آرمی چیف کی تقرری میں ڈیڈ لاک کیوں؟ 14

آرمی چیف کی تقرری میں ڈیڈ لاک کیوں؟

اسلام آباد/راولپنڈی (پاکستان ٹائمز۔ نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف گزشتہ چند ہفتوں سے نئے آرمی چیف کے حوالہ سے متعدد تاریخیں دے رہے ہیں۔ پہلے کہا گیا کہ نومبر کے پہلے ہفتہ میں تقرری کے معاملات طے ہو جائیں گے، بعد میں 18 نومبر کی تاریخ دی گئی مگر تاحال سمری وزارت دفاع کو موصول نہیں ہوئی ہے یا پھر ”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے“۔ واضح رہے کہ فوج کی جانب سے چند سینئر افسران کے نام اور ان کی پرسنل فائلز جنہیں ACR کہا جاتا ہے، وزارت دفاع کو بھیجی جاتی ہیں جو ایک ڈاکہ خانہ کا کام کرتے ہوئے یہ سمری وزیر اعظم کو ارسال کرتا ہے اور وزیر اعظم اپنے ریمارکس کے ساتھ اسے صدر مملکت کو بھجواتا ہے۔ صدر کو اختیار ہوتا ہے کہ آیا وہ فی الفور اس پر دستخط کرکے واپس وزیر اعظم کو بھیج دے یا پھر غور و خوض کے لئے 10 روز تک اسے روکے رکھے۔ یہ صدر کا اختیار ہے کہ وہ نظرثانی کے لئے وزیر اعظم کو یہ سمری واپس بھی بھجوا سکتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ تمام بڑی جماعتیں جن میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی شامل ہیں، اپنے اپنے ناموں کے لئے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ فیصلہ میں تاخیر ہو رہی ہے۔ یہ تمام جمہوری ناخدا کس قدر خوفزدہ ہیں کہ ایک 22 گریڈ کے افسر کی تعیناتی کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اور ملک کے عوام مہنگائی کی چکی میں پس کر لہولہان ہو چکے ہیں۔ سیاسی مبصرین اس بات پر بھی خدشات کا اظہار کررہے ہیں کہ آرمی چیف کی تقرری کے بعد بھی کیا حالات میں کوئی بہتری آئے گی اور آیا کہ کیا فوج کا سیاست میں سے کردار ختم ہو جائے گا۔ یہ وہ سوال ہے کہ جس کا جواب کسی ذی ہوش کے پاس نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں