یہ اسکول کے بھاری بستے۔۔۔ 75

امریکہ کے نومبر 2024ءکے صدارتی انتخابات اور ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دور‎

اسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ کی رپبلیکن پارٹی کے 2024 کے پرائمری نتائج کچھ یوں ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس 122 مندوبین ہیں۔پھر اجیت سنگھ رندھاوا اور راج کور رندھاوا کی بیٹی، بھارتی نژاد نیمارتہ نِکی رندھاوا ہیلی ہیں جن کے پاس 24 مندوبین کی حمایت ہے۔اس کے علاوہ رون ڈی سینٹس صاحب 21 جنوری کو اس دوڑ سے باہر ہو گئے۔اِن کے ساتھ 9 مندوبین تھے۔اسی طرح گیتا راماسوامی اور وِوِک گنا پاتھی کے بیٹے بھارتی نژاد وِوِک راماسوامی بھی 15 جنوری کو دوڑ سے باہر ہو گئے جن کے ساتھ محض 3 مندوبین تھے۔اس انتخاب میں موجودہ صدر جو بائڈن نے اس الزام پر کہ اب وہ عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں دوسری مرتبہ امریکی صدر کی دوڑ میں شامل ہی نہیں ہونا چاہیے، کہا کہ سابقہ صدر ٹرمپ بھی میرے ہی ہم عمر ہیں۔ادہر ریاست مِشیگَن میں عوام کی بھاری اکثریت نے جو بایڈن کو کھلے عام کہا کہ جب تک غزہ پر فائر بندی نہیں ہو گی ہم تمہیں ووٹ نہیں دیں گے۔اسی ریاست سے 2020 میں جو بائڈن بہت کم ووٹوں سے جیتے تھے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست مشیگن میں سب سے زیادہ عرب امریکن رہتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اِن اور شمالی افریقیوں کی تعداد 310,000 ہے۔ ڈیٹرائٹ کے قریب ڈئیربورن میں 110,000عرب نژاد امریکی رہتے ہیں۔جو بائڈن کی اسرائیل دوست پالیسی کا ڈیموکریٹک پارٹی پر بہت برا اثرپڑنے والا ہے۔وائٹ ہاو ¿س اور بائڈن انتظامیہ کی جانب سے یہاں کے مقامی لیڈران سے رابطے کیے گئے اور جو بائڈن کی غزہ اسرائیل پالیسی میں لچک سے آگاہ کیا گیا لیکن اس کا کوئی مثبت اثر نہیں ہوا۔ یہ تو صرف ریاست مشیگن کی بات ہے۔لیکن ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہنے والے پاکستانی اور عرب امریکیوں کی ایک بڑی تعداد کا موقف ہے کہ ا ±ن میں اور ریپبلیکن پارٹی میں بہت سی اقدار مشترک ہیں۔اس مرتبہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی کا انتخاب کریں گے۔ امریکہ کی ریاستوں میں رہنے والے امریکیوں کی خاصی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کو اپنی پسندیدگی کی بنا پر ووٹ نہیں دیں گے بلکہ اس لئے کہ وہ جو بائڈن کا راستہ روکنا چاہتے ہیں کیوں کہ بائڈن نے غزہ میں جنگ بند نہیں کروائی۔ ٹرمپ کے صدر بننے کو اب امریکی اور بین الاقوامی حلقے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ دورِ صدارت کی انتخابی مہم کے سلسلے میں وہ جو کچھ بھی کہتے رہے اگر وہ قابلِ اعتراض تھا تو ا ±نہیں ووٹ کیسے مِلے؟ ا ±ن پر ایک تنقید یہ کی جاتی ہے کہ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک سے نکال دیں گے۔سوال یہ ہے کہ اِس میں کِس کی حق تلفی ہوئی ہے؟ اور کیا بائڈن دورِ حکومت میں اِن کے حق میں کوئی بل پاس کرنے کی کوشش ہوئی؟ دوسری طرف ٹرمپ اراکین کانگریس کی مدّت بھی امریکی صدر کی طرح ایک حد میں رکھنے کی بات کرتا ہے۔جب کہ اِس سے پہلے کسی صدر کو ایسی بات کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات پر تنقید کہ وہ وائٹ ہاو ¿س کا لابی ہاو ¿س سسٹم ختم کر دیں گے، انتہائی تعصب پر مبنی ہے۔ جب کہ لابی سسٹم ختم ہونے سے وائٹ ہاو ¿س اور امریکہ کا وقار دنیا میں بلند ہو گا۔ اگر ایک شخص اپنے ملک کی بھلائی کے لئے کوئی قابلِ عمل پروگرام پیش کرتا ہے تو میرے نزدیک ا ±س کی تعریف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پچھلی صدارتی انتخابی مہم کے دوران ملک کے چھوٹے کاشتکار کی بات کی۔چھوٹا امریکی کِسان بہت مظلوم ہے۔ وہاں کے اخبارات، اسٹیج اور شو بزنس کے مزاحیہ پروگراموں اور ہالی ووڈ کی فلموں میں ان کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بھی کم ملتے ہیں۔بینک سے قرض لینے جائیں تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹرمپ نے کئی ایک موقعوں پر ان کی عزتِ نفس کی بات کی ہے اور اِن کے مسائل کے حل کا یقین دلایا ہے۔ اِس بات کو خود وہاں تعصب کے رنگ میں لیا گیا جو صحیح نہیں۔غ ±ربت کالے گورے کو دیکھ کر نہیں آتی۔کسانوں کے لئے اگر کوئی اصلاحات ہوتی ہیں تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تمام ریاستیں اس سے یکساں فائدہ ا ±ٹھائیں گی۔ ملک کی اندرونی اصلاحات کے بعد اگر ہم ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو دیکھیں تو ا ±س میں بھی کئی مثبت پہلو نظر آتے ہیں۔ اگر ٹرمپ یہ کہتا ہے کہ امریکہ کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی اور رسوائی والے وہ اقدام کہ جس میں امریکی فوجی اور امریکی عوام کا پیسہ دونوں ضائع ہو رہے ہیں اور وہ ایسے تمام اقدام کو یک قلم منسوخ کر دے گا تو میری نظر میں اس سے بڑھ کر عالمی امن کا تحفہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ خامیوں پر تنقید کے ساتھ خوبیوں کی تعریف شخصیت کو متوازن بناتی ہے۔اس وقت ٹرمپ پر تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ کچھ وقت اس کو کام کرنے کے لئے دیا جائے۔چند ہی مہینوں میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ بعض نام نہاد دانشوروں کا کہنا ہے کہ کانگریس صدر ٹرمپ کو کنٹرول نہیں کر سکتی کیوں کہ ا ±س کے نزدیک وہ نا قابلِ اعتبار ہیں۔ کانگریس اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کو ایک روایتی قدامت پسند شخص درکار ہوتا ہے۔دوسری طرف صدر ٹرمپ خود کانگریس کی رسی کھینچنے کے درپے ہیں۔ وہ سرِ عام ارکانِ کانگریس کی مدت اور ا ±س کے اختیارات کو محدود کرنے کی بات کرتے ہیں۔ یہی تو اصل تبدیلی ہے۔ ایک اوسط امریکی کے حالات میں جو بائڈن کے دور میں کوئی خاص بہتری نہیں ہوئی۔ صنعتکار بھی روتے ہی رہے کہ بیرونی ممالک سے سستے داموں اشیاءمنگوا کر ا ±ن کا نقصان کیا جا رہا ہے۔ سیاسی وفاداریاں اپنی جگہ لیکن پیسے والے پیسے والے ہوتے ہیں۔وہ ا ±س پارٹی کو کیوں نہ ووٹ دیں جس کا امید وار بیرونی ممالک سے اِس قسم کے سلسلے کو فوراََ بند کر دینے کی تقریریں کرتا ہو؟ رہی خارجہ پالیسی، ا ±س کی امریکی انتخابات میں کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی۔ ایک عام امریکی کو اِس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ روس اور امریکہ کے تعلقات کیسے ہیں یا کون سا امیدوار اس سلسلہ میں کیا کہتا ہے؟ ا ±ن کو اپنے گھر، اپنے محلہ، اپنے شہر یا اپنی ریاست سے سروکار ہوتا ہے۔وہاں تو ایک یہ لطیفہ بھی گردش میں رہتا ہے کہ اگر آپ کسی (عام جدی پشتی) امریکی سے پوچھیں کہ ذرا اپنی ریاست کے گورنر کا نام بتائیں؟ تو روشن امکان ہے کہ وہ نہیں بتا سکے گا۔اور اگر ا ±س نے بتا دیا تو وہ یقیناََ قانونی یا غیر قانونی تارک وطن ہو گا۔اخبار میں بھی امریکی اپنے علاقے یا شہر کی خبروں میں دلچسپی رکھتے ہیں، واشنگٹن اور نیو یارک میں کیا ہو رہا ہے ا ±ن کو اِس سے کوئی لینا دینا نہیں! ٹرمپ تو پہلے ہی دِن سے اپنی تقاریر میں ملکی معیشت میں امریکیوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ دار بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ درآمدی پالیسی بھی متاثر ہو۔ جیسے تیل کی صنعت۔ صدر ٹرمپ جب یہ کہتے ہیں کہ سعودی عرب سے تیل کی درآمد بند کر دی جائے گی تو بھلا اِس بات میں کِسی کو کیا اعتراض ہے؟ یہ امریکہ کی مرضی کہ سعودیہ سے تیل لے یا نہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اپنے ملک میں خود وافِر تیل نکلتا ہو، آیندہ دس سال کا تیل ذخیرہ بھی ہو اور ہم محض کسی ملک کو خوش کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے ا ±س سے تیل درآمد کرتے ہی رہیں۔ پچھلی مرتبہ کے ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران سعودی حکومت کی طرف سے بھی کافی سخت ردِ عمل سامنے آیا۔ ایچ وَن ویزوں سے متعلق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اِس سلسلہ کو بند کر دیں گے۔آپ خود سوچیں کہ کئی بے روزگار اپنے ملک میں روزگار کی تلاش میں ہوں اور بیرونِ ملک سے لاکھوں افراد آ کر وہ ملازمتیں حاصل کرنے لگیں۔یہ کام بھی ایک زمانے سے کیا جا رہا ہے۔ کبھی اِس کے بارے میں کسی نے سخت موقف پیش نہیں کیا۔ اب اگر صدر ٹرمپ اپنے ملک کی بے روزگاری کو کم کرنے کے اقدام کی بات کرتے ہیں تو اِس میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔ جو بائڈن دور میں بے روزگاری ایک بے قابو عفریت کی طرح رہی۔اِس کو کم کرنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نظر نہیں آیا۔ماضی کے امریکی انتخابات میں بے روزگاری، صحت، سوشل سیکورٹی کے مسائل بہت شدت سے بحث کئے جاتے رہے ہیں۔ عام امریکی کے لئے یہی سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں نہ کہ ہوم لینڈ سیکورٹی، خارجہ پالیسی، امریکہ اسرائل تعلقات وغیرہ۔اِس تمام تناظر میں دیکھا جائے تو روشن امکان ہے کہ نومبر میں ڈونلڈ ٹرمپ ہی نئے امریکی صدر کے طور ابھر کر سامنے آئیں!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں