ایک ملک ہوتا تھا جہاں کی ثقافت، تہذیب، معاشرت، رسم و رواج اور رہن سہن ہزاروں سال سے تسلسل کے ساتھ چلے آرہے تھے۔ ان کا مذہب بھی اتنا ہی قدیم تھا جس میں دیوی دیوتیوں کی پرستش کی جاتی تھی ان کی الہامی کتب میں عقل و دانش کی باتیں درج تھیں اور ان کی روایات مخیر العقول تھیں جن کو آج کا ذہن قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا مگر ان کے ماننے والے ان پر غیر متذلل اعتقاد اور یامن رکھتے تھے اور اب ان کے دیوتا ہاتھی، بندر، چوہے، بلی، گائے، شیر اور سانپ وغیرہ کی صورتوں میں ہیں۔ وہ آگ کی پرستش کرتے تھے، عبادت گاہوں میں گھنٹیاں بجاتے اور اپنی زبانوں میں اشلوک پڑھتے، وہ برہنہ پجاریوں سے عبادت سیکھتے بلکہ ان کا ایک دیوتا بھی جسے تخلیق کا دیوتا ”شیو“ کے نام سے پکارتے ہیں مرد کے عضو کی عکاسی کرتا ہے جس کی وہ دودھ سے نہلا کر پوجا کرتے ہیں۔ یہ بظاہر قدرت، چاند اور سورج کی پوجا کرکے اس سے اپنی مرادیں طلب کرتے ہیں اور پابھی لیتے ہیں، کہتے ہیں کہ عبادت کے لئے اعتقاد سب سے پہلی شرط ہے، سو وہ پتھر سے بھی اپنا دامن مراد بھر لیتے ہیں۔ یہ افراد یہ قوم ذاتوں میں بٹے ہوئے کئی ارب افراد جو کہ سماجی مساوات پر عمل نہیں کرتے جن کے یہاں برہمن، کشتری، کانتھ اور شودر کی تفریق ہے، برہمن اعلیٰ ترین ذات مذہب کی باگ ڈور جن کے ہاتھ میں ہے اور یہی انہیں بھگوان اور دیوتاﺅں سے جوڑتے ہیں ان کی دنیاوی ضروریات کو دیوتاﺅں کے توسط سے پور اکرتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی ان کی ”مکتی“ (نجات) کے ذمہ دار ہیں یہ انہیں بتاتے ہیں کہ انسان مرنے کے بعد سات جنم تک مختلف صورتوں میں دنیا میں آتا رہے گا اور ”اچھے کرم“ (اعمال) کرے گا تو اچھی ”جون“ (شکل) میں پیدا ہو گا اور برے کام کر گا تو جانور کی شکل میں آئے گا گویا برہمن اعلیٰ ترین ذات اور دیوی دیوتاﺅں کا دنیا میں ایجنٹ ہے اس کے بعد کشتری ہے، یہ مارشل لیس ہے اس کا کام ملکوں کی حفاظت کرنا اور دشمنوں سے مقابلہ کرنا ہے اسے ریاست کی بقاءکا سب سے اہم رکن سمجھا جاتا ہے۔ برہمن کے بعد یہ سب سے اعلیٰ نسل ہے اور حکمرانی کے لئے اس کی طاقت اور سوجھ بوجھ کو دیوتاﺅں کا تحفہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسے درپردہ برہمن کی حمایت بھی حاصل ہے، اس کے بعد کانتھ کا درجہ ہے جو تجارت اور مالی معاملات میں ریاست کا اہم جز ہے اس کو نظام سلطنت کے لئے سرمایہ فراہم کرنے کا کام تفویض کیا ہے جو تجارت کے ذریعہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان ایک مضبوط کڑی ہے۔ آخر میں اس نظام کا پست ترین طبقہ آتا ہے جسے شودر کہا جاتا ہے اسے تینوں طبقوں کی خدمت کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس کی حیثیت ایک ایسے غلام کی ہے جسے پیدا ہی دوسروں کی غلامی کے لئے کیا گیا ہے۔ اس طبقے کو ارزاں ترین امور انجام دینے کے لئے دنیا میں لایا گیا ہے۔ یہ تینوں طبقوں کے افراد کے ساتھ بیٹھ نہیں سکتا۔ یہ ان کے گھروں میں داخل نہیں ہو سکتا ہے اور یہ اچھوت کہلانے والا طبقہ اگر اپنے سے افضل طبقے والوں سے چھو بھی جائے تو وہ ”بھرشٹ“ (ناپاک) ہو جاتے ہیں ان کے ہاتھ کا کھانا وغیرہ میں داخل نہیں ہوسکتے، ان کے کنوں سے پانی نہیں پی سکتے گویا کہ اعلیٰ طبقوں کی گندگیوں کو صاف کرنا ہی اس طبقے کا فرض ہے۔ اس طرح ہزاروں سال سے اس مذہبی تفریق کی جھلک آج کے ترقی یافتہ دور میں موجودہ دور کے ترقی یافتہ ملک ہندوستان میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں اعلیٰ طبقات اپنی ہزاروں سال پرانی روایات کو اس تہذیب اور ترقی کے دور میں بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔
آج بھی تینوں اعلیٰ طبقے اپنی من مانیاں کررہے ہیں اور اچھوت یا دلتوں کو اب بھی اپنا غلام تصور کرتے ہیں، جہاں ساری دنیا میں آج مساوات اور انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے وہاں ہندوستان جیسے ساری دنیا جمہوریت اور ترقی کا مثالی ملک سمجھتا ہے وہاں انسانی حقوق کی پامالی پر کوئی نظر نہیں کرتا اور اب اسی انسانی اقدار کا نام نہاد دعویدار ملک میں اب ایک پانچویں ذات بھی معرض الوجود میں آچکی ہے جس پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے، سرکاری اور عوامی سطح پر اس کے مذہب، روایات، اقدار، رہن سہن اور لباس تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 30 کروڑ سے زائد مسلمانوں کو اس ملک میں اب سر چھپانے کے لئے جگہ نہیں مل رہی۔ جس پر انہوں نے سینکڑوں سال حکمرانی کی ہے۔ آج مسلمان ہونا وہاں جرم بن چکا ہے، ان کے اوپر روزگار، عبادت اور تعلیم کے دروازے بن ہو چکے ہیں، خواتین حجاب نہیں کر سکتی ہیں، مردوں کو داڑھی رکھنے اور ٹوپی پہننے پر زدوکوب کیا جاتا ہے، اب ان کو نماز ادا کرنے کے لئے اجازت لینی پڑتی ہے اور اجازت کے بعد بھی ہندو غنڈے انہیں اس سے روک دیتے ہیں اور یہ سب کچھ سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کے حکمران کررہے ہیں۔ مسلمانوں کو منظم طور پر دہشت گرد، جرائم پیشہ اور بدنام کام کرنے والے ظاہر کیا جارہا ہے۔ فلموں میں مسلمان کرداروں کو انہیں کاموں میں ملوث قرار دیا جاتا ہے اور یہ کام سرکاری سطح پر کہنے پر کیا جارہا ہے۔ ہندوستانی فلم سازوں کو اسرائیل اور مسلمان دشمن اداروں کی طرف سے زبردست مالی امداد دے کر مسلمانوں کی کردار کشی کرنے والی فلمیں بنوائی جاتی ہیں جن کی نمائش ساری دنیا میں ہوتی ہے اور مسلمانوں کو قابل ملامت قرار دیا جاتا ہے۔
ابھی حال ہی میں کشمیری پنڈتوں کے نام قتل کی ایک فلم نمائش کے لئے پیش کی گئی ہے جسے بی جے پی حکومت کی امداد حاصل ہے اور جس میں مسلمانوں کو قاتل قرار دیا گیا ہے جس سے ہندوستان میں مسلمان کشی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے، ستم بالائے ستم یہ کہ پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت ساری مسلم ممالک نے اس طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں جب کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مقبوضہ (پاکستان کی نام نہاد نہاد اصطلاح) کشمیر میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جارہے ہیں اور جب کہ پاکستان میں مسلم ممالک کہلائے جانے والے سینکڑوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس ہو رہی تھی اسی دن سعودی عرب اور یو اے ای ممالک کے سرمایہ کار ہندوستانی کشمیر میں کھربوں ڈالر کی سرمیہ کاری کا اعلان کررہے تھے اور اب رہ گیا مسلمانوں کے لئے بنایا جانے والا ملک پاکستان اس کے سیاستدان کافروں کے ملک ہندوستان کا سرمایہ لے کر عمران خان کی حکومت کو گرانے کی مکروہ سیاست میں مصروف ہیں جہاں کا مذہبی راہنما راشٹریہ سیوک سنگھ جیسی وردی والوں مسلح گروہ کو لے کر اسلام آباد میں خون کی ہولی کھیلنے کے لئے جمع ہیں اور خاکم بدہن یہ عناصر ہمارے فوج کے خلاف غیر ملکی آقاﺅں کے اشاروں اور اربوں ڈالر لے کر پاکستان کے جوہری اثاثوں کو رول بیک کرکے ہندوستان کے زیر نگیں کرنے کی سازش میں مصروف ہیں اور اس خطے کے اربوں مسلمانوں کو ہندوﺅں کا غلام بنانا چاہتے ہیں (پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی تعداد کو جمع کرلیں) جو انہیں شودروں سے زیادہ درجہ نہیں دیتے۔
اللہ پاکستان کو سلامت رکھے مگر اللہ بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں جب کہ ہم تو اب اغیار کی کٹھ پتلیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے اور ان کی ڈگڈگی پر ناچتے شریفوں اور زرداریوں کے ساتھ داڑھی والی پتیلی سب کے سامنے ہے۔ ساری قوم بھی اس دھن پر ٹھمکے لگا رہی ہے جو بریانی کی ایک پلیٹ کی مار ہے کہ ”بابریاعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“
231











