اسلام آباد: نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافہ کیے جانے کا امکان ہے جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والے افراد پر عائد اضافی سرچارج یا جرمانہ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
اسی طرح برآمد کنندگان کے لیے ریلیف پیکیج کے تحت ایک فیصد ایکسپورٹ ٹیکس ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
ٹیکس حکام کے مطابق حکومت بجٹ تقریر کے دوران برآمدی شعبے کے لیے خصوصی اقدامات کا اعلان کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) میں منتقل کیا گیا تھاجس کے نتیجے میں ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی جگہ برآمدی آمدن پر کم از کم 2 فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا جس میں ایک فیصد کم از کم ٹیکس اور ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے.
صنعتی و برآمدی حلقوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے ساتھ اختیاری بنیادوں پر بحال کیا جائے، سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور خسارے کا سامنا کرنے والے برآمد کنندگان کو مناسب ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے۔
علاوہ ازیں نارمل ٹیکس رجیم میں رہنے والوں کو ایف بی آر کی غیر ضروری کارروائیوں سے تحفظ دینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے جبکہ اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی 2026 سے اسٹاک مارکیٹ پر نافذ ٹیکسوں میں بھی کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا۔













