91

آئیں بیٹھ کر بات کریں، وزیراعظم، پہلے قیدی رہا کریں، اپوزیشن لیڈر

اسلام آباد (فرنٹ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں ماضی کی تمام تلخیوں کو بلا کر اپوزیشن کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں،ملکی مسائل کا حل قومی ڈائیلاگ ہے،ہم نے میثاق جمہوریت پر اتفاق کیا، اب میثاق معیشت پر بھی اتفاق ہونا چاہیے، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اگرجیل میں مشکلات ہیں تو آئیں بیٹھ کر بات کریں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سنی اتحاد کونسل کے رکن علی محمد خان کی طرف سے کابینہ ڈویڑن کے مطالبات زر پر کٹوتی کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ علی محمد خان کا ان کے دل میں بہت احترام ہے، ان سے 2018 کی اسمبلی سے اچھا تعلق رہا ہے، ہم نے 2018 کے جھرلو انتخابات کے باوجود نہ صرف اس کے نتائج قبول کئے بلکہ اس ایوان میں بھی آئے، میں نے بطور اپوزیشن لیڈر اپنی پہلی تقریر میں میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی کہ ہم نے میثاق جمہوریت پر اتفاق کیا، اب میثاق معیشت پر بھی اتفاق ہونا چاہیے، حالانکہ حکومت ان کی تھی، نہ صرف میری اس پیشکش کو ٹھکرایا گیا بلکہ اس ایوان میں جو نعرے بلند ہوئے وہ تاریخ میں ہمیشہ سیاہ باب میں یاد رکھے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو یقینا انصاف کا پلڑا ہر وقت بھاری رہنا چاہیے، چاہیے وہ کوئی سیاسی رہنما ہو یا پھر زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو، جب کہ اگلے سال میں نے اپنی بجٹ تقریر میں ایک بار پھر پیشکش کی کہ آئیں دوبارہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں، اور پھر ایسے نعرے بلند ہوئے جن کا ذکر کرنا اس ایوان کی توہین ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج تلخیاں جس حد تک پہنچ چکی ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے، ہم اس نہج پر پہنچ چکے کہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا گوارہ نہیں۔آج 76 سال بعد ہم ایسی جگہ پہنچے ہیں کہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی جھجکتے ہیں، اسی ملک میں وہ زمانہ تھا جب اسمبلی میں بہت تنقید اور مخالفت میں باتیں ہوتی تھیں لیکن سیاست دان ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ میں شریک ہوتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگرعمران خان کو مشکلات و مصائب کا سامنا ہے تو آئیں بیٹھ کر بات کریں اور معاملات کو طے کریں، انڈر ٹرائل قیدی اور سزا یافتہ قیدی کے حقوق میں فرق ہوتا ہے، خواجہ آصف، رانا ثنا ہم انڈر ٹرائل تھے لیکن ہمیں زمینوں پر لٹایا گیا دوائیاں بند کی گئیں، ہم نہیں چاہتے ان کے ساتھ اسی طرح کی زیادتی ہو جو ہمارے ساتھ ہوئی تھی، آئیں بیٹھیں ملک کو آگے لے کر جانے کے لیے بات کریں اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔انہوں نے کہا کہ علی محمد نے اپنی جذباتی تقریر میں جن باتوں کا ذکر کیا، کاش وہ یہ بھی ذکر کردیتے کہ جب میری والدہ کا انتقال ہوا تب میں جیل میں تھا، میں نے سپریٹنڈنٹ کو کہا کہ آج تاریخ ہے، میری والدہ کا انتقال ہوا ہے اور ان کی میت لندن سے آنی ہے، میں درخواست لکھ دیتا ہوں کہ آج چھٹی دے دیں، جس پر انہوں نے کہا کہ آرڈر آیا ہے کہ آپ جائیں گے اور حاضری لگاکر واپس آجائیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ جب میں عداالت گیا تو مجھے امید تھی کہ جج صاحب کہیں گے کہ آپ کیوں آئے ہیں، آپ کی والدہ کا انتقال ہوا ہے، آپ واپس چلے جائیں، لیکن جب ہمارے وکیل نے استدعا کی کہ آج اجازت دے دیں، جس پر انہوں نے کہا کہ نہیں، آج ہم نے گواہان کو بلایا ہے، ہر صورت بیان ریکارڈ ہوگا۔ میں ذاتی تکالیف کا رونا نہیں رونا چاہتا، میری کمر میں تکلیف تھی لیکن خطرناک قیدیوں والی گاڑی میں بٹھایا گیا تاکہ مجھے تکلیف ہو، میں نے کینسر سے متاثر ہونے کے باوجود کبھی جیل میں اس کا رونا نہیں رویا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ میں یہاں پورے ایوان کے سامنے یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نہیں چاہتا جو زیادتی ہمارے ساتھ ہوئی، وہ ان کے ساتھ بھی ہو، میں ان کی خدمت میں یہ عرض کروں گا کہ آئیں بیٹھیں، ملک کو آگے لے جانے، ترقی وخوشحالی کے لیے اور پاکستان کی بہتری کے لیے بیٹھ کر بات کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں