Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
امریکی دورئہ چین 11

امریکی دورئہ چین

28 فروری 2026ءکو شروع ہونے والی جنگ کے اختتام کی کوششوں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ نے ایک دفعہ پھر ایران کی تمام تجاویز رد کرتے ہوئے تمام صورت حال کو ایک دفعہ پھر اپنی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی مناسبت سے ہوا میں معلق چھوڑ دیا ہے اس دفعہ امریکی وزیر دفاع بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ہمیں کسی قسم کی کوئی عجلت نہیں ہے۔ ہماری فوج مگر ہر طرح کے مقابلے کے لئے تیار ہے۔
عالمی طور پر اس وقت امریکہ کے طرز عمل پر ہر طرف سے انتہائی اکتاہٹ کے مظاہرے سامنے آرہے ہیں ایران امریکہ جنگ اب قطعی طور پر ایک انتہائی بے معنی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے اس جنگ کا تخمینہ 29 ارب ڈالر فی الوقت لگایا گیا ہے جس کا خمیازہ نہ صرف امریکیوں کو بلکہ تمام ممالک کے شہریوں کو روزمرہ کی زندگی گزارنے کے سلسلے میں بھگتنا پڑ رہا ہے امریکہ میں اس کے خلاف انتہائی طور پر مخالفت کے سلسلے جاری ہیں جس سیاسی اکابرین سے لے کر عام شہری تک شامل ہیں مگر صدر ٹرمپ مستقل ایران کی جوہری توانائی کو بنیاد بنا کر جنگ بندی سے گریزاں نظر آرہے ہیں اور اپنی شرائط پر اس جنگ میں فاتح کی حیثیت کے خواہشمند ہیں۔ ایران نے صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کہ اگر ایران امریکہ کی دی ہوئی شرائط پر رضا مند ہونے کے لئے تیار نہیں ہوا تو اس دفعہ فوجی جارحانہ کارروائیوں میں ایک انتہائی سخت طرزعمل اختیار کرتے ہوئے ایران کو بے بہا نقصان پہنچایا جائے گا۔ جس کے جواب میں ایران کی طرف یہ دھمکی موصول ہو چکی کہ اگر امریکہ نے ایسا کیا تو ایران ایٹم بم بنانے کی صلاحیت میں 90 فیصد اضافہ کرنے کا عمل شروع کرنے کا انتظام کرے گا۔
اگر بغور جائزہ لیا جائے تو بنیادی طور پر اب یہ جنگ آبنائے ہرمز کے گرد گھومتی نظر آتی ہے اب یہ ہی جنگ کا مرکزی موضوع اختیار کر چکا ہے۔ عالمی طور پر اس بندش اور ناکہ بندی نے تمام ممالک تک تیل، فرئروائیزر، اور قدرتی گیس کی ترسیل میں جو رخنہ پیدا کیا ہے اس نے عالمی طور معیشت کو ایسے اثرات سے دوچار کیا ہے کہ اس بندش کے کھل جانے بعد بھی کئی ممالک عرصہ تک اپنی معاشی حالت کو سنبھالتے رہیں گے۔ خود ایران کو اپنے حالات درست کرنے کے لئے ایک مدت درکار ہو گی۔ صدر ٹرمپ کو اندازہ ہے کہ ایران کئی دہائیوں سے بندشوں کے سبب مالی طور پر مستحکم نہیں ہے۔ اور وہ یہ دباﺅ بڑھاتے ہوئے ابھی تک ایرانی عوام کے اپنی قیادت سے منحرف ہونے کے دعوے کرتے دیکھے جارہے ہیں۔
ایران کے اس اعلان کے باوجود کہ اسے اپنے ہمسایوں سے کسی قسم کی کوئی رنجش نہیں مشرق وسطیٰ کے ممالک فکرمند نظر آرہے ہیں۔ دوبئی پر حالیہ حملہ کے بعد ایران نے یہ وضاحت جاری کردی ہے کہ یہ حملہ اس کی طرف نہیں کیا گیا اور سختی سے احتجاج کرتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ اس حملے کے ذریعے عرب مسلمان ممالک میں مزید دراڑیں پیدا کرنے کی سازش کی گئی ہے۔
متحدہ امارات کے اسرائیل اور ہندوستان سے قریبی روابط قائم ہیں۔ اس وقت ان دونوں ممالک کی خواہش یہ ہے کہ امریکہ اور ایران میں مفاہمت کی صورت نہ نکل پائے تو ان کے لائحہ عمل کے لئے یہ ایک بہترین صورت حال ہو گی۔ امارات اور ہندوستان، اسرائیل کے مابین تعلقات ان کی نئی حکمت عملی کے تعاون ایک اہم حصہ ہیں۔ جسے مغربی ایشیا میں ایک نیا جغرافیائی توازن سمجھا جارہا ہے۔ اسرائیل اور امارات بھارت کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی، دفاعی شراکت داری اور دیگر امور میں گہرا تعاون قائم کررہے ہیں۔ اس کے 2020ءمیں علاوہ ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کے بعد امارات نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا اور سفارتی تجارتی اور سیاحتی تعلقات کی راہیں ہموار کیں۔ بھارت کی مغربی ایشیائی پالیسی اب خود مختاری کی حکمت عملی پر مبنی ہے جہاں وہ اسرائیل اور خلیجی ممالک خاص طور پر متحدہ امارات سے اپنے تعلقات اضافہ کررہا ہے۔
امارات کا اوپیک تنظیم سے نکل جانے کا فیصلہ بھی مشرق وسطیٰ کے لئے ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ گو کہ اس کی وجہ بظاہر یہ ہی پیش کی گئی ہے کہ امارات نے یہ فیصلہ اپنی برآمدات کو فروغ دینے کے لئے کیا ہے لیکن اگر جائزہ لیا جائے تو تاثر یہ ملتا ہے کہ اس کا اسباب جن کا سلسلہ کوئی دہائیوں پیچھے تک جاتا ہے۔ سعودیہ نے ایک نے اوپیک کے لیڈر کی حیثیت سے اس پر اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی تھی۔ امارات نے اس سلسلے میں اس وقت ایک طرح سے اپنی خودمختاری کا اعلان کردیا ہے۔ اس کی علیحدگی سے یقینی طور پر اوپیک جو ایک عالمی ادارہ کی حیثیت رکھتا ہے نقصان پہنچے کے اندیشے کئے جارہے ہیں۔
سادات اور سعودیہ کے مابین کے علاوہ دوسرے عرب ممالک کو بھی اس تمام تناظر میں مسائل درپیش ہیں۔ امارات اس وقت خطے میں مکمل طور پر امریکہ کے اتحادی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب کہ دیگر کئی ریاستیں امریکہ کے ساتھ نئے طور کے تعلقات کے متعلق سوچ میں ہیں۔ خصوصی طور پر وہ تمام اعتماد جو مشرق وسطیٰ کی ریاستوں نے اپنے دفاعی انتظامات کے سلسلے میں امریکہ سے وابستہ کئے تھے۔ انہیں اس وقت اس میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تمام مشرق وسطیٰ اس وقت امریکہ کے کمزور اور مایوس کن رویہ کی وجہ سے خلفشار کا شکار ہوا ہے اور اپنے دفاع کے لئے کسی متبادل راستہ اختیار کرنے کی فکر میں ہے۔ سعودی عرب اور کویت نے اپنے فوجی اڈے دینے سے معذرت کرلی ہے ایران پر حملہ کرنے کے لئے۔
مشرق وسطیٰ کی سیاست واضح تبدیلی کے آثار ہیں۔ اس تبدیلی کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ جنوبی ایشیا پر بھی دیکھنے میں آئیں گے۔ ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ میں چین اور روس نے بلاشبہ خاموس پس پردہ ایران کے اتحادی کا کردار ادا کیا۔ امریکی صدر 13 مئی کو چین کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ وہ فکر مند دکھائی دیتے ہیں کہ اس دورے سے ان کے کن مقاصد کو تقویت مل پائے گی۔ امکان یہ ہے تھا کہ وہ اس سفر پر روانہ ہونے سے قبل ایران سے تصفیہ انجام دے لیں۔ مگر ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ خیال اور امکان یہ ہی ہے کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ چین ایران سے تعلقات رکھتا ہے۔ اس جنگ کی بابت کچھ تجاویز پر چین کو اعتماد میں لے کر کس قسم کا حل نکالنے کا طرزعمل اختیار کریں گے۔ عالمی معیشت پر گفتگو کریں گے۔ ان کے حالیہ عائد کردہ ٹیرف کو تو چین کی حکومت نے کلی طور پر مسترد کرنے کا اعلان کردیا ہے مگر معاملات عالمی طور پر فکر انگیز ہیں۔ امید یہ ہی رکھنی چاہئے کہ امریکی صدر جو معاشی ٹیم اپنے ساتھ لے کر جارہے ہیں جس میں تمام بڑی کمپنیوں کے سربراہان شامل ہیں۔ انہیں اس پر غور و فکر کرنے پر مجبور کریں گے کہ سنجیدگی سے صورتحال کا جائزہ لے کر کچھ مثبت اقدامات کئے جائیں تاکہ ہر طرف بہتری اور امن کی کوئی صورت نکل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں