اسلام آباد کی آل پارٹیز کانفرنس کا احوال! 64

آئندہ کئی سال تک ہمیں کرونا کے ساتھ جینا ہوگا؟

دنیا کے نامور سائنسی ماہرین اور وبائی امراض کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آئندہ آنے والے چند ہفتوں میں کرونا کے اثرات کم ہونا شروع ہو جائیں گے مگر اس وبا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے کئی سال درکار ہوں گے، کئی ممالک کے سائنسدان کرونا کی ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں اور ہر کوئی اس تگ و دو میں ہے کہ سب سے پہلے اہم ویکسین تیار کرکے مارکیٹ کرسکیں۔کیونکہ یہ ویکسین دنیا میں بسنے والے پونے آٹھ ارب انسانوں کی اشد ضرورت ہے جو ملک یا دوساز کمپنی اس کو پہلے تیار کر لے گی وہ کھربوں ڈالر کا بزنس کرے گی اور ہر کسی کی کوشش ہو گی کہ کسی بھی قیمت پر وہ سب سے پہلے ویکسین خریدیں لیکن ویکسین کی تیاری میں ماہرین کے مطابق کئی مہنے لگ کستے ہیں۔ اس وقت تک ہمیں بتائی گئی حفاظتی تدابیر لینا ہوں گی۔ کیونکہ اس کے علاوہ فی الحال اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔
کرونا کے باعث پچھلے چار ماہ میں پوری انسانیت کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے ہر شعبہ زندگی بہت بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی تازہ ترین رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دنیا کو شاید قحط سالی کا سامنا کرنا پڑے۔ اس لئے انہوں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ کوشش کریں مناسب خوراک خریدیں اور مناسب ہی کھائیں اور ضائع بالکل نہ کریں اور اگر لاک ڈاﺅن میں زیاں بھی ہو جاتی ہیں پھر بھی حفاظتی تدابیر کو جاری رکھیں۔ حفاظتی تدابیر کے نتیجہ میں ہر شخص ایک دوسرے سے خوف زدہ ہے۔ خاندان، دوست احباب، ہمسائے اور ہر شخص ایک دوسرے سے دور ہو گیا ہے، کئی کئی ہفتوں مہینوں سے لوگ دفتروں میں نہیں گئے، بہن، بھائی ایک دوسرے کو نہیں ملے، سڑکوں پر ویرانی ناچ رہی ہے، ریسٹورنٹس سے کوئی چیز بھی خرید کر کھانے کو من نہیں مانتا، سیلون بند ہونے سے لوگوں کے بال بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر خواتین پارلرز کو بڑا مس کررہی ہیں۔ اور ان کا حقیقی چہرہ شوہروں کے سامنے آرہا ہے۔ جس سے بہت ساری بدگمانیاں پیدا ہو رہیں اور معاشرے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان میں لاک ڈاﺅن بہت حد تک کھل چکا ہے کیونکہ اس کو لامحدود مدت تک نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا ملک ایک غریب ملک ہے جہاں لوگوں کی کثیر تعداد دیہاڑی دار مزدور ہیں۔ ریڑھی بان، کریانہ اسٹور، حجام، دری، سبزی فروش، گوشت اور دودھ دہی کی دکانیں چلانے والے لوگ ہیں، وہ لاک ڈاﺅن کو لامحدود مدت تک قبول نہیں کر سکتے۔ انہیں مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے شروع سے ہی یےہ موقف اپنایا ہوا ہے کہ ہم کرونا سے تو شاید بچ جائیں اور اگر سخت لاک ڈاﺅن نافذ کریں گے تو بھوک سے لوگ مر جائیں گے۔ وزیر اعظم کا یہ نقطہ بڑا اہم تھا اور ہے، کسی بھی سربراہ مملک کے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل کام ہو تا ہے، کیونکہ آپ کی مخالفت ہر طرف سے ہو رہی ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں کی وائرس زدہ اپوزیشن کے انداز اور بیان نرالے ہیں۔ ابھی دو دن پہلے ن لیگ کے ارسطو وسیم بادامی کے ساتھ انٹرویو میں فرما رہے تھے کہ حکومت نے ابھی تک کچھ نہیں کیا اور ن لیگ نے شہباز شریف کی ہدایت اور قیات میں پورے ملک میں پروٹیکٹو کٹس، ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو تقسیم کی ہیں۔ میں ششدر ہوں کہ ایک باریش، پڑھا لکھا، سابق وزیر داخلہ اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان کیسے دے سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ارسطو نے نئی نئی آنکھیں بنوائی ہیں۔ غضب خدا کا ن لیگ اور سندھ حکومت کو سوائے بے پر کی اڑانے کے کوئی کام نہیں ہے۔ اتنا جھوٹ خدا کی پناہ۔ شریف فیملی اور زرداری فیملے سے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اپنی بے پناہ لوٹی ہوئی دولت میں سے غرباءمیں کیا تقسیم کیا ہے؟ ابھی وقت ہے کہ قومی لوٹی ہوئی دلوت میں سے کچھ نہ کچھ تو کرونا کے لئے وزیر اعظم فنڈ میں رقم جمع کروا کے لوگوں اور خدا کے سامنے سرخرو ہو جائیں۔ ضمیر تو آپ لوگوں کا بحرالکاہل میں غرق ہو چکا ہے۔ شہباز شریف، زرداری اور بلاول نے کتنے قرنطینہ سینٹروں کا دورہ کیا؟
چھوڑئیے ان بے کار لوگوں کی باتیں، وقت آگیا ہے کہ اب پاکستان اپنے انجینئرز اور سائنسدانوں کو متحرک کرے اور میڈیکل آلات جو امپورٹ کئے جارہے ہیں وہ مقامی سطح پر تیار کریں۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بیان دیا ہے کہ سوائے وینٹی لیٹر کے تمام اشیا جو کرونا وائرس میں استعمال ہو رہی ہیں وہ پاکستان میں وافر مقدر میں تیار ہو رہی ہیں۔ بلکہ ہماری کچھ کمپنیوں کو فرانس سے بڑی مقدار میں سپلائی کے آرڈرز بھی مل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وینٹی لیٹر آخری مراحل میں ہے۔ ان شاءاللہ چند ہی دنوں میں ہم اس کا بھی ٹیسٹ کرلیں گے۔ اور یہ تمام اشیاءمقامی طور پر بہت سستی دستیاب ہوں گی۔
بدلتی ہوئی دنیا میں ہمیں میڈیکل ایکوپمنٹ میں خودکفیل ہونا ہو گا ہمارے انجینئرز اور سائنسدان کسی سے کم نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان کی سرپرستی کرے اور زیادہ سے زیادہ بجٹ تعلیم و تحقیق کے لئے مختص کرے۔
ذرہ نم ہو تو بڑی زرخیز ہے یہ مٹی
ہمارے ایک دیرینہ دوست اور ”دی گولڈن پاکستان انٹرنیشنل“ کے فعال رکن جناب رانا اکبر نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں کوئی سائنسدان اگر کرونا وائرس کی ویکسین تیار کرتا ہے تو وہ اسے پچاس ہزار امریکی ڈالر بطور انعام پیش کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہی بنیادوں پر ہماری حکومت بھی ماہرین کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کرے تو وہ دن دور نہیں جب ہم بھی ستاروں پر کمنڈ ڈالنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ان شاءاللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں