Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /home/pakistantimes/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 341
۔۔۔ جنہیں تصویر بنا آتی ہے 821

”ٹھگز آف پاکستان“

ناظرین یا تمکین آپ کو معلوم ہے کہ کم بخت ہندوستان ہر معاملے میں دعویٰ کرتا ہے کہ وہ پاکستان سے برتر ہے اور خصوصاً ہماری معصوم سی کرکٹ ٹیم کی درگت بنا کر اور افغانستان اوربنگلہ دیش جیسے اپنے پالتوں سے پٹوا کر بغلیں بجا رہا ہے کہ۔۔۔ وہ مارا۔ اس کے علاوہ گیدڑ بھبھکیاں بھی دیتا ہے کہ میں سرجیکل اٹیک کروں گا۔ میں پاکستان میں گھس بیٹھیئے داخل کردوں گا۔ (ماشاءاللہ ہمیں ہندوستان کے ان گھس بیٹھیﺅں کی حاجت نہیں ہم اس معاملے میں خود کفیل ہیں) غرض کہ یہ ہر ہر معاملے میں ہمیں نیچا دکھانے کی تگ و دو کرتا رہتا ہے کیونکہ ابھی حال ہی میں اس کے نمک خوار اس ملک کے اقتدار سے فارغ ہونے میں جس کا اسے بڑا قلق ہے جسے اربوں ڈالر کی آسامی اس کے ہاتھوں سے نکل گئی اور اگر وہ اب اس کے اربوں کھربوں ڈالر دبا کر بیٹھ جائے تو یہ دکھیا نہ داد کر سکتے نہ فریاد کیونکہ ان کے اصل حلف ناموں اور جعلی ایفی داویٹس میں تو اس کا ذکر ہی نہیں ہے کہ ہمارے پلے اتنے پیسے ہیں اور جو کہ کچھ ہے وہ ہمارے ”پلوں کا ہے“ دکن حیدرآباد میں بچوں کو پلا کہتے ہیں۔ آپ اپنا ذہن کسی اور طرف نہ لے جائیں مگر صاحب ہم نے ایک معاملے میں ان کی بولتی بند کردی ہے۔ بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان ایک فلم بنا رہے ہیں ”ٹھگز آف ہندوستان“ جس کی نمائش ابھی کچھ دن پہلے ہی ہوئی ہے مگر پاکستان میں ”ٹھگز آف پاکستان“ کی نمائش بہت عرصے پہلے ہو چکی تھی۔ ابتداءمیں اس فلم نے باکس آفس پر کچھ زیادہ رش نہیں لیا مگر 25 جولائی 2018ءکے بعد تو اس کے کھڑکی توڑ ہفتے شروع ہو گئے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ہندوستانی ٹھگوں کو دیکھنے کے لئے تماش بینوں کو ”منڈوں“ میں جا کر پلے سے رقم خرچ کرنی پڑتی ہے جس سے یہ فلمیں کروڑھا روپیہ کماتی ہیں مگر پاکستان کی فلم بھی حکومتی خرچے پر چلتی ہے اور کروڑوں پلے سے دیتی ہے۔
ہندوستان ٹھگوں کی کہانی میں 1790 اور 1805 کے ٹھگز دکھائے گئے ہیں جب کہ ہمارے ٹھگوں کی کہانی ابھی چار ساڑھے چار دہائی پہلے شروع ہوئی ہے۔ ہندوستانی ٹھگ ہمارے ٹھگوں کے مقابلے میں بالکل کنگلے تھے۔ یہ راہ چلتے مسافروں کے قافلوں کے ساتھ شامل ہو کر ان سے گھل مل جاتے تھے اور سنسان علاقوں میں اپنے رومالوں کے کونے میں روپیہ باندھ کر (اس زمانے میں چاندی کا روپیہ پانچ تولے کا ہوتا تھا اور خاصا وزنی ہوتا تھا) اپنے شکار کے گلوں میں پھندا ڈال کر اسے مار دیتے تھے اور ان کے مال و اسباب لے کر اور انہیں دفن کرکے سارے ثبوت مٹا دیتے تھے۔ یہ ٹھگز مختلف مذاہب کے ماننے والے ہوتے تھے مگر ان کے پیشے میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا تھا۔ یہ سب ایک خاندان کیطرح ہوتے تھے اور ہندوﺅں کی دیوی ”کالی“ کی پوجا کرتے تھے جو ایک انتہائی سیاہ رنگ کی لمبی سی زبان باہر لٹکائے ہوئے قاتل و غارت گری اور خونخواری کی نمائندگی کرتی تھی۔ اس کے دس بارہ سر اور دس ہاتھ ہوتے ہیں اس کے گلے میں انسانی کھوپڑیوں کی مالا پڑی ہوتی ہے۔ ان کا مذہب ہی لوگوں کو قتل کرنا اور انہیں لوٹ کر ہلاک کردینا ہوتا تھا۔ ان ٹھگوں میں نوجوان، بوڑھے، بچے اور عورتیں بھی شامل ہوتے تھے ان میں ایسے ایسے بوڑھے ہوتے تھے جو اپنی شکل و صورت سے مذہبی عالم اور پیشوا لگتے تھے۔ یہ مسافروں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں اور جس مذہب کا فرد ہو اسی کے عقیدے کے بارے میں گفتگو کرکے انہیں اپنے اعتماد میں لیتے اور پھر انہیں ہلاک کرکے سب کچھ لوٹ لیتے۔ ان ٹھگوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی (برطانوی حکومت کی پیش رو) نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور ملک میں ایسی خوف و دہشت کی فضا پیدا کردی کہ مظلوم عوام کمپنی کی طرف دیکھنے لگے کہ وہ انہیں اس آفت سے نجات دلائے اور جب کمپنی نے دیکھا کہ اب معاملہ بالکل اس کے حق میں ہو گیا ہے تو ایک فوجی ”کپتان سیلیم کی سرکردگی میں مہم چلا کر ٹھگوں کا خاتمہ کردیا۔ اب ذرا تاریخ کو اپنے آپ کو دھرانے دیجئے سب سے پہلی ٹھگوں کو ضیاءالدین برنی عظیم تاریخ دانوں نے دنیا کو روشناس کرایا اور ان کا دوسرا آشوب ختم کیا تو ایک ”کپتان“ نے کیا، آج ہمارے درمیان جو جوگادری ٹھگ ہیں ان کے معاملات میں بھی ”ضیائ“ کا ہی نام آتا ہے جنہوں نے ایک قومی ٹھگ کو جس نے اپنے اقتدار کے حصول کے لئے ملک کو دولخت کروایا جس کی بدولت لاکھوں انسانوں کا خون پانی کی طرح بہایا اور اس ٹھگ نے بھی اپنی چکنی چپڑی باتوں سے کبھی سوشلزم اور کبھی اسلامی سوشلزم اور کبھی روٹی، کپڑا، مکان کے نعرے لگا کر عوام کو احمقن بنایا اور اپنا الو سیدھا کیا اور اس ہی کے تسلسل سے ایک ”ٹھگنی“ (مونٹ ٹھگ) نے ملک کی دولت کو لوٹا اور سرے محَ جیسے کئی محل بنائے اور اسی ٹھگوں کے خاندان کے ایک ٹھگ نے ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم کیا اور کبھی سوئٹزرلینڈ تو کبھی فرانس سے آبدوزوں کے کمیشن سے دولت بنائی اور اپنی ہی ساتھی کو ہلاک کراکر اقتدار پر قبضہ کیا اور پھر ”مسٹر ٹین پرسنٹ“ سے ”مسٹر 110 پرسنٹ“ بن گیا۔ (اس میں تو ان ٹھگوں کی روایات بھی نہیں تھیں قدیم ٹھگ کبھی اپنے ذاتی مفاد کے لئے اپنوں کو نہیں مارتے تھے) اور اپنے دور ٹھگی میں اپنے ہی ساتھیوں کو عزیر بلوچ اور راﺅ انوار جیسے پولیس والوں سے سیکڑوں کی تعداد مروایا۔ جب کہ اس کی ”ٹھگنی بہن“ نے بھی اس کا گلے گلے ساتھ دیا اور اس لوٹ مار میں بھائی سے بھی آگے نکل گئی۔ پھر وہی تاریخی ”ضیائ“ سامنے آتے ہیں انہوں نے بھی ایک پنجابی ٹھگ متعارف کرایا جس نے اپنی لوٹ مار میں اپنے پیش روﺅں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اس نے بھی قدیم روایات کی پاسداری نہیں کی اس نے لوٹا بھی لوگوں کے قتل کرائے اور انہیں دفن بھی نہیں کیا۔ ماڈل ٹاﺅن کی سڑکوں پر بے گورو کفن چھوڑ دیا۔ قدیم ٹھگوں نے کبھی بھی لوٹ مار کرکے پکڑے جانے پر اپنی عورتوں اور بچوں کی آڑ نہیں لی مگر اس ٹھگ نے یہ بھی کر دکھایا کہ اپنی خواتین اور بیٹوں کی آڑ میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ مگر یہاں بھی تاریخ خود کو دھرا رہی ہے یہاں بھی ا یک کپتان ان کا قلع قمع کرنے کو تیار ہے۔ یہ مطابقت یوں بھی جاری ہے کہ ان ٹھگوں میں بھی مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ڈیزل سے چلنے والے ٹھگ شامل ہیں جو مذہب کے نام لے لے کر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اور ان کی دین اور دنیا دونوں خراب کررہے ہیں تو حضرات ان ”ٹھگز آف پاکستان“ کی فلم کی نمائش جاری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ عوام کے لئے “Happy Ending” والی ثابت ہو رہی ہے یا نہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں