امریکی صدر ٹرمپ: امریکی جمہوریت اور اقدار کو درپیش خطرات 52

کووڈ (Covid) کی صورت حال

کورونا وائرس کے ذریعہ سے پھیلنے والی بیماری کے مسائل اور اس کے اثرات سے آپ سب خوب واقف ہیں۔ یہ روز کی کہانی۔ بشرطیکہ آپ کو صحیح خبر دی جارہی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کئی جگہ آپ کو صحیح خبر نہیں دی جارہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر کی صورتِ حال ی بعض اعداد و شمار کی روشنی میں یوں ہے:
ساری دنیا: متاثرین: ایک کروڑ تریسٹھ لاکھ۔۔۔ مصدقہ اموات : ساڑھے چھ لاکھ ۔ دنیا میں پہلا نمبر
پاکستان: متاثرین: دو لاکھ پچھتر ہزا۔۔۔۔۔مصدقہ اموات: پانچ ہزار آٹھ سو ۔ دنیا میں بارہواں نمبر
بھارت: متاثرین: پندرہ لاکھ تیس ہزار۔۔۔۔مصدقہ اموات: چونتیس ہزار۔۔ دنیا میں تیسرا نمبر
کینیڈا:متاثرین: ایک لاکھ چودہ ہزار۔۔۔۔مصدقہ اموات: آٹھ ہزار نو سو۔دنیا میں بایئسواں نمبر
چین:متاثرین: تراسی ہزار نو سو۔۔۔۔۔۔مصدقہ اموات: چار ہزار چھ سو۔ دنیا میں ستائسواں نمبر۔ واضح رہے کہ یہ بیماری چین میں شروع ہوئی تھی
ہم نے یہاں صرف ان اہم ممالک کا ذکر کیا ہے جن سے ہمارا براہِ راست تعلق ہے یا جن کے بارے میں جاننا آپ بھی ضروری جانیں گے۔ مکمل تفصیلات کے لیئے اس لنک پر جا سکتے ہیں:
https://tinyurl.com/ub9gvyc
یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ قاریئن ان اعداد و شمار کو ماننے میں احتیاط برتیں۔ کیونکہ یہ اعداد و شمار ہر ملک کی حکومت فراہم کرتی ہے۔ اور اس میں داخلی سیاسی اور بین الاقوامی مصلحتیں بھی آڑے آتی ہیں۔ مثئلاً امریکہ کے صدرامریکہ کے بارے میں ان اعداد و شمار کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ اس بات پر مصر ہیں کہ یہ بیماری ایک عارضی معاملہ ہے اور لوگوں کو زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس معاملہ میں ان کے اپنی ریاستوں اور شہروں سے شدید اختلافات ہو رہے ہیں۔ وہ ضد کر رہے ہیں کہ شہروں میں سماجی اور باہمی اختلاط سے پابندیاں اٹھائی جایئں ، اور وہ خود بھی حفاظتی ماسک پہننے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جن جگہوں پر بیماری کا زور ٹوٹا تھا وہاں پھر سے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
یہی کچھ حال پاکستان کا بھی ہے۔ وہاں بھی عمران خان اور ان کے حکومتی افسران حیران کن مشورے دیتے رہے۔ وہاں کے اعداد و شمار کے بارے اور بھی احتیاط کی ضرور ہے۔ یہ اعداد و شمار کے مقابلے کا کھیل نہیں ہے۔ یہ ہر انسان اور ہر شہری کی جان کا معاملہ ہے۔ حکومت کے ذہنی خلفشار اور بے تدبیر ی سے ایک جان کا ضائع ہونا بھی گناہِ کبیرہ ہے۔
ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیںکہ اس معاملہ میں نوسر بازی اورعطائی ٹوٹکوں سے کوئی کام نہیں چلے گا۔ یہ ایک شدید موزی اور تکلیف ہ بیماری ہے۔ اگر خدا نخواستہ ہم یا آپ بیمار ہو کر بچ بھی گئے تو بیماری کا زمانہ بہت ہی شدید تکلیف میں گزرے گا۔ بیماری کے دنوں میں آپ کو ایک کمرے میں مقید ہونا پڑے گا، اگر ہسپتال میں کمرہ نہ ملا( اور کمرہ ملنے کا امکان بہت کم ہے) تو آپ کے اہلِ خانہ کو آپ کے کمرہ میں داخل ہونے تک کی اجازت نہیں ہوگی۔ آپ کو ضروری حاجتوں میں بھی سخت دشواری کا سامنا کرنا ہوگا۔
یہ بھی یاد رہے کہ بیمار پڑنے والوں میں سے ہر پانچ افراد میں سے چار میں علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ یعنی ایک شخص میں علامتیں نہ بھی ہوں ، جب بھی وہ ودسروں سے میل جول میں بیسیوں کو بیمار کر سکتا ہے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے چہرہ پر جوماسک لگاتے ہیں۔ وہ دوسروں کو آپ سے محفوظ کر سکتا ہے لیکن آپ خود محفوظ نہیں ہو سکتے۔ اس لیئے لازم ہے کہ عوامی اختلاط کی ہر جگہ پر ہر شخص ماسک پہنے۔ ایک دوسرے سے دور رہے اور بار بار جب بھی موقع ملے ہاتھ دھوتا رہے، یا طبی محلول سے ہاتھ صاف کرتا رہے۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ اس وقت اس کا پھیلاﺅ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں ہے۔ کہیں کم کہیں زیادہ۔ اور یہ کہ بعض ترقی یافتہ اور با علم ممالک میں بھی احتیاطیں ٹوٹتی رہتی ہیں۔ مثئلاً پہلے یہ خیال تھا کہ یہ بیماری صرف عمر رسیدہ عمر رسیدہ لوگوں میں پھیلتی ہے۔ لیکن شواہد ہیں کہ نوجوانوں کو بھی شکار کرتی ہے۔ یہاں کینیڈا میں جب پابندیاں کہیں کچھ نرم کی گیئں تو نوجوان اس کا شکار ہونے لگے۔ابھی کل ہی کینیڈا نرمی کی وجہہ سے ایک گھر میں دو سو لوگ بلا لیئے گئے۔ سب پر کڑا جرمانہ ہوا۔
یہ بات اہم ہے کہ جب تک اس بیماری کا ٹیکہ نہ دریافت ہو جائے احتیاط ضروری ہے۔ٹیکہ کی دریافت اور ایجاد کا بھی کوئی طلسماتی یا جادوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ کیونکہ جس ملک میں بھی یہ دریافت ہوگا وہ لازماً پہلے اپنے شہریوں کی فکر کرے گا۔ مثئلاً جو ں ہی برطانیہ میں یہ خبر آئی کہ شاید وہاں سائنسدانوں کسی دریافت کے قریب ہیں، حکومت نے ٹیکہ ساز ادارے سے فوراً ہی دس لاکھ ٹیکے حکومت کے لیئے محفوظ کر لیئے ۔ یہ بھی لازم ہے کہ ٹیکے سب سے پہلے ڈاکٹروں ، نرسوں ، اور بیماروں کی فوراً مدد کرنے والوں کو فراہم کیئے جایئں گے۔ ان کی لاگت بھی ہوگی۔ کچھ حکومتیں تو شاید یہ اپنے شہریوں کو مفت لگایئں جیسا کینیڈا میں ہو تا ہے۔ لیکن دنیا کی ہر حکوومت کو بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔ چاہے پاکستان جیسے ملک کو اپنے دفاعی اخراجات کم بھی کرنا پڑیں۔
آخری بات یہ ہے کہ یہ ایک ناگہانی آفت ہے اس کا مشترکہ اور غیر خود غرضانہ مقابلہ اور اس بارے میں ایک دوسرے کا خیال ہم پر بحیثیت انسان لازم ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں