حامد میر کا ایک مرتبہ پھر فوج پر حملہ! 33

حکومت کا انتخابی اصلاحات کا اعلان

عمران خان حکومت نے بوسیدہ انتخابی نظام کو بدلنے کے لئے نیا انتخابی اصلاحات کا پروگرام پیش کیا ہے۔ فواد چوہدری اور بابر اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے نئے انتخابی اصلاحات پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ جس میں جدید تقاصوں کے مطابق ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لئے آئینی ترمیم لانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ 1970ءمیں ہونے والے انتخابات کے بعد آج تک کوئی ایسا لیکشن نہیں جس پر ہارنے والی جماعت یا امیدوار نے دھاندلی کا الزام نہ لگایا ہو اور ایک دوسرے کے دست و گریبان نہ ہوں۔ پچھلے ادوار میں دونوں پرانی اور بڑی پارٹیاں یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اس کا مطالبہ کرتی ہیں اور متفق رہی ہیں کہ انتخابی اصلاحات لائی جائیں تاکہ دھانلی کا راستہ روکا جا سکے لیکن ان جماعتوں نے نہ صرف کوئی پیش رفت نہیں کی بلکہ اگر ایسا کرنے کا سوچا بھی تو اس میں بھی ایسے خلاءچھوڑنے کا ارادہ رکھتے تھے کہ جس سے بوقت ضرورت فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ان کی نیت میں ہمیشہ سے کھوٹ رہا ہے۔ ان مذکورہ جماعتوں نے ملک کو صاف شفاف نظام دینے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی۔
حالیہ دنوں میں ہونے والے سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں جس قدر بے ضابطگیاں دیکھنے کو ملیں اور جس قدر میڈیا میں اس پر تنقید ہوئی وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ عمران خان کا شروع سے ہی یہ مطالبہ رہا ہے کہ انتخابات ایسے صاف اور شفاف طریقے سے ہونے چاہئیں کہ کوئی جیتنے والے پر دھاندلی کا الزام نہ لگائے اور جو پارٹی الیکشن جیت جائے وہ اپنا عرصہ پورا کرے لیکن جب ان اصلاحات کو عملی شکل دے دی گئی ہے تو اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مخالفت شروع کردی ہے کیوں کہ انہیں ریاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ صرف ذاتی مفادات کو دیکھتے ہیں کہ قانون سازی کے ذریعے وہ اپنے آپ کو کتنا محفوظ بنا سکتے ہیں۔
یہاں کچھ خاندانوں کی اجارہ داری ہے اور وہ آئین، قانون کو گھر کی باندی سمجھتے ہیں جب چاہا اور جیسا چاہا آئین کو موڑ لیا اور اپنی من پسند ترمیم کرلی لیکن اب موجودہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ترامیم کو نہ صرف پارلیمان میں پیش کریں گے بلکہ میڈیا کے ذریعے عوام الناس کو بھی اس سے آگاہ کریں گے اور ان کی آراءکو بھی شامل کیا جائے گا۔
اپوزیشن بغضِ عمران میں کھل کر سامنے آچکی ہے اسے صرف اور صرف عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانا ہے، ملک و ملت کے مفادات سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید عالمی تقاضوں اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ہمیں گلے سڑے نظام سے پیچھا چھڑا لینا چاہئے۔ اور پاکستان کو بے وقوف بنانے کا عمل اب رک جانا چاہئے۔ جہاں ووٹ کو عزت کی بات کی جاتی ہے وہاں اس سے بھی ضروری ہے کہ ووٹر کو عزت دی جائے۔ جن کی بدولت یہ لوگ مسند اقتدار پر بیٹھتے ہیں اور پھر انہی لوگوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
یہ لوگ عیاشیوں میں پڑ جاتے ہیں اور اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل سے یکسر لاتعلق ہو جاتے ہیں اس کی مثال حالیہ دنوں میں ہونے والا 249 کراچی کا ضمنی انتخاب ہے جس میں پی ٹی آئی کو سخت شکست ہوئی ہے کیونکہ وہاں سے منتخب ہونے والے ایم این اے فیصل واوڈا نے اس حلقے کے بنیادی مسئلے یعنی آب رسانی کے لئے کچھ نہیں کیا حالانکہ موصوف آبی وسائل کے وفاقی وزیر تھے۔ حلقے کے لوگوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ووٹ ڈالنے کی زحمت نہیں کی اور ٹرن آﺅٹ تقریباً 20 فیصد رہا جو کہ بہت کم ہے۔ عوام کو بھول جانے والے نمائندوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے۔
اپوزیشن کو مشورہ ہے کہ انتخابی اصلاحاتی بل کا حصہ بنیں اور ملک و قوم کو دھاندلی کے اس عذاب سے نجات دلائیں۔ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر سوچیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں