اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) اسٹیبلشمنٹ جو کہ غیر سیاسی ہو چکی ہے، آج بھی ملک میں کتھ پتلیوں کا تماشہ عوام کو دکھانے میں مصروف ہے۔ وہ نواز شریف جنہیں گزشتہ ادوار میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ اپنے تمام مقدمات میں ریلیف ملتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جس طرح نواز شریف پر کڑا وقت تھا، آج عمران خان کو بالکل اسی صورتحال کا سامنا ہے۔ آج مسلم لیگ نواز کے لیڈران اور کارکنوں کو مستقل ریلیف مل رہا ہے اور ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات تیزی سے ختم کئے جارہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ الزامات ثابت نہیں ہوسکے۔ وہ جج صاحبان جو نواز شریف کے خلاف پہ در پہ فیصلہ دے رہے تھے وہی آج بانی پاکستان کی تصویر کے زیر سایہ انصاف کے تقاضہ پورے کررہے ہیں اور کل تک جو عمران خان آنکھ کا تارا تھا وہ پابند سلاسل ہے یعنی یہ ثابت ہو گیا کہ ججز، جنرل، جرنلسٹ مل جل کر استحکام پاکستان کے لئے کام کررہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا کہ فروری میں الیکشن ہو سکیں گے یا نہیں اور اگر ہوئے تو نتائج کیا ہوں گے اور نہ ہوئے تو ملک کی صورتحال کو کون سنبھالے گا۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
190











