100

ناسا نے ’ستونِ تخلیق‘ کی نئی تصاویر جاری کرکے دنیا کو حیران کردیا

نپیساڈینا، کیلیفورنیا: ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی نے ایگل نیبیولہ اور اس کے اطراف کی مشہورتصویر اس بار انفرا ریڈ میں شائع کی ہے جسے ستونِ تخلیق یا پِلرز آف کری ایشن کا نام بھی دیا گیا تھا۔
سب سے پہلے یہ تصویر 1995 میں ہبل خلائی دوربین کی ایک سے زائد تصاویر کو جوڑ کر بنائی گئی تھی لیکن یہ بصری یا نظر آنے والے اشعاع میں تھی جس میں ایگل نیبولہ بھی نمایاں تھا۔ 25 سال پرانی یہ تصویر کئی کتابوں اور رسائل و جرائد کے سرورق پر شائع ہوئی اور اسے خلائے بسیط کی بہترین تصاویر میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔
تاہم اب یہ تصویر انفراریڈ کیمرے سے لی گئی ہے اور قدرے واضح ہے جس میں گردوغبار، گیسیں اور نیلا سایہ ستونوں کو ایک خوبصورت روپ دے رہا ہے۔ اب یہ تصویر بھی ہبل خلائی دوربین کے ذریعے ہی لی گئی ہے لیکن ٹھیک 25 سال بعد اس پر دوبارہ نظر ڈالی گئی ہے۔
1995 کی تصویر میں ستون جیسے اجسام دکھائی دے رہے تھے جس میں گردوغبار اور گیس سے نئے ستارے بھی بن رہے تھے اور اسی مناسبت سے انہیں پلرز اور کری ایشن کا نام دیا گیا تھا۔ ایگل نیبیولہ پہلی مرتبہ 1745 میں سوئزرلینڈ کے ماہرِ فلکیات جین فلپ لوئی ڈی چیساکش نے دریافت کیا تھا جو زمین سے لگ بھگ سات ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اور یہاں نت نئے ستارے جنم لے رہے ہیں۔
اس کی چوڑائی چار سے پانچ نوری سال ہے جبکہ پورا نیبولہ 70 نوری سال چوڑا اور 55 نوری سال لمبا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں