ملٹن (رپورٹ: پاکستان ٹائمز) گزشتہ ہفتے اسلامک سپریم کونسل کینیڈا اور سیدہ فاطمہؓ اسلامک سینٹر ملٹن کے زیر اہتمام ایک بین المذاہب افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف مذاہب کے درمیان محبت، امن، ہم آہنگی اور بھائی ارے جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ پروگرام کا انعقاد ملٹن کے بائبل چرچ میں کیا گیا تھا۔ پروگرام میں مختلف مذاہب کی ممتاز شخصیات اور علماءاکرام نے شرکت کی، اس کے علاوہ پروگرام میں نہ صرف ملٹن بلکہ آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور کامیاب پروگرام ثابت ہوا۔

نماز عصر کے بعد پروگرام کا آغاز رب العالمین کے بابرکت کلام سے ہوا اور بارگاہ رسالت میں ہدیہءنعت پیش کیا گیا۔ سینٹر کے صدر سعید ظفر صاحب نے ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہماری طرف سے یہ پہلی کوشش ہے جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ پروگرام میں جن لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں ملٹن کے میئر گورڈن کرانٹز، ممبر پارلیمنٹ ایڈم وین، کونسلر سیما علی، سیمی اعجاز، عادل خالقی، اسلامک اسکالر شیخ علی السعید اور شیخ عبداللہ راجہ شامل تھے۔ تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت اس قسم کے بین المذاہب پروگراموں کی بہت زیادہ ضرورت ہے جو لوگوں کے درمیان محبت، امن، بھائی چارہ اور ہم آہنگی پیدا کرسکیں اور رمضان کا مبارک مہینہ اس بات پر خصوصی زور دیتا ہے۔
میئر گورڈن نے پروگرام کے انعقاد کو سراہا اور منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور اس سلسلے میں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
شیخ علی السید نے کہا کہ جس طرح ہم اللہ سے اپنا مضبوط رشتہ بنانے کے لئے اپنے اوپر خاص نظم و ضبط کا اطلاق کرتے ہیں اسی طرح ضروری ہے کہ ہم دوسرے مذاہب اور عقائد کے درمیان بھی ایک ہم آہنگی پیدا کریں۔
شیخ عبداللہ راجہ نے پروگرام کی اہمیت پر زور دیا اور اس میں نوجوان کی شمولیت کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہم اپنی برادری کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد بسنے والے مختلف مذاہب کے لوگوں سے بھی تعلقات کو مضبوط اور بہتر بنائیں۔
کونسل کے سینئر رکن سید رضی احمد رضوی نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ بین المذاہب گفتگو کا معاملہ نیا نہیں ہے اس کا آغاز 1893ءمیں شکاگو میں ہوا جب ورلڈ پارلیمنٹ آف ریلیجن نے مشرق اور مغرب میں مقیم مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان بات چیت کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب بین المذاہب گفتگو کی بنیاد اخلاص اور ایمانداری پر ہے۔ ایک دوسرے کی عزت اور برداشت بھی بہت ضروری ہے۔
پروگرام کے آخر میں سینٹر کے صدر سعید ظفر نے تمام معزز مہمانوں، اپنے کارکنوں اور والنٹیئرز کا شکریہ ادا کیا جس کے تعاون سے ایک خوبصورت اور بامقصد پروگرام کا انعقاد ممکن ہو سکا۔ اذان مغرب کے ساتھ روزہ افطار ہوا جس میں مسلمانوں کے ساتھ دوسرے مذاہب کے مہمان بھی شریک ہوئے۔ نماز مغرب کے بعد تمام مہمانوں کے لئے پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔
207












