قائد اعظم محمد علی جناح کے احکامات کو کسی اور نے نہیں بلکہ سرکاری افسروں نے قدموں کی ٹھوکر بنایا۔ بانی پاکستان سرکاری افسروں کو ریاست کے ماتحت اور وفادار کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے تھے وہ انہیں صرف اور صرف سرکاری احکامات کی تعمیل کرتے دیکھنا چاہتے تھے ان کے جرح کرنے سیاست کرنے یا وزراءکو مشورہ دینے کے بالکل بھی حق میں نہیں تھے وہ سرکاری افسروں کو ان کی اوقات میں رکھنے کے عادی تھے اور ابتداءمیں جب بعض بڑے سرکاری افسروں نے امور مملکت میں مداخلت کی تو اس پر ایک بڑے سیکیورٹی افسر کا انہوں نے غصے میں بطور سزا ڈھاکہ میں ٹرانسفر کروایا مگر ان احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا تو بگاڑ کی ابتداءتو پاکستان کے وجود میں آتے ہی پڑ گئی یعنی نوزائیدہ پاکستان میں ہی سیاستدانوں پر سرکاری افسروں کی جانب سے قدغن لگانے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں ہوا کے معمولی جھونکوں سے حکومتیں گرتی بھی رہی اور بنتی بھی رہی، یہ صدمے دوست نما دشمنوں نے ہی وطن عزیز کو دیے اور یہ سلسلہ کم یا ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں بتدریج اضافہ ہی اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک سقوط ڈھاکہ کا فسوسناک سانحہ رونما ہوا اور ملک دولخت ہوا جس کا ذمہ وار سیاستدانوں کو ٹھہرایا گیا اور اس کے بعد بے لگامی اس حد تک بڑھ گئی کہ ایک منتخب وزیر اعظم بھٹو کو جھوٹے مقدمے اور عدالت کو پریشر میں لا کر پھانسی دے دی گئی جس کے بعد ایک اور وزیر اعظم کا تختہ الٹا گیا اور انہیں بھی نا حق قید کردیا گیا اور سلسلہ آگے ہی بڑھتا رہا کیونکہ انہیں نہ کوئی روکنے والا تھا اور نہ ہی ٹوکنے والا جس کے نتیجے میں ملک کے سب سے زیادہ مقبول وزیر اعظم عمران خان کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا، وطن عزیز کو ایک کے بعد ایک گہرا زخم کسی دشمن کی جانب سے نہیں بلکہ اپنے نادان دوستوں کی جانب سے ہی ملتے رہے اس لئے کہ وطن عزیز میں اب کوئی بھی ایسا سرکاری ادارہ باقی نہ بچا جو آئین کے مطابق اپنا کام کر سکے۔ سرکاری مشینری بشمول عدلیہ اپنا وقار کھو چکی ہے، پارلیمنٹ اور جمہوری نظام صرف دکھاوے کی حد تک رہ گیا ہے ان 79 برسوں میں وطن عزیز میں جمہوریت کا شائبہ تک نہیں آیا، کہنے کو یہاں انتخابات ہوتے ہیں مگر اس کے نتائج عوامی ووٹوں کی تعداد کے بجائے سرکاری افسروں کی مرضی کے مطابق آتے ہیں، اسی وجہ سے پاکستانی عوام کو بھی اپنے ووٹوں اور خود اپنی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہے اور جو پڑھا لکھا اور کاروباری طبقہ ہے انہیں اس بات کا بھی اچھی طرح سے فہم و ادراک ہو چکا ہے یہ جمہوریت یہ انتخابات آزاد معاشروں اور آزاد ملکوں کو زیب دیتے ہیں، ہم جیسے غلام معاشرے والے ملکوں کو یہ بالکل بھی زیب نہیں دیتے، ہم پچھلے 79 برسوں سے اسی طرح دو نمبری آزادی اور دو نمبری جمہوریت کے سائے میں جیتے چلے آرہے ہیں۔ 79 سال پہلے صرف ملکیت بدلی تھی چہرے تبدیل ہوئے تھے ہمیں کوئی حقیقی آزادی نہیں ملی تھی، حقیقی آزادی تو ہم سے الگ ہونے والے بنگلہ دیش کو ملی جنہیں کبھی ہم ٹکوں کا طعنہ دیا کرتے تھے ان کے ٹکے بھی آج آسمان پر پہنچ گئے ہیں، ہمارا روپیہ ٹکے سے بھی نیچے گر گیا کیونکہ وہاں جمہوریت ہے، وہاں کے سرکاری افسران عوام کے خادم بن کر کام کررہے ہیں، ہمارے سرکاری افسروں کی طرح سے حاکم بن کر نہیں۔۔۔ جب تک پاکستان کے سرکاری افسروں کا یہ مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہو گا، پاکستان اسی طرح سے سسکتا رہے گا، حکمرانوں کو اس مرض کا علاج تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی میں پاکستان کی سلامتی مضمر ہے۔
8












