ہمسفر 270

مرد کی قربانی

اللہ پاک نے مرد اور عورت دونوں کو ایک دوسرے کے سہارے کے لیے پیدا کیا تاکہ یہ دونوں زندگی کی سخت آزمائش میں ایک دوسرے کا سہارا بن سکے۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کے بغیر نہ مکمل ہیں۔ اس دنیا میں انسان کی آمد ازاوجی زندگی کے ساتھ ہی ہوئی۔ اللہ پاک نےنکاح کے ذریعے مرد اور عورت کے رشتہ کو ایک خوبصورت انداز میں عطا کیا۔ اور دونوں کو ان کے فرائض انجام دینے کا حکم دیا۔ اسلام میں مرد اور عورت کو دونوں کے برابر حقوق دیے ہیں۔۔ پر دونوں کے حقوق کو پیش کرنے کا انداز ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک عورت کبھی بھی مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی، چاہیے وہ ایک کتنے ہی بڑھے ترقی یافتہ مقام کی مالک ہو۔۔۔اس کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ایک مرد کی ضرورت ضرو ہوتی ہے۔ اللہ پاک نے مرد کو عورت کے لیے مختلف رشتوں سے نوازا۔۔ وہ رشتہ جو ایک عورت کے لیے اس دنیا کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے اہم نعمت ہے۔۔ ایک عورت کے لیے سب سے بڑھی نعمت اس کے محرم رشتے ہوتے ہیں۔۔ یہ ہی رشتے عورت کو ہمارےمعاشرے میں ایک مضبوط مقام دلاتے ہیں۔ جس کے بعد ہی ایک عورت دنیا کی بھاگ دوڑ میں آسانی سے مقابلہ کرلیتی ہے۔ اس عورت کے لیے وہ محرم رشتہ ایک مضبوط دیوار کی طرح ہوتا ہے۔۔جو مشکل سے مشکل وقت میں اس کو ٹوٹنے نہیں دیتا ہے۔۔ میں اپنے کالم میں اس ہی مضبوظ دیوار یعنی ہمارے معاشرے میں ایک مرد کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے حق میں بات کرنا چاہوں گی۔ میں آج ان مردوں کا ذکر کرنا چاہوں گی جو اپنے گھر میں ایک خوش حال ماحول دیکھنے کے لیے اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بہت
سے گھر موجود ہیں۔ جو ایک مرد کی قربانی کے سبب آباد ہیں۔۔ ایسے مرد کبھی باپ کی شکل میں قربانی دےرہے ہوتے ہیں۔۔ کبھی بیٹے کی شکل میں, تو کبھی شوہر کی شکل میں اپنے گھر میں موجود افراد کی فرمائش پوری کرنے کی وجہ سے دو وقت کی نوکری تک کرتے ہیں۔۔ہمارے معاشرے میں ایسے مردوں کے ساتھ ہونے نا انصافی شاید کسی کو نظر بھی نہیں آتی ہیں۔۔کہ اس کے ساتھ آخر ان ہی کے گھر والے کیا کر رہیں ہے۔۔ جیسے اس کی زندگی کا یہ ہی ایک مقصد ہے کبھی ماں کو خوش رکھنا کبھی بیوی کو خوش رکھنا ہے۔۔ زیادہ تر رشتوں سے محبت کرنے والے مردوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی شادی کے بعد دیکھی گئی ہے۔ جب وہ مرد ایک شوہر بنتا ہے۔۔ اس ہی وقت اس کے لیے ایک نیا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ ایک طرف اس کی ماں ہوتی ہے۔۔ اور دوسری طرح اس کی بیوی بچوں کے ساتھ، دونوں کو خوش رکھنا اس کے لیے ایک سخت امتحان سے کم نہیں ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر بیوی صبروشکر ادا کرنے والی مل جائے تو وہ اس آدمی کے لیے زندگی کی سب سے بڑھی نعمت ہوتی ہے۔ پر اگر بیوی سمجھدار نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ گھر جہنم بن جاتا ہے۔۔ کیا کبھی کسی نے سوچا ہے۔۔ وہ لاچار مرد کیا کرے گا۔۔ وہ تو مرد ہے ,عورتوں کی طرح رو بھی نہیں سکتا ہے, نہ ہی کسی کو بتاسکتا کہ اس کے اندرجو وہ تکلیف محسوس کررہا ہے وہ اس کو کھا رہی ہے۔۔ اس کی گھر میں خوشحال ماحول اس کے نصیب میں نہیں ہے۔وہ بہت کوشش کے باوجود بے بس اور لاچار محسوس کر رہا ہے۔۔۔جب ہی اس نے ایک
سگریٹ کا سہارا لیا۔ جس کے بعد بیوی کہتی ہے۔۔ کہ وہ مرد فضول چیزوں میں پیسے خرچ کررہا ہے۔۔ اس کو احساس ہی نہیں کہ اس کی بیوی نے چھ مہینوں سے ایک نیا جوڑا نہیں بنایا دوسری طرف ماں یہ سوچتی ہے۔ میرا بیٹا پہلے کی طرح وہ توجہ نہیں دے رہا جیسے شادی سے پہلے دیتا تھا۔ حالانکہ کہ بات دونوں کو خوش کرنے کے چکر میں خود اس مرد کی ایسی قربانی پر انحصار کرتی ہے۔۔ جس کا نام سکون ہے۔۔ اور اب وہ سکون گھر والوں کی خواہشات پوری کرنے کے چکر میں نہیں رہا ہے۔۔ جو اس کے گھر والوں کو نظر نہیں آرہا ہوتا ہے۔ گھر میں مسلسل چیزوں پر لڑائی جھگڑے سے ایسے مرد کو نفسیاتی مریض کا شکار بنادیتے ہیں۔۔۔۔ بعض اوقات ایسے آدمی منشیات کی لپیٹ میں بھی آجاتے ہیں۔۔ یہ پھر خودکشی تک بات چلی جاتی ہے۔۔ میں ان تمام عورتوں سے سوال کرنا چاہوں گی۔۔ اگر آپ لوگ اپنے شوہر کے بدلتے ہوئے رویے سے پریشان ہیں تو ایک باراکیلے میں سوچے گا۔۔ کاہی آپ کی بڑھی ہوئی خواہشات کے ساتھ آپ کا منفی رویا ہی تو وجہ نہیں ہیں۔ سوچے گا وہ کیسے آپ کی خواہشات کو پورا کرتا ہوگا۔۔ ایسی کم عقل عورتیں اپنے شوہر کی محبت اور مخلصی
کو نظر انداز کرتی ہیں۔۔ سب ان کو دوسروں عورتوں کے شوہر کے دیے ہوئے تو تحفے تحائف نظر آتے ہیں ایسی کم عقل عورتیں سب سے بڑھی غلطی یہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کو یہ طعنہ دیتی ہیں کہ کیا تمہارے پاس ہاتھ نہیں ہیں جو اتناکم کماتے ہو کہ پورا ہی نہیں ہوتا ہے۔ فلاں عورت کے شوہر کو دیکھو اپنی بیوی کو ایک سے بڑھ کر ایک اچھی چیزیں لاکر دیتا ہے۔ کیا فلاں عورت کے مرد کے پاس چار ہاتھ ہیں۔ وہ بھی تو دو ہاتھوں سے کماتا ہے۔ وہ بھی تو ایک مرد ہے۔ تم تو مرد کہنے کے لائق ہی نہیں ہوں۔ ایسے جملے ایک خود دار مرد کو اندر ہی اندر کھا جاتے ہیں۔ ایسی عورتوں کو کوئی فرق بھی نہیں پڑتا کہ پیسے حلال طریقہ سے کمائے جائے یا حرام طریقہ سے۔ سب ان کی شان وشوکت دوسری عورتوں سے کم نہ رہے جائے۔ چاہیے فلاں عورت کا شوہر حرام کماتا ہوں۔ پھر بھی ایسی عورت فلاں عورت کے شوہر کو پسند کرے گی۔ ایسی عورتیں اپنی خواہشات کی غلام ہوتی ہیں۔ کاش یہ بات سمجھ آجائے چیزوں سے محبت وقتی ہوتی ہے ایک اچھی زندگی بسر کرنے کے لیے ایک مخلص انسان کی محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے چیزوں سے محبت کرنے والے لوگ کبھی انسان سے محبت نہیں کرسکتے ہیں۔ روزے قیامت والے دن ایسی عورتوں سے پوچھا جائے گا کہ اگر اس کا شوہر حرام کماتا تھا تو اس نے منع کیوں نہیں کیا۔ پر افسوس آج کل کے دور میں یہ سوچا کون ہیں حالانکہ کہ انسان کے نصیب میں جو لکھ دیا گیا ہے وہ اس کو ضرور ملے گا۔ سب بات صبر کی ہے۔ اللہ پاک ایسی کم عقل عورتوں ہد ایت عطا فرمائے اور اپنے گھر کو جنت بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں