ان دنوں پاکستان ڈار خاندان کی لذت آمیز کارناموں کی وجہ سے عالمی دنیا میں خبروں کی زینت بنا ہوا ہے اور بدقسمتی سے بڑی دھوم دھام سے ریاست کی بالخصوص اور اس پر قابض حکمرانوں کی بالعموم اس وقت رسوائی اور جگ ہنسائی ہو رہی ہے تو دوسری جانب خود پاکستان میں اس اسکینڈل کو لے کر صحافی دو گروپوں میں بٹ چکے ہیں جن میں سے ایک حق و صداقت کی بات کرتے ہوئے اس افسوسناک اور ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے اس اسکینڈل کے تمام کرداروں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں اور ساتھ اس تفتیش کو ہر طرح کی سیاسی مداخلت و اثر و رسوخ سے بچانے کے لئے اسحاق ڈار اور ان کے صاحبزادے علی ڈار کو اپنے اپنے عہدوں سے فوری طور پر استعفیٰ دینے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اپنی اپنی پوزیشن سنبھالنے سے شکوک و شبہات پیدا ہوں گے اس اسحق ڈار کو ڈپٹی وزیر اعظم اور علی ڈار کو پنجاب کے وزیراعلیٰ کے مشیر کے عہدے سے الگ ہو جانا چاہئے تاکہ اس اسکینڈل کی تحقیقات آزادانہ طریقے سے ہو سکے اور تفتیش بھی پنجاب پولیس کے بجائے ایف آئی اے سے کروائی جائے جب کہ دوسرے گروپ کی جانب سے پوری کوشش کی جارہی ہے کہ بدنام زمانہ اس اسکینڈل سے ڈار خاندان کو بری الزماں قرار دیا جائے اور نہ ہی اسحاق ڈار اور ان کے صاحبزادے علی ڈار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا سکے جس کے لئے ان لفافہ صحافیوں کا ستدلال یہ ہے کہ چونکہ یہ ملزموں کا ذاتی یعنی انفرادی فعل ہے ان کی سزا کسی اور کو دینا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے جب کہ اسحاق ڈار اور ان کا بیٹا تو پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ہی تو یہ سارے کے سارے ملزمان پکڑے گئے جنہوں نے ان دونوں غیر ملکی لڑکیوں کو تاوان کے لئے اغواءکرنے کے علاوہ گینگ ریپ کرنا جیسا سنگین اور گھناﺅنا جرم کیا تھا اسحاق ڈار اور ان کے صاحبزادے نے ان جنسی درندوں کو پولیس کے ذریعے ضرور گرفتار کروایا مگر ان کا منطقی انجام اس طرح کے جنسی درندوں کے ساتھ پنجاب پولیس کے ذریعے ویسا نہیں کروایا جس طرح دوسرے جنسی درندوں کو سی ٹی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاک کرکے کرتی ہے اسی سے ڈار خاندان کے اس جنسی اسکینڈل میں مداخلت کے شواہد ملتے ہیں جنہیں لفافہ صحافی ان ملزموں کا ذاتی اور انفرادی فعل ٹھہرا کر ڈار خاندان کی وکالت کررہے ہیں کہ ان سے استعفیٰ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ پاکستان ہے جہاں کی سیاست میں اخلاقیات کا دور دور تک کوئی شائبہ تک نہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کسے کو چھوا ہی نہیں ہے تو غلط نہیں ہو گا ساری دنیا میں کسی وزیر اعظم وزیر یا پھر کسی بھی سرکاری آفس کو ہولڈ کرنے والے کا کوئی جھوٹ پکڑا جائے یا ان کے ذاتی فعل و قول میں کوئی تضاد پایا جائے تو اس کی چھٹی ہو جاتی ہے۔ اس منصب سے ہی نہیں بلکہ پورے سیاست سے۔۔۔ وہ سیاست کے لئے نا اہل قرار دے دیا جاتا ہے مگر پاکستان کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے کیونکہ یہ ری پبلک بنانا ہے یہاں کے عوام ابھی تک آزاد نہیں یہاں غریب کے لئے ایک اور اشرافیہ کے لئے دوسرا قانون موجود ہے جس کی زندہ مثال موجودہ جنسی درندگی کے کیس کے ان با اچر ملزموں کا پنجاب کے ظفر چٹھہ کے سی ٹی ڈی کے ہونے کے باوجود زندہ ہونا ہے، معلوم نہیں ظفر چٹھہ کا اپنا ضمیر بھی زندہ ہے کہ نہیں جو ان کا دھرا معیار بھی اس کیس میں کھل کر سامنے آگیا ہے اس کے بعد بھی لفافہ صحافی اسحاق ڈار کے استعفیٰ کے معاملے میں ان کی وکالت کررہے ہیں انہیں شرم آنی چاہئے اس طرح کی گھٹیا حرکتیں کرتے ہوئے پاکستان کی جگ ہنسائی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ہی پاکستان کی سلامتی اور فلاح مضمر ہے۔
7













