Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
ابراہام اکورڈ 3

ابراہام اکورڈ

ایران اور امریکہ میں مذاکرات جاری ہیں اور عین اس وقت جب دونوں فریقوں، سہولت کاروں اور ثالثوں کا یہ اعلان سامنے آیا کہ مثبت پیش قدمی کے قریب ہونے کے قوی امکان ہیں۔ جنگ کا مکمل خاتمہ نہ سہی مگر کچھ نہ کچھ، کسی نہ کسی قسم کی مصالحت کے دروازے ضرور کھلنے والے ہیں جس کے نتیجے میں ابتدائی مراحل طے کر لئے جائیں گے۔ امید کے دیے روشن ہوئے ہی تھے کہ امریکی صدر کا یہ بیان منظر عام پر آگیا کہ مسلم ممالک بشمول ایران اور پاکستان کو ابراہام اکورڈ پر دستخط کرنے ہوں گے ورنہ حالات کچھ اچھے نہیں رہیں گے۔ 1990ءکی دہائی سے لے کر فی الوقت 2026 تک امریکہ اسلامی ممالک پر زور دیتا رہا ہے کہ اسرائیل کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرکے دیگر شعبہ جات میں حکمت عملی میں تعاون قائم کیا جائے تاکہ خطے میں ترقی اور خوشحالی کے بہتر راستے متعین کئے جا سکیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے قریبی تعلقات کسی طور بھی پوشیدہ نہیں۔ امریکی حکومت کی پالیسیوں میں ہمیشہ اسرائیلی اثر و رسوخ کے اندازے سامنے آتے رہے ہیں۔ امریکہ کی ایک بڑی آبادی ایسے یہودیوں پر مشتمل ہے جن کے تمام مفاد اسرائیل سے وابستہ ہیں۔ امریکی کانگریس اور حکومت میں اسرائیل نواز ارکان کی ایک بڑی تعداد شامل ہونے کے علاوہ امریکی ابلاغ عامہ پر بھی ایسے اسرائیل پسند اور یہودیوں کی خاص گرفت موجود ہے۔ امریکہ اسرائیل کی حمایت کے طور پر فلسطینیوں پر گزرنے والی تمام جارحانہ اسرائیلی کارروائیوں پر چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا استعمال کرتا رہا ہے اور مکمل طور پر اسرائیل کے تمام جواز کی حمایت کرتا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب حالات بہتری کی طرف گامزن ہونے کے امکان ہیں میں امریکی صدر کا یہ بیان خود ہی ہر سوال کا جواب دیتا نظر آتا ہے جس میں نہ صرف اسرائیل کے ہر عمل کی حمایت بلکہ اس کی بقاءکے سے متعلق تمام انتظامات کرتا نظر آتا ہے۔ اسرائیل کلی طور پر اپنے کو عالمی طور پر اپنے کو ایک مستحکم ریاست دیکھنے کا خواہشمند ہے۔
امریکی ایجنڈے کے مطابق ابراہام اکورڈ کا بنیادی مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنا اور تجارتی اور ثقافتی تعلقات قائم کرنا ہے اس کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر اسی لئے رکھا گیا ہے کہ اسلام، عیسائیت اور یہودیت تینوں مذاہب سے منسلک اس کا احترام کرنے اور اسے قبول کرنے کے پابند رہیں اور یہ خیال نہ آسکے کہ اس کا محور صرف ایک مذہب کو بنایا گیا ہے۔ اسے مذاہب کے درمیان امن کا بیانیہ بنا کر پیش کیا گیا اور مشرق وسطیٰ کی نہ صرف سلامتی بلکہ معاشی تعاون کی طرف پیش رفت سے مسموم کیا گیا۔ لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو درحقیقت یہ ایک طرح سے عرب ممالک کے درمیان اختلافات کی بنیاد اور فلسطین کے لئے ایک انتہائی مایوسی کن صورتحال اور لائحہ عمل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرنے کے معنی فلسطین کے حقوق کی روگردانی پر آمادہ ہونا ہے۔ اس اکورڈ کا باقاعدہ آغاز 2020 میں ستمبر کے ماہ میں واشنگٹن میں ہوا جہاں متحدہ امارات، اسرائیل اور بحرین نے صدر ٹرمپ کی ثالثی میں معاہدے پر دستخط کئے اور اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کی ابتداءکی پھر مراکش اور سوڈان بھی اس میں شامل ہوئے اس سے قبل ترکی اور اسرائیل میں تعلقات کی ابتداء1949ءمیں ہوئی مگر تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاﺅ کی کیفیت کے سبب دوبارہ اگست 2022 میں ان تعلقات کو مستحکم کیا گیا۔ اردن 1994 میں اسرائیل کا اتحادی بنا۔
امریکہ ایک لمبے عرصہ سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کا قریبی اتحادی رہا ہے۔ عرب ممالک تجاریت اور دفاعی معاملات سے متعلق اس پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ عرب ممالک کے مابین اختلافات نے بھی امریکہ کو اس خطے میں اپنے قدم جمانے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ عراق، شام اور کئی ممالک فہرست میں شامل ہیں۔ جہاں امریکہ نے فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے فلسطین پر 2023 کی جارحانہ کارروائیاں جس کے سبب نہ صرف فلسطین کھنڈر میں تبدیل ہوا کے علاوہ جس طرح سے نسل کشی انجام پائی تقریباً تین سال جاری رہنے والی اس ہولناک جنگ سے متعلق عرب ممالک کی طرف سے جس سردمہری کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف اقوام عالم کے درمیان جہاں مسلم اتحاد کی دھجیاں اڑائیں بلکہ ان تمام ممالک کی حیثیت کو انتہائی نچلے درجے پر پہنچا دیا وہیں اس طرز عمل نے یقینی طور پر اسرائیل اور امریکہ کے حوصلے بلند کئے۔ حالیہ امریکی اسرائیلی حملہ ایران اور لبنان پر اس سرد مہر طرز عمل کا شاخسانہ ہے۔ اگر امریکہ کے حملے کے جواب میں ایران مضبوط کارروائی کرتے ہوئے عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ نہ بناتا اور آبنائے ہرمز پر قبضہ حاصل نہ کر لیتا جس سے نہ صرف تیل اور گیس کی برآمدات میں دشواریاں پیدا ہوئیں اور دیگر معاشی مشکلات بھی پیدا ہوئی تو ممکن تھا کہ ایک دفعہ پھر مسلم ممالک سردمہری کا شکار ہوتے ہوئے اسی طرز عمل کو اپناتے ہوئے امریکہ ایران کے مابین جنگ بندی کے حق میں آواز نہ اٹھاتے۔ جنگ بندی کے باوجود ابھی تک اسرائیل فلسطین اور لبنان پر حملے کرنے میں مصروف ہے۔ عرب ممالک کے اس طرز عمل کے باعث امریکہ ابراہام اکورڈ میں شمولیت کا مطالبہ کررہا ہے۔
کیا اس اکورڈ میں تمام مسلم ممالک کی شمولیت ممکن ہو سکے گی؟ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری فراہم کررہا ہے۔ کیا صدر ٹرمپ کا مطالبہ قابل قبول ہو گا۔ پاکستان کے وجود میں آتے وقت ہی یہ طے کرلیا گیا تھا کہ پاکستان فلسطین کی آزاد ریاست کی حمایت کرے گا اور تاحال اس فیصلے پر قائم ہے۔ کوئی بھی حکومت اس فیصلے کے خلاف قدم نہیں اٹھا سکی۔ پاکستان اور امریکی تعلقات ہمیشہ سردوگرم کا شکار رہے۔ فی الحال پاکستان امریکہ کی گڈبک میں ہے مگر کیا اس کا خمیازہ ریاست پاکستان کو ابراہام اکورڈ میں شامل ہو کر دینا ہوگا۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو استعمال کیا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسرے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ڈپلومیسی میں کوئی کسی کا دائمی دوست نہیں ہوتا صرف اپنا مفاد فوقیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا نام اس وقت عالمی طور پر ثالث کے طور پر گشت کررہا ہے مگر اس تذکرہ میں حکومت وقت کہیں شامل نہیں اس وقت صرف فوجی کمال کا نام سامنے آرہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی حکومت صرف ایک بے دست و پا عنصر کا نقشہ پیش کررہی ہے۔ مگر سیاسی فیصلے کرنا حکومت کا کام ہے۔ اس کی ذمہ داری پارلیمان اور حکومت پر آتی ہے۔ پاکستان کے عوام ابتداءہی سے فلسطین کی آزاد ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے وقت کچھ ایسے نظارے پاکستان میں ملے جو عوام کی ترجمانے کرنے کے بجائے منفی پیغام دیتے تھے۔ حکومت پاکستان کو محتاط رہنا ہوگا۔ اپنی سالمیت اور وقارکی حفاظت کرنی ہوگی۔ ماضی میں پاکستان مفاد پرست فیصلہ سازوں کے ہاتھوں بڑی طاقتوں کے سامنے سرنگوں ہو کر شدید نقصانات سے دوچار ہوچکا ہے۔ تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے دہرانے کی نہیں۔ قومیں وہ ہی زندہ رہتی ہیں جو اپنے بنیادی اصولوں پر کاربند رہتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں