امریکہ اور ایران کے مابین 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت سے متعلق اعلامیہ کے مطابق مذاکرات ایک مرتبہ پھر مثبت انداز میں جاری ہو چکے ہیں۔ ثالثوں کی جانب سے دونوں فریقوں سے ایک دوسرے کے لئے احترامانہ رویے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اجتناب کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ پھر اس عمل میں کسی تعطل کی گنجائش نہ نکل سکے۔ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے میں قطر اور پاکستان نے بھرپور سفارت کاری انجام دی۔ فنانشل ٹائمز اور دی اکنامسٹ کے مطابق قطری ماہرین نے اپنے سابقہ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہائی بردباری اور تحمل سے فریقین کی توجہ زیر بحث موضوعات پر نہ صرف مبذول رکھی بلکہ ساتھ ہی ٹیکنیکل ماہرین کو بھی حدود سے تجاوز نہ کرنے پر پابندی کا انعقاد کیا تاکہ یہ مذاکرات ان تمام نکات کا احاطہ کرتے ہوئے فریقین کو متفق ہونے کی آسانیاں فراہم کرسکیں۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے بھی ان کی تائید کی کہ آخری پندرہ گھنٹے قطریوں نے انتھک محنت کے ساتھ اس تمام مرحلے کی کامیابی میں صرف کئے۔
موجودہ صورت حال جس میں نہ صرف دونوں فریقین بلکہ عالمی طور پر جنگ کی طوالت نے معیشت کو ایک گمبھیر بحران میں مبتلا کیا ہے۔ یہ خبر حوصلہ افزا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر سنجیدگی سے عملدرآمد کی کوششیں جاری ہیں۔ تاکہ ساٹھ دنوں کی مدت میں ایک حتمی جنگ بندی کی مربوط قرارداد مرتب کی جا سکے۔ امریکی حکومت اس جنگ بندی کے لئے کوشاں نظر آتی ہے گو کہ اس یادداشت کے نکات سامنے آنے کے بعد امریکی صدر کو داخلی طور پر شدید دباﺅ کا سامنا ہے۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ نے ایران کو وہ سارے مطالبات جو انہوں نے طلب کئے تھے کے مطابق مراعات دینے میں اور شرائط قبول کرنے میں نرمی دکھائی ہے۔ ان نکات کے تحت آبنائے ہرمز کے قریب سے تمام امریکی ناکہ بندیوں کو اٹھا لیا جائے گا اور ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے گا تاکہ ان تمام ترسیلات کا سلسلہ جاری رہ سکے جو عالمی معیشت کو ہموار اور مضبوط رکھنے میں اہم حیثیت رکھتی ہیں اس کی روانی سے ایران کی بھی تیل اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ایران اس مد میں شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ اسے اس وقت ضرورت ہے مالی وسائل کی تاکہ اپنی تیل اور گیس کی صنعت کو فروغ دے سکے۔ جنگ نے ایران کی آبادیات کو بے طرح مسمار کیا ہے۔ اس کی تعمیر نو کے لئے 300 ارب ڈالر پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے مگر امریکی صدر نے یہ واضح کردیا ہے کہ یہ رقم امریکہ سے نہیں بلکہ خطہ میں موجود ریاستوں کی جانب سے ایران کو فراہم کی جائے گی۔ ایران کے وہ تمام اثاثے جو 1979ءمیں منجمد کردیئے گئے تھے جن کی مالتی 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرتی ہے کا کچھ حصہ ایران کی دسترس میں دیدیا جائے گا۔ ان نکات میں یہ بھی شامل ہے کہ حتمی جنگ بندی کی قرارداد آنے تک امریکہ ایران پر کسی بھی قسم کی نئی پابندی سے گریز کرے گا۔ ثالثوں کے مطابق ایران کو اس پر رضامند کرلیا گیا ہے کہ جوہری توانائی سے متعلق جو تفتیش کا عمل اوبامہ اکورڈ میں 2015 میں رکھا گیا تھا اسے دوبارہ فعال کردیا جائے گا اور ماہرین کو اس سے متعلق جانچ پڑتال کی فراہمی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ لبنان پر فوری جنگ بندی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ اس کے لئے ایک سیل Cell تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جو اس امر کو یقینی بنانے کا اختیار رکھے گا۔
ایران نے یقینی طور پر اس سارے مذاکراتی دورانیہ میں اپنا ایک مضبوط تشخص قائم کیا ہے اور اپنے اس دعویٰ پر قائم رہا کہ جوہری توانائی یا نیوکلیئر ری انچمنت سے مکمل دستبرداری اس کی ریاست کے لئے ممکن نہیں کیونکہ یہ توانائی محض ایک دفاعی عمل کا حصہ ہے جو کسی بھی ریاست کا بنیادی حق تعبیر کیا جاتا ہے۔ ایران نے اس کا بھی اعادہ کیا کہ وہ کسی طور اپنی ہمسایہ ریاستوں کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ پیدا کر سکتا ہے تا آنکہ کی طرف سے اس کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی عمل میں آئے اس کے باوجود بھی وہ جوابی کارروائی میں احتیاط برتے گا تاکہ امن عامہ میں خلل نہ پڑے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران پر سے تمام پابندیاں اس وقت اٹھالی جائیں گی جب ایران ان تمام تجاویز سے اتفاق کرے گا جو امریکہ کی جانب سے پیش کی جائیں گی جس میں حزب اللہ، حماس اور دیگر کئی تنظیموں کی معاونت بھی شامل ہے۔ ایران ابتداءہی سے اس کا اظہار کرتا رہا ہے کہ اسرائیل ایک غیر حقیقی ریاست ہے جس نے فلسطین پر اپنا غاصبانہ تسلط قائم کر رکھا ہے۔ اسرائیل کی پچھلی تین سالہ فلسطین پر جارحانہ کارروائیوں کے دوران ایران نے فلسطین کی امداد میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اسرائیل کسی بھی طور پر ایران کو مستحکم حالت میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ امریکہ اور اسرائیل ہمیشہ سے ایک دوسرے کے نزدیکی حلیف رہے ہیں گو کہ فی الوقت امریکہ کی طرف اسرائیل کے متعلق کچھ منفی بیانات کا سلسلہ منظرعام پر آرہا ہے۔ اسرائیل اس مفاہمتی یادداشت کی حمایت سے گریزاں نظر آتا ہے۔ عین اس وقت جب ایران اور امریکہ اس یادداشت پر رضامندی کی مہر ثبت کرنے والے تھے اس نے ایک دفعہ پر تمام مفاہمتی نکات کو نظر انداز کرتے ہوئے لبنان کے جنوبی حصہ پر حملہ کردیا جس نے ایک دھند تمام ثالثوں کو اس اندیشہ میں مبتلا کیا کہ کیا واقعی امریکہ سنجیدگی سے عالمی من اور معیشت کی زبوں حالی کا جائزہ لے رہا ہے اور کیا مکمل جنگ بندی کی طرف مائل ہے۔ اسرائیل کے حکومتی حلقے وضاحت اس کی تائید کرتے نظر آرہے ہیں کہ اسرائیل کسی طور بھی ایران سے مفاہمت میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
اس جنگ نے دنیا میں جس طرح ایک معاشی اور دفاعی طلاطم پیدا کیا ہے اس نے نہ صرف خلیج بلکہ عالمی سطح پر فکر کے کئی نئے دروازے وا کئے ہیں جس میں طاقت کا توازن ڈگمگاتا نظر آرہا ہے۔ ریاستیں اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی کے روابط کا تجزیہ کرنے کی طرف مائل ہونے کے اشارے دے رہی ہیں۔ امریکی حکومت اس منظرنامے سے تذبذب کا شکار نظر آرہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فی الوقت اس کی تمام توجہ اس تمام قضیے کو لپیٹ دینے پر ہے تاکہ داخلی اور بیرونی صورت حال کو سلجھایا جا سکے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کئی موضوعات اور نکات ہیں جن پر تفصیلی بحث لازمی ہے اور درجہ بدرجہ زیر بحث لانے پر آمادگی دونوں فریقین کی جانب سے دکھائی گئی ہے۔ ساٹھ یوم کے بعد منظور ہونے والی حتمی قرارداد کتنی مربوط اور مکمل ہو گی اس کا انحصار امریکہ اور ایران کے اس رویہ پر ہو گا کہ دونوں فریقین زمینی حقائق کو کس درجہ اہمیت دیتے ہیں۔ دونوں ممالک ہی اس وقت امن کے لئے خیرخواہ ہیں جس کا راستہ سنجیدگی سے تلاش کرنا ہو گا وگرنہ بداعتمادی کی فضا میں اضافہ ہو گا اور اس کا خمیازہ پھر عالمی طور پر ہر ایک کے حصہ میں آئے گا۔
11













