منشیات کا جال 136

ڈپریشن کے سبب خودکشی کا بڑھتا رجحان

انسان کے لیے دن با دن ٹیکنالوجی آرام وسکون کے لحاظ سے جس قدر آگے جا رہی ہے۔۔اتنا ہی انسان بہت منفی رویوں میں گرفتار ہوتا جارہا ہے۔ جدید دور کی اس دنیا نے انسان کو انسانیت سے دور کر دیا ہے۔ آج کی جدید دور کی یہ دنیا احساس، ہمدردی ،اخلاق جیسی چیزوں سے خالی نظر آتی ہے۔سنا تھا حشر کے میدان میں کوئی کسی کا نہیں ہوگا پر یہ منظر با خوبی آج کی موجودہ صورتحال میں عام نظر آتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے انسان کو خود اپنی حالت کا علم نہیں وہ کرکیا رہا ہے۔۔ اس دنیا کے 60 فیصد لوگ صرف دولت کو ہی حقیقی خوش سمجھتے ہیں حالاکہ حقیقت اس سے بالکل الگ ہے۔ حقیقی خوشی کا مطلب ہے کس بھی فرد کا اندر سے خوش ہونا۔ پر اس طرح کے احساس کو محسوس کرنے والے لوگ کم نظر آئے گے جو اپنی خواہشات کا شکار نہ ہو۔۔۔ان ہی خواہشات کے سبب آج کل ہر فرد مختلف پریشانیوں سے دوچار ہے۔ نفسانفسی کے اس دور نے انسان کو تنہا کر دیا ہے۔ کوئی کسی کی تکلیف کو سمجھنے والا نہیں ہیں۔ آج کل خودکشی کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے۔ پوری دنیا میں آئے روز خودکشی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔۔ جن کی خبریں ہم اخبارات اور مختلف نیوز چینلز سے دیکھتے اور سنتے ہیں۔حالاں کہ اس نامناسب اقدام کو کسی بھی سماجی اور معاشرے میں بھی اچھی نگاہ سے بالکل بھی نہیں دیکھا جاتا۔ دنیا میں کہیں نہ کہیں ہر 40 سکینڈ میں ایک فرد خود کشی کرتاہے ہے۔پر اس میں زیادہ تر تعداد مردوں کی سامنے آئی ہے۔ عورت کے کی نسبت مردوں میں خود کشی کی شرح زیادہ رپورٹ ہوئی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔ کہ مرد اپنے مسائل کے بارے میں کم بات کرتے ہیں یا کم ہی مدد کی تلاش کرتے ہیں۔ مردوں میں عمر کے ساتھ خودکشی کی شرح بڑھتی جاتی ہے۔ لیکن عورتوں میں پچیس برس کی عمر کے بعد خودکشی کرنے کا رجحان تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔ دنیا میں خود کشی کی سب سے زیادہ شرح سویڈن میں پیش آئی ہیں۔۔ جس میں زیادہ تر مرد ہی موجود ہیں۔ ہے۔
گزشتہ دونوں بالی وڈ کے نوجوان ادا کار شانت سنگو راجپوت کی خود کشی کی خبر کے بعد ایک مرتبہ پھرسے یہ بحث شروع ہوگئی ہے۔ کہ ایسی کیا وجوہات ییں کہ اس طرح کے کامیاب ترین افراد بھی خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔۔ کیا وجہ یہ ہے۔ خواہشات کا لاتعداد ہوجانا اور پھر بھی اندر سے نہ خوش ہونا۔ جائزہ کرو تو معلوم ہوگا کہ خودکشی کا تعلق امیر یا غریب ہونے سے نہیں ہیں صرف اس کا تعلق ایک ایسے بیماری سے ہے جو اندر ہی اندر انسان کو کھا رہی ہوتی ہے۔۔جیسے ڈپریشن کہتے ہیں۔۔ اور جب یہ اعصاب پر غالب ہوجاتا ہے تو وہ خود کو تنہائی کے سبب خودکشی کے عمل پر غور کرتا ہے۔۔ جب ہی مخلص دوستوں کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ کسی شخص کے پاس مخلص دوست ہونا اللہ پاک کی بڑی نعمت ہے۔خودکشی کی مختلف نوعیت ہیں۔۔ پر بات ایک ہی چیز پر انحصار کرتی ہے۔ جب انسان نا امید ہوجاتا ہے اور اندر سے کس بھی حال میں خوشی کو مسحوس نہ کرے۔ تو خودکشی جیسے کمزور عمل اختیار کرتا ہے۔ انسان کے بس میں اگر یہ اختیار ہوتا تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔ انسان کا اس دنیا میں زندہ رہنا بھی تقویت اور ترقی درجات کا باعث ہے۔
مرد ہو یا عورت دنوں کا خودکشی کرنا قانونی جرم بھی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں اس بارے میں سخت عذاب کا ذکر ہے۔۔ وہ اس عمل کی کسی صورت میں اجازت نہیں دیتا۔ اللہ نے انسان کو دنیا کی نعمتوں سے لطف انداز ہونے اور اپنی عبادت کے لیے اس دنیا میں پیدا کیا ہے۔۔تو پھر کیوں اس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ کون انسان کب تک زندہ رہے گا۔ اور کب اس کی موت واقع ہوگی یہ صرف اللہ ہی جانتاہے۔
ذہنی تناﺅ اور عدم برداشت کی وجہ سے دنیا میں روزانہ 21600 افراد اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیل کر خودکشی کرلیتے ہیں۔ اور اگر شرح سکینڈوں میں بانٹ دی جائے تو ہر 40 سکینڈ میں ایک فرد خودکشی کرلیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اتنے لوگ جنگوں میں نہیں مارے جارہے۔ جتنے خودکشی میں مرتے ہیں۔ یہ اعداد شمار انسداد خودکشی کے عالمی دن کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے رپورٹ جاری کی ہے۔ جس میں بتایا گیا کہ پھانسی پر لٹک جانا، زہر کھانا اور بندوق کا استعمال خود کشی کرنے کے سب سے عام طریقے ہیں۔ کہ ہر سال 10 سمتبر کو خودکشی کے حوالے سے یہ دن منایا جاتا ہے۔
دوسری طرف اس قدر خود کشیوں کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لیے عالمی ادارے نے دنیا بھر میں حکومتوں پر زور دیا ہے۔ کہ وہ خودکشی کی روک تھام کے لیے مختلف پر گرامز پر کام کریں۔ اور لوگوں کو ذہنی تناﺅ پرقابو پانے میں مدد دیں۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سالانہ اوسطا 10 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔ زیادہ تر گھریلو زندگی میں خودکشی کے واقعات میں لوگ کون سا عمل زیادہ اختیار کرتے ہیں۔۔ اس کے بارے میں رپورٹ کے ذریعے اہم وجہ سامنے آئی ہے۔۔ کہ کیڑے ماراادویات پر پابندی کے ذریعے لوگوں کی زہر تک رسائی کم کرکے خودکشیوں کی شرح کو 50 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس علاوہ بھی خودکشی کے طریقے ہیں۔ لیکن زیادہ تر غریب ممالک میں خودکشی کا کی اہم وجہ غربت بے روزگای ازواجی زندگی میں بچوں کی پرورش کے مسائل ان ہی چیزوں کے سبب خود کشی کے واقعات رونما ہوئی ہیں۔ غریب ممالک میں غربت اور بے روزگای کے سبب خودکشی کے واقعات میں کیڑے مارا ادویات کے استعمال سے خودکشی کے زیادہ ترکیسز سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غریب ممالک میں خودکشی کا یہی طریقہ زیادہ معروف ہے۔
عالمی ادارے کی اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ خود کشی 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوان میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ اور 15 سے 19 سال کی لڑکیوں میں جذباتی مسائل کے باعث خودکشی کرنا بھی اہم وجہ ہے۔ اس عمر کے لڑکوں میں خودکشی سے اموات ٹریفک حادثات اور باہمی جھگڑوں کے بعد تیسری بڑی وجہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے تجاویز دیتے ہوئے کہا ہے۔ کہ دنیا بھر میں خودکشی کے مسئلے کی روک تھام ممکن ہے۔ بس حکومتوں کو اس حوالے سے حکمت عملیوں کومرتب کرنا چاہیے اور انہیں نیشنل ہیلتھ اور تعلیمی پروگراموں میں شامل کرنا چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت کے رپورٹ کے مطابق گزشتہ 45 سال میں خودکشی کے واقعات میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ خودکشی کی بنیادی وجہ ڈپریشن یعنی ذہنی تناﺅہے۔ عالمی صحت ادارے کے اعداد شمار کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں خودکشی کا تناسب باقی دنیا کی نسبت کم ہے۔ خود کشی کے موضوع پر ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2012 میں 13 ہزار افراد نے خودکشی کی جب کہ 2016 میں ساڑے 5 ہزار افراد نے خود اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ دنیا کا ہرمذہب مختلف انداز میں خودکشی نہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ پر اسلام وہ واحد مذہب ہے۔۔جس نے اسلامی تعلیمات کے ذریعے بہترین طریقے سے اس عارضی اور حقیقی دنیا میں فرق بتایا۔اسلام تعلیمات کے مطابق اس دنیا کی ہر شے ایک دن ختم ہو جائے گی۔ جس بات کو اب دنیا کا ہر سائنس دان تسلیم کرتا ہے۔ کہ اس دنیا کی ہر شے ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی۔ خدا کی طرف سے زندگی ایک بڑی نعمت ہیں۔۔اور اس زندگی میں پریشانی صرف خدا کی طرف سے آزمائش کی ایک صورت میں آتی ہیں۔۔ اس دنیا میں ہر شخص مختلف نوعیت کی پریشانی سے دوچار ہے۔ اس دنیا میں موجود لوگ امیر ہو یا غریب سب اپنی اپنی جگہ ایک امتحان کا سامنا کر رہیں ہے۔ جب ہی تو اللہ پاک نے انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے سے نوازا ہے۔۔۔اگر ہمارے معاشرے میں لوگوں میں احساس اور ہمدردی جاگ جائے۔ تو بہت سے لوگوں کی زندگی خوبصورت ہو جائیں گی۔۔۔ سب کو ایک دوسرے کا احساس محسوس کرنے کی اہم ضرورت ہے۔۔ اللہ پاک کاامتحان بھی تو اپنے بندوں کے لیے اس ہی سبب ہوتا ہے وہ ہم کو دل سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ رسول پاک کی زندگی ہم لوگوں کے لیے بہترین مثال ہے۔۔اللہ اپنے ان بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے۔۔ جو اللہ کے بندوں سے محبت کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں