بظاہر امیر المومنین ملا عمر کی قیادت میں حکومت کا قیام عمل میں آیا جہاں بیشتر افراد بلوچستان کے مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبان تھے اور ان کی بنیادی تعلیم ہی خود کے علاوہ سب کو کافر سمجھنے پر منحصرتھی۔ لہذا اب اپنے عقیدے سے تعلق نہ رکھنا والا واجب القتل تھا۔ یہ بات وہاں زبان زدعام تھی کہ ملا عمر نے مزار شریف کے ایک شیعہ عالم کو جو آیت اللہ تھے طیارے میں اپنے ہاتھ سے گولی ماری تھی جب کہ ان کے دونوں ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے۔ اب افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر پابندی، سخت پردہ اور نیکر پہن کر فٹ بال کھیلنے والوں کے سر مونڈھنے کی سزائیں متعارف کرائی گئیں اور ہر جمعہ کو میدانوں میں مجرموں کے سر قلم کرنے اور مجرموں کے ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے کا سلسلہ جاری عام ہو گیا جہاں عوام کے ٹیٹھ کے ٹیٹھ ان کا نظارہ کرتے اور ”لطف اندوز“ ہوتے۔ یہ مناظر ہی اب لوگوں کی ”تفریح“ کا ذریعہ رہ گئے تھے جب کہ افغانستان کے وسائل اب امریکہ کا مطمع نظر تھے جہاں سے امریکی فوج اب منشیات کی تجارت میں ماہر ہو گئی تھی لہذا ابھی 9/11 ہونا باقی تھا اس کے بعد سنیریو بدلنے والا تھا، اب طالبان زیر عتاب آنے والے تھے، یہ قضہ آگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں