اغوا شدہ قوم۔۔۔۔؟ 68

جہالت کی دلدل، کورونا اور معصوم رضا کار

ہر زمانے کی ہر مشکل میں غریب پاکستان کے غریب رضا کار، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ، اور اپنا فرض جان کر ملک اور عوام کی خدمت کے لیئے نکل پڑتے ہیں۔ یہاں ہماری مراد بڑے شہروں میں تعلیم یافتہ رضاکاروں سے ہی نہیں ، بلکہ بالخصوص ان سے ہے ، جو پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں، جن کے پاس وسائل بھی نہیں ہوتے ہیں۔ جن کے سر میں خدمت کا سودا ہوتا ہے ، جو بے سروسامانی کے بے باوجود اپنے مظلوم شہریوں کی آسانی اور خدمت کے لیئے خود اپنے محدود ترین وسائل کی اور اپنی جان تک کی بازی لگادیتے ہیں۔
کل ہم نے بی بی سی کی ایک ویڈیو دیکھی ، جس میں ملگجے سے پاکستانی کپڑوں میں ملبوس، خواتین رضاکار،سر پر دوپٹہ ڈالیں پیدل پہاڑوں پر جارہی تھیں، تاکہ اس علاقہ کے باشندوں کو کو رونا وائرس کے بارے میں آگاہی دے سکیں۔ وہ ان کو ماسک پہننے کے طریقہ بھی بتا رہی تھیں ، اور صابن سے ہاتھ دھلوا رہی تھیں۔ ان کو شکایت تھی کہ کسی بھی سطح کی حکومت ان کو کوئی سہولت نہیں دے رہی، جس میں حفاظتی ماسک اور دستانے بھی شامل ہیں، اور صابن کی ٹکیاں بھی۔ وہ یہ مطالبہ نہیں کر رہی تھی کہ انہیں گاڑی سواری فراہم کی جائے۔
ان ہی کے ایک ساتھی کہہ رہے تھے کہ مختلف دیہاتوں کے باشندے ان کی بات نہیں سنتے بلکہ لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ بیماری کسی دشمن نے باہر سے ملک میں بھیج دی ہے۔ یا یہ کہ یہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ غیر ملکی پروپیگنڈا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کا معاملہ ہے جیسا کہ ہمارے ہاں پولیو کے ٹیکے لگوانے کا معاملہ۔ وہ معاملہ تو ایسا سنگین ہو گیا تھا کہ کئی جگہہ پر ٹیکے لگانے والوں کے ساتھ فوجی یا پولس سپاہی جاتے تھے۔
ٹیکوں کا معاملہ صرف پاکستان کے غیر تعلیم یافتہ شہریوں تک محدود نہیں ہے، خود امریکہ میں مذہب پرست اسی قسم کی گمراہی پھیلاتے ہیں۔ پھر وہاں سے ہمارے مذہب پرستوں کو شہہ ملتی ہے۔جو مسجدوں اور کٹھ ملاﺅں کے ذریعہ سے اسی قسم کی بدگمانیوں کو بڑھاتے ہیں۔ ہمارے ہماں اوسامہ بن لادن کی تلاش میں بھی ایک ڈاکٹر کو استعمال کیا گیا جنہوں نے ٹیکے کے کارکنوں کے ذریعہ اوسامہ کے دروازے پر کھٹکھٹا یا ہوگا، شاید ایسا ایک ہی دو بار ہوا ہوگا، کیونکہ روز روز تو ٹیکے والے دستک نہیں دیتے۔ لیکن جب بات نکلتی ہے تو دور تلک جاتی ہے۔ سو کہاں سے کہاں تک بگڑ گئی۔ اس میں قصور ہمارے اربابِ اقتدار کا بھی ہے، جن کی اجازت کے بغیر پاکستان میں کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ یہ بات عام ہے کہ اوسامہ کی تلاش میں امریکہ کو پاکستان کا تعاون حاصل تھا۔ اب بعد میں پاکستانی بات کو کتنا ہی کیوں نہ بدلیں۔ نہ حکومت نہ امریکہ نے یہ فکر کی کہ اس کا ملک میں ٹیکے جیسی ضرورت پر کیسا برا اثر پڑے گا۔ شاید امریکہ اور حکومت یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے عوام کیڑے مکوڑے ہیں۔ مرتے ہیں تو مریں۔
حقیقت تو یہی ہے کہ کورونا کے معاملہ میں خود عمران خان کے بیانات جہالت پر مبنی افواہ سازی کو جنم دیتے ہیں۔ کبھی وہ اللہ سے دعا کرکے قوم کو اپنے کرتوتوں کی معافی مانگنے کی تلقین کرتے ہیں۔ کبھی وہ کونین کی دوا میں بیماری کا علاج ڈھونڈتے ہیں، کسی بھی سائنسی طبی دلیل کے بغیر۔ بہت ممکن ہے کہ انہیں گھر میں طبِ نبوی کی تلقین کی جارہی ہو، اور وہ مولانا طار ق جمیل جیسے غیر علما پر تکیہ کرتے ہیں۔ کبھی وہ ملاﺅں کے ساتھ معاہدہ کرکے مسجدوں میں جماعتوں کی اجازت دیتے ہیں۔پھر یہ خبریں آتی ہیں کہ پاکستان بھر کی مسجدوں میں معاہدوں کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔
ابھی بیچارہ و لا چار رضا کار حکومت کی دہایئاں ہی دے رہے تھے کہ عمران خا ن نے شب کی تاریکی میں فیصلہ کرکے عسکری اداروں کی حکومت میں مداخلت کی عملی تصدیق کر دی۔ عمران خان اسی سفید گھوڑے پر سواری کرنے میں مگن ہیں ، جس پر سوار ہو کر وہ اقتدار میں داخل ہوئے تھے۔ انہیں یہ بھی پرواہ نہیں کہ جب اسپِ ِسفید رنگ دو لّتی مارے گاتو وہ کہاں جاکر گریں گے۔
اس اکھاڑ بچھاڑ میں پاکستان میں جہالت او ر لاعلمی کی دلدل، بھیانک تر ہوتی جارہی ہے۔ کل ایک عزیزہ سے بات ہورہی تھی، ان کا تعلق چارسدہ سے (یہاں چار سدہ کا حوالہ صرف ضمنی ہے۔ ہر علاقہ ایسا ہی ہے)۔ انہوں نے کہا کہ بھائی ہمارے علاقہ میں کوئی احتیاط نہیں کر رہا۔ اس میں غیر ملکی تعلیم یافتہ بھی ہیں اور مدارس سے فارغ التحصیل بھی۔ ہر مسجد میں پر ہجوم با جماعت نماز بھی ہورہی ، شادی بیاہ بھی۔ لوگ گلے بھی مل رہے ہیں اور مصافحہ بھی کر رہے ہیں۔ ان کا یہی کہنا ہے کہ زندگی او ر موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ، احتیاط کریں یانہ کریں۔ جب ایمان اتنا راسخ ہو تو پھر عقل کی بات کون کرے گا۔ عقل کی بات نہیں کریں گے تو درست اعداد و شمار کہاں سے آئیں گے۔ جب اعداد و شمار ہی نہیں ملیں گے تو وبا کا مقابلہ کیسے ہوگا۔ ہاں بس یہ ہوتا رہے گا کہ عمران خان، دنیا بھر میں یہ ڈھول بجاتے رہیں گہ کہ ہم وبا سے محفوظ ہیں۔
ہمارے پاس تو اب سمجھانے کو کیا رہا ہے۔ اور ہم سمجھانے کے قابل بھی کب ہیں۔ ہمیں تو معصوم رضا کاروں کی حالتِ زار پر تکلیف پہنچی تھی۔ اور ابھی ذہن میں یہ بھی آیا کہ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔ نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔ اب آپ ہی یہ شعرعمران خان کے وفا داروں اور طارق جمیل کے مریدوں تک پہنچایئں تو پہنچایئں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں