تہران، واشنگتن، تل ابیب ( نیوز ایجنسیاں ) امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ 25 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ منہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی متضاد اطلاعات بین الاقوامی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں اور اس دوران پاکستان کا نام بھی بطور مثالث لیا جارہا ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستان کے کسی ممکنہ کردار کی سرکاری طور پر تصدیق یا تردید تو نہیں ہوسکی ہے تاہم اطلاعات ملی ہیں کہ ایران نے ممکنہ جنگ بندی کے لئے 16 اسٹریٹجک شرائط پیش کر دی ہیں۔ جب کہ امریکا نے بھی جنگ بندی سے متعلق اپنے 15 نکاتی مطالبات ایران تک پہنچا دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت ختم کر دی ہے، یہ رجیم پہنچ ہے، نئی قیادت معاہدہ کرنے جارہی ہے، اب ہم ٹھیک لوگوں سے بات کر رہے ہیں، انہوں نے ہمیں ایک تحفہ بھیجا جو کل مل گیا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں اب کوئی قیادت باقی نہیں رہی، ایران میں شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران رضا مند ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے ، اب ہم صحیح لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران سے بات کر رہے ہیں، ایران میں شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، ان کی نیوی ، ائیر فورس تباہ کردی ہے، ہم نے ان کی قیادت ختم کر دی ہے، یہ رجیم پہنچ ہے، انہوں نے ہمیں ایک تحفہ بھیجا جو کل مل گیا، ایران نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں اب نئی قیادت ہے دیکھتے ہیں کہ وہ کیسا کام کرتے ہیں، ایران کی نئی قیادت معاہدہ کرنے جارہی ہے۔ سعودی عرب، یواے ای اور قطر ایران کے معاملے میں بہت بہترین رہے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے بات چیت میں نائب صدر جے ڈی وینیس، وزیر خارجہ مارکورو بیو، اسٹیونکوف اور جیرڈ کشنر بھی شریک ہیں۔ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ آج ہم دنیا کے کئی ممالک کے عوام کی بیداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں، دنیا کے آزا دلوگوں کے دل صیہونیوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان، ترکیے، عراق، لبنان، مصر اور عرب ممالک کے عوام امریکا، اسرائیل اور ان کے جرائم کے خلاف بیانگ دیل نفرت کا اظہار کر رہے ہیں، خطے میں استحکام صرف باہمی تعاون اور اقوام کی مرضی کا احترام کرنے سے ہی ممکن ہے۔ ادھر ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے امریکا سے مذاکرات کی حمایت کردی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر نے مذاکرات کی حمایت کی ہے جبکہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایرانی حکام نے کسی قسم کے مذاکرات سے انکار کردیا تھا۔ قبل ازیں ملکی میڈیا کے مطابق ایک اہلکار نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ علاقائی پارٹیوں اور ثالثوں نے ایران کو تجاویز پیش کی ہیں کہ جنگ رو کی جائے۔ اہلکار نے نئے قانونی سٹریٹجک فریم ورک کے تحت شرائط بتائیں جن میں سے اولین جنگ دوبارہ نہ شروع ہونے کی یقین دہانی ہے۔ دوسری خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جاتا ہے، تیری جارح کو پیچھے دھکیلنا اور ایران کو ہر جانے کی ادائیگی ہے۔ چوتھے تمام علاقائی فرنٹس پر جنگ کو ختم کیا جاتا ہے، پانچویں آبنائے ہرمز کیلیے نئے قانونی رجیم پر عمل درآمد کیا جاتا ہے اور چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا آپر یٹیوز کیخلاف قانونی کارروائی اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی وسیاسی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی شرائط کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، ایرانی میڈیا نے ایک سکیورٹی وسیاسی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ مہینوں پہلے سے طے حکمت عملی کو اسٹریٹجک تحمل کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ حکومت کو امریکا کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے کچھ نکات موصول ہوئے ہیں جن کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ثالثوں کے ذریعے ملنے والے نکات کا جائزہ لینے کے بعد باضابطہ بیان جاری کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا مقصد توانائی کی عالمی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں اور مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں، تاہم ان تمام تجاویز اور درخواستوں کا رخ واشنگٹن کی جانب ہونا چاہیے۔ ایران کا موقف واضح ہے کہ وہ اس جنگ کو شروع کرنے والا فریق نہیں ہے۔ ایک اور بیان میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دوست ممالک کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے ، جو ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست کر رہا ہے، لیکن ایران نے اب تک اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران مذاکرات کے سلسلے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ پاکستان مشرق وسطی میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ امریکہ اور ایران کی رضامندی کی صورت میں پاکستان اس تنازع کے اختتام کے لیے نتیجہ خیز اور معنی خیز مذاکرات کی میز بانی کرنے کے لیے تیار ہے اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھے گا۔ خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو 48 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسانہ کیا گیا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دے گا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فروتھ سوشل پر یہ دھمکی امریکی صدر نے پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح چار بچ کر 44 منٹ پر دی تھی۔ مہلت ختم ہونے میں ابھی چند گھنٹے باقی تھے جب سوموار کے روز صدر ٹرمپ نے ایران میں تمام حملوں کو مو¿خر کرنے کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران میں نہایت مثبت نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی تردید کی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کو توانائی کی قیمتیں کم کرنے اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔۔ اسی دوران پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات چیت کی تھی اور کشیدگی میں فوری کمی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے اختلافات کوختم کرنے پر زور دیا تھا۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق شہباز شریف نے ایران کی قیادت کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتارہے گا۔ دوسری جانب وائٹ ہاو¿س نے بی بی سی اردو کو بذریعہ ای میل تصدیق کی ہے کہ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر گفتگو ہوئی تھی۔ ایران کی وزارت خارجہ ان مذاکرات پر پاکستان کے کردار پر تاحال خاموش ہے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے آگاہ ایک ایرانی سفارتکار نے بی بی سی نیوز کو بتا یا کہ اس بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان کا کہنا تھا کہ اگر ان مذاکرات کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میز بانی کا مقام ہوسکتا ہے۔ ” ہم اپنی وزارت خارجہ کی جانب سے تفصیلات کے منتظر ہیں۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بی بی سی کے امریکی شراکت داری بی ایس نیوز کو بتایا کہ ہمیں امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے نکات موصول ہوئے ہیں اور ان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ وائٹ ہاو¿س سے بی بی سی نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمنز اور امریکی ڈیجیٹل نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹس کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کوختم کرنے کے لیے ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کا نام ایک مجوزہ ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستان میں ہوں اور امریکہ کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینیس کریں۔ جریدے کے مطابق امریکہ سے آنے والی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات اتوار کے روز ہوئے۔ ان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ایچی سٹیو و شکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔ ایک دوسری، زیادہ معتبر رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں ثالث کے طور پر مصر تر کی اور پاکستان شامل تھے۔ ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: اگر فریقین چاہیں تو اسلام آباد ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی مسلسل حمایت کرتارہا ہے۔ تاہم دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی فریق کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی نہ تو تصدیق کریں گے اور نہ ہی تردید۔ وائٹ ہاو¿س نے ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ٹیلی فون بات چیت کی تصدیق کردی۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے جنوبی ایشیا کوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ممکنہ دور و اسلام آباد کے بارے میں سوال کے جواب میں ترجمان وائٹ ہاو¿س کیرولین لیوٹ نے کہا کہ یہ حساس سفارتی بات چیت ہے اور امریکا اس معاملے پر میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔ کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا بد لتے ہوئے حالات میں میٹنگز کے بارے میں قیاس آرائی کو اس وقت تک حتمی نہیں سمجھنا چاہیے جب تک وائٹ ہاو¿س کی جانب سے با ضابطہ اعلان نہیں ہو جاتا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر رپورٹ ہوا کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینیس، ولکوف اور جیرڈ کشنر ممکنہ طور پر اگلے ہفتے اسلام آباد میں ایران کے ہونے والے مذاکرات کی نمائندگی کریں گے۔ دوسری جانب اس حوالے سے ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا تھا اگرفریقین راضی ہیں تو پاکستان عالی کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ امریکی ٹیلی وڑن چینل کی این این نے تو ذرائع کے حوالے سے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کو اپنی تو قعات پر مشتمل 15 نکات کی ایک فہرست پاکستان کے ذریعے بھجوائی ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران نے کسی تجویز پر اتفاق کیا ہے یا نہیں۔ ٹیلی وڑن چینل سی این این نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعوی کیا کہ پاکستان کی جانب سے انٹیلی جنس چیف لیفٹینٹ جنرل عاصم ملک ان حکام میں شامل ہیں جو ونکوف اور کشنر کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اگر چہ امریکہ یا ایران کی جانب سے سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی۔ مذاکرات کی متضاد اطلاعات اور پاکستان کے ممکنہ کردار کی خبروں کے دوران دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کا آپس میں رابطہ ہوا۔ امریکہ ایران مذاکرات کی انھی متضاد اطلاعات اور پاکستان کے ممکنہ کردار کی خبروں کے دوران پاکستان اور ایران کے اعلیٰ حکام کا آپس میں رابطہ بھی ہوا۔ اس رابطے کے بعد جاری کیے گئے سرکاری بیانات میں بھی مذاکرات اور سفارت کاری کے الفاظ نمایاں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ایک وسیع معابد مکن ہوسکتا ہے تاہم ایرانی حکام نے ان دعوو¿ں کوختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جو اور گراہ کن بیانی قرار دیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے س اس کا موقف تبدیل نہیں ہوا، جس کے باعث عالمی سطح پرتیل کی ترسیل شدید متاثر ہورہی ہے۔ ادھر ایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 سٹریجک شرائط پیش کر دی ہیں۔ علاوہ ازیں چینی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقی سے ٹیلیفونک بات چیت کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ امید ہے فریقین امن بات چیت کا عمل جلد از جلد شروع کریں گے لڑنے کے بجائے بات چیت کرنا ہمیشہ بہت ہوتا ہے اور یہ ایران اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے، جبکہ یہ عالی برادری کی مشترکہ خواہشات کے مطابق بھی ہے۔ وانگ لی نے مزید کہا کہ چین غیر جانبدار اور منصفانہ توقف برقرار رکھے گا ، امن مذاکرات کو فروغ دے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کام جاری رکھے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وانگ فی کو خطے کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا اور چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی ہنگامی انسانی امداد پر شکر یہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام بیرونی جارحیت کے خلاف مزاحمت اور قومی خود مختاری و آزادی کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ متحد ہور ہے ہیں۔ عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران عارضی جنگ بندی کے بجائے ایک مکمل اور جامع سیز فائر چاہتا ہے۔ نہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھلی ہے اور جہاز محفوظ طریقے سے گزر سکتے ہیں، تاہم وہ ممالک جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہیں ان کے لیے یہ سہولت زیر غور نہیں۔ ادھر ایران کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی، اس فیک نیوز کا مقصد اقتصادی اور تیل کی مارکیٹس میں ہیرا پھیری کرنا ہے اور اس دلدل سے لکھنا ہے جس میں امریکا اور اسرائیل پھنسے ہوئے ہیں۔ ایرانی قوم جارح ممالک کی مکمل اور شرمناک سزا چاہتی ہے، یہ ہدف حاصل کرنے تک تمام اہلکار اپنے لیڈر اور قوم کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ ایرانی سیکیورٹی اہلکار نے کہا کہ تہران کی موثر جوابی کارروائی کے سبب ٹرمپ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی سے پیچھے بنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس لیے بھی پسپا ہوئے کیونکہ امریکا اور مغربی ممالک کی اقتصادی مارکیٹ اور بانڈ کو خطرات بڑھ گئے تھے۔ اہلکار نے واضح کیا کہ کئی ثالثوں کے ذریعے ایران کو پیغام بھیجا جارہاہے مگر واضح جواب یہی ہے ک? ایران اس وقت تک دفاع جاری رکھے گا جب تک ضروری ڈیٹر یس حاصل نہیں کر لیتا۔ اہلکار نے کہا کہ نہ تو آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی حالت پر واپس جائے گی ، نہ ہی انرجی مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔ ٹرمپ کا 5 روز و الٹی میٹم کا مقصد ایرانی عوام کیخلاف جرائم جاری رکھنا ہے ، ایران کا جواب ، وسیع تر دفاع جاری رکھے گا۔ آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے مشیر حسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران کے نقصانات پورے ہونے تک جنگ نہیں رکے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام پابندیاں ختم ہونے اور آئندہ حملے نہ ہونے کی عالمی گارنٹی لیں گے۔ اس بار آنکھ کے بدلے سرلیں گے، امریکا کو خطے سے نکلنا ہوگا قبل از میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے، وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیلی حکام کا کہنا ہے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ایران سے معاہدہ کرنے کے لیے پر عزم نظر آرہے ہیں، تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ ایران امریکی مطالبات کو قبول کرے گا۔
24











