تماشا دکھا کر مداری گیا؟ 58

ہالی وُڈ، لالی وُڈ، آئی ایس پی آر، میڈیا اور سیکیوریٹی ریاست

ممکن ہے کہ آپ اس تحریر کے عنوان پر چونکیں۔ اس میں کچھ مقدس نام بھی شامل ہیں۔ یہاں یہ واضح کردیں۔کہ یہاں سیکیوریٹی اسٹیٹ سے مراد صرف پاکستان ہی نہیں ہے۔ اس میں امریکہ اور بھارت کا بھی ذکر ہوگا۔ بات یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ یہ تجسس رہتا تھا کہ فیض احمد فیض سمیت کئی پاکستانی ادیب اور صحافی اپنے اپنے وقت کی سیکیوریٹی ایجنسی اور افواج وغیرہ سے کیو ں منسلک رہے تھے۔ یہی سوال میجر ابن الحسن ، زیڈ اے سلیری، اور صدیق سالک کے بارے میں بھی ذہن میں آتے تھے۔
فیض صاحب کا نام تو اور بھی فکر مند کرتا رہا ہے۔ وہ سنہ 1942ءمیں فوج میں بھرتی ہوئے، بھر برطانوی فوج کے شعبہ علاقات عامہ کے ڈایئریکٹر بنے، اور بعد میں انہیں ان کی خدات کی بنا پر OBE یا آرڈر آف برٹش ایمپائیر سے نواز ا گیا۔ اس دوران انہوں نے میجر جنرل اکبر خان کے ساتھ کام کیا۔ انہوں نے سنہ 47 میں آرمی چھوڑ دی اور پاکستان میں رہے۔
فیض صاحب کے ساتھ ہی ہمیں خود اپنی افواج کے ادارے ISPR کے بارے میں بھی تجسس رہا۔ ہم ہمیشہ یہ سوچتے تھے کہ یہ یا تو برطانوی افواج کے شعبہ علاقات عامہ سے متائثر ہوا ہوگا یا اس پر ضرور امریکی افواج کا اثر ہوگا ، جن کے ساتھ ہماری افواج کا گہرا تعلق رہتا ہے۔ خود آئی ایس پی آر کی اپنی ویب سائٹ پر اس بارے میں کافی معلومات ہیں۔ یہ ادارہ سنہ 49 میں قائم ہوا ۔ اس کا بنیادی مقصدہماری افواج کی سب شاخوں کے بارے میں میڈیا سے تعلقات کو استوار کرنا تھا۔ اب اس کے مقاصد میں درج ہے کہ، اس کام افواج کے بار ے شہری میڈیاکو خبریں فراہم کرنا ہے اور ان خبروں اور اطلاعات کو منظم طور پر پھیلا نا اور چلانا ہے۔ یہ ادارہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا پر نظر رکھتا ہے تاکہ پاکستانی افواج کے بارے میں منفی اطلاعات سے حفاظت کی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ افواج کے بارے میں نغمے ، ڈرامے ، اور جنگی فلمیں بنانے کے لییے رقوم بھی فراہم کرتا ہے۔
آپ کو ایک نغمہ، ”ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے “ ، یا د ہوگا۔ اس ادارے نے جن فلموں اور ڈراموں کے بنانے اور نشر کرنے میں قیاساً مدد کی وہ کچھ یوں ہے:
Alpha, Bravo, Charlie، شاہ پر، پی این ایس غازی، وار، The Glorious Resolve، ایک تھی مریم، شیر دل، عہدِ وفا، عہد وفا (دوئم )، وغیر۔،جنگی نغموں کی تو ایک طویل فہرست ہے ، جن کو پاکستان کے معرو ف فنکاروں نے پیش کیا ہے۔ جن میں ، نورجہاں، راحت فتح علی خان، اذان علی، جنید جمشید، علی ظفر، شفقت امانت علی، جیسے نام شامل ہیں۔ نغموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ کچھ یوں ہیں: رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو، ہم پاکستان، قائدِ ذی وقار، بڑا دشمن بنا پھرتا ہے، یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے، کشمیر کو حق دو بھارت ، ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے، وغیرہ۔۔ اس کے علاوہ افوج کے بارے میں اس نے کئی دستاویزی فلمیں بنائی ہیں۔
حال ہی میں ہماری نظر سے کینیڈا کے قومی میڈیا ادارے، CBC کے تین قسموں پر مبنی ایک پروگرام گزرا۔ جس کا عنوان Myths on Screen ہے۔ جس میں بہت تفصیل سے واضح کیا گیا ہے کہ دوسر جنگِ عظیم سے اب تک امریکی افواج نے کس طرح سے ہالی و±ڈ کے بہترین اداکاروں، ہدایت کاروں، اور قلم کاروں سے تعاون حاصل کیا۔ اس کا بنیادی مقصد خود امریکہ کے عوام کے ذہنوں پر نفسیاتی طور پر اثر انداز ہونا تھا، تاکہ سیاست دان عوام کے دباﺅ میں افوج کی حمایت میں فیصلے کریں اور خطیر رقومات فراہم کریں۔ یہ سلسلہ دوسری جنگِ عظیم، ویت نام کی جنگ، پہلی اور دوسری عراقی جنگ سے لے کر، اوسامہ بن لاڈن، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اب بھی جاری ہے۔
اس پروگرام کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت خود کو ایک سیکیوریٹی ریاست سمجھتی ہے، اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیئے مسلسل، میڈیا کے بندو بست اور نفسیاتی جنگ میں مشغول رہتی ہے۔ اور میڈیا سے ہر طرح کا تعاون حاصل کرنے کا انتظام کرتی ہے۔ اس نے ان مقاصد کو امریکی سرحدوں سے نکال کر بین الاقوامی حدوں میں بھی پھیلا رکھا ہے۔
اس پروگرام پر، Tom Secker کی اہم کتاب، National Security Cinema کا بڑا اثر ہے۔ اس پروگرام کو دیکھ کر اور کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو فلمیں ان مقاصد کے لیئے بنائی گئیں اور آپ نے دیکھی ہوں گی اور آپ ان سے متائثر ہوئے ہوں گے ان میں کچھ نام یہ ہیں:
The Wizard Of.. Fight we Why OZ…, Bataan, Animal Farm ، وغیرہ شامل ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ کو اب تک کی مختصر فہرست میں، George Orwell کی معروف تحریر Animal Farm دیکھ کر حیرانی ہوئی ہو۔۔ جورج آرویل کے انتقال کے بعد امریکی CIA نے اس کے حقوق خفیہ طور پر حاصل کیئے ، اور ان پھر اس کو اس وقت کے روسی سوشلسٹ نظام کے خلاف پر وپیگنڈا کے لئے کامےابی سے استعمال کیا۔ اب ناظرین اور عوام اس فلم کے پپیغام ہی کو جورج آرویل کا پیغام مانتے ہیں۔
ہالی و±ڈ کی ایک اور معروف فلمTen Commandments کو بھی ایک نرم پروپیگنڈا پیغام کے لیئے استعمال کیا۔بعد کی جن فلموں ، اور ٹیلی ویژن پرگراموں کو امریکی سیکیوریٹی ریاست، فوجی اور CIA کے مقاصد کے لیئے استعمال کیا گیا ان میں کچھ یوں ہیں:
The FBI, The Green Berets, The Deer Hunter, Coming Home, Rambo, Top Gun, True Lies ان کے بعد دہشٹ گردی کے خلاف جنگ کے نام پر یہ فلمیں شامل ہیں:
World Trade Center, The Hurt Locker, Zero Dark Thirty
اس کے ساتھ نرم پروپگنڈا کے لیئے کئی فلمیں بھی بنائی گئیں۔ جب آپ کم از کم مندرجہ بالا فلموں کے بارے میں غور کریں گے تو دیکھیں گے کہ ان فلموں میں کن معروف ترین اداکاروں اور ادا کاراﺅں نے معاونت کی۔
اب آپ غور کریں کریں تو سمجھ سکیں گے کہ کس طرح پاکستانی ISPR نے اپنا پروپگنڈا ماڈل اور پروگرام طے کیا ہوگا۔۔ واضح رہے کہ ہماری افواج کے کئی بڑے افسران کو امریکہ میں تربیت دی جاتی ہے۔ اور وہ امریکہ کی کامیابیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت جسے پاکستانی قوم پرست اور ISPR اپنے شدید دشمن کے طور پر پیش کرتے ہیں ، اس کھیل اور اس مہارت میںبہت دور ہے۔ اس نے ابھی ایک ہی دو سال سے نفسیاتی جنگ کے نئے نظام پر توجہہ دی ہے۔اور ہماری طرح کا نظام بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس کا میڈیا اس پر زور ڈالتا رہتا ہے کہ اسے پاکستان کی ISPR کی کامیابی سے سبق حاصل کرنا اور سیکھنا چاہیے۔ یہ ISPR کی زبردست کامیابی ہے۔
آخر میں یہ واضح کردیں کہ آئی ایس پی آر، اس جنگ میں پاکستانی میڈیا کے صحافیوں کی آزادی کے شدید خلاف ہے۔ آپ بارہا صحافیوں کی گمشدگی، ان پر تشدد، اور ان کے قتل تک کی خبریں سنتے ، پڑھتے، دیکھتے رہیں۔ اس کا الزام اکثر نامعلوم افراد پر ڈلا جاتا ہے۔ غیر جابندار مبصر اس کو اس ادارے سے جوڑے ہیں۔ اس ادارے کی ساری کامیابیوں کا یہ سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں