نواز شریف کا ملک دُشمن بیانیہ! 90

کیا اُمت مسلمہ متحد ہے؟

پاکستان سمیت عالم اسلام اس وقت کسی بھی مذہبی تہوار سمیت موجودہ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی شدید ابتر صورت حال کے پیش نظر کسی ایک نکتہ پر متفق نظر نہیں آتا۔ ہمارے پورے سال میں منائے جانے والے مذہبی تہواروں کی تاریخ پر کوئی اتفاق نہیں پایا جاتا۔ ہر سال، ماہ رمضان کا چاند نظر آنے یا نہ آنے کے حوالے سے جزیزہ نما عرب اور مسلمانان ہند و پاکستان سمیت دوسرے اسلامی ممالک میں کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ کہیں روزہ ایک دن پہلے رکھا جاتا ہے تو کہیں دوسرے دن اور کہیں ایک ہی ملک میں ایک دن روزہ رکھنے پر اتفاق نہیں کیا جاتا۔ اس کے بعد عبدالفطر پر بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ غیر اسلامی ممالک میں رہنے والے مسلمان جب اپنے مالکان سے عید کی رخصت طلب کرتے ہیں تو ان کو کنفرم تاریخ کا پتہ نہیں ہوتا۔ جس پر بعض اوقات ان کو خفگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کئی ایک ایسے مسائل ہیں جن سے ان ممالک میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ عہد حاضر کی ضرورت ہے کہ علمائے اکرام عام زندگی میں پیش آنے والے ان فقہی مسائل پر جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔ جدید سائنس اگر ہمیں کئی ہفتوں، مہینوں اور سالوں کے موسموں کے حالات بتاتی ہے۔ پوری دنیا کے لوگ بشمول مسلمان سائنسی ایجادات سے مستفیض ہو رہے ہیں جن میں ہمارے پانچ وقت کے نمازوں کے اوقات گھڑیوں کے مطابق طے کئے جاتے ہیں اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جب کہ ماہ رمضان کا چاند دیکھنے پر متفق نہیں ہیں۔
اسلامی تاریخ کے مطالعہ اور جدید سائنس سے استفادہ کرتے ہوئے تاریخیں مقرر کر دی جائیں۔ نمازوں کے پانچ پانچ سال کے کلینڈر آچکے ہیں۔ اسلامی فقہی مسائل کے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے اجتہاد کا اہتمام کیا جائے۔ تمام عالم اسلام متفق نظر آئے۔ تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہوں۔ بہت ساری ایسی بدعات ہمارے معاشروں میں سرائیت کر چکی ہیں جن کا دین سے زیادہ کلچر سے تعلق ہے۔
کرونا وائرس کے پیش نظر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے جو گائیڈ لائن جاری کی ہوئی ہیں ان پر ساری دنیا میں عمل کیا جارہا ہے جس سے کئی ممالک نے اس کو کنٹرول کرنے میں مدد لی ہے۔ اس میں سب سے اہم گائیڈ لائن ”دوسروں سے دوری یا الگ تھلگ“ رہنا ہے۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس حفاظتی تدبیر سے وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ کرونا وائرس کی کوئی ویکسین ابھی تک ایجاد نہیں ہوئی۔ کہتے ہیں کہ ویکسین تیار کرنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ اس لئے اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے آئسولیشن یا سوشل ڈسٹنس رکھنا واحد حل ہے۔
حکومت پاکستان یہ بات سمجھانے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے اور اس سلسلے میں مختلف اقدامات کررہی ہے لیکن ہماری ناخواندہ عوام کو سمجھانا بہت مشکل ہے۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتر، شاپنگ مالز، فلائٹس، ٹرانسپورٹ غرض یہ کہ ہر قسم کے میل جول پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پاکستان کے تمام مکتبائے فکر سے تعلق رکھنے والے علماءاکرام نے متفقہ طور پر فتویٰ جاری کیا ہے کہ جمعہ کی نماز گھروں میں پڑھیں تاکہ اجتماعی عبادت سے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ حکومت نے بھی اس فتویٰ کا اعلان کردیا مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ چند نیم ملا اس کے خلاف بھی عجیب و غریب منطقیں پیش کررہے ہیں جس سے لوگوں کو کنفیوژ کیا جارہا ہے۔ اور جمعہ اجتماعی طور پر ادا کرنے کی متعلق دلیلیں دے رہے ہیں۔ ہمارے عوام کا بالعموم رویہ ہے کہ اللہ مالک ہے یعنی بیماری کے خلاف تدبیر نہیں کرنی اور سب کچھ اللہ پر چھوڑ دینا ہے۔ یہ جاہلیت کی نشانی ہے پوری دنیا میں دیکھنے میں آیا ہے کہ اجتماعی نوعیت کے تمام مقامات مذہبی عبادت گاہوں سمیت تا حکم ثانی بند کر دیئے گئے ہیں۔ اور اس پر کسی مخالف سیاسی یا مذہبی جماعت کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ عوام حکومت کی بنائی ہوئی گائیڈ لائن پر بھرپور طریقے سے عمل کررہے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتیں اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے حکومت پر تنقید کے نشتر برسا رہی ہیں اور ان کا ساتھ نام نہاد بکاﺅ میڈیا بھی دے رہا ہے اور حکومتی اقدامات جس سے چن چن کر غلطیاں نکال رہے ہیں اور پوائنٹ اسکورنگ کررہے ہیں۔ حکومت پر تنقید اور مشورے کی سب سے عمدہ مثال شہباز شریف نے پیش کی ہے کہ وزیر اعظم میڈیا کو ساتھ لے کر چلیں اور میر شکیل الرحمان کو فوری طور پر رہا کردیں بلکہ موصوف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اس کی ضمانت خود کروائیں۔ شہباز شریف یہ بتانا پسند کریں گے کہ شکیل الرحمان کسی ویکسین کا نام ہے یا پاکستان بانان رپبلک ہے۔ جس میں کوئی قانون نہیں ہے۔ انہوں نے ریاست کو یرغمال بنا رکھا ہے نیب کے بنائے ہوئے کیسز کے نتیجے میں قفص سے تمام پرندے اڑ چکے ہیں اور اونچی منڈیروں پر بیٹھ کر بغلیں بجا رہے ہیں اور ہمارے عدالتی اور انتظامی نظام کو جوتے مار رہے ہیں۔
پاکستان کے ارباب اختیار اور فیصلہ ساز اداروں سے استدعا ہے کہ ہمارے ملک کے دیمک زدہ نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔ ہمارے پسماندہ اور جاہل معاشرے کو درست سمت میں ڈالنے کے لئے یقین کریں۔ جمہوریت بے کار طرز حکومت ہے۔ ایک دفعہ ہمت کرکے چھوٹا انقلاب برپا کردیں۔ راتوں رات یہ قوم تیر کی طرح سیدھی ہو جائے گی۔ یہ کینسرزدہ ہے اس کا فوری آپریشن درکار ہے۔ وگرنہ ہمارا معاشرہ مزید زبوں حالی کا شکار ہوتا جائے گا اور پسماندگان کے تمام زاویوں سے نیچے چلا جائے گا۔ ایک لوہار کی اور سو سنار کی والا فارمولا اپنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں