آرمی چیف کی تقرری کا طریقہءکار؟ 78

اسلام آباد میں لمحہ بہ لمحہ بدلتی سیاسی کشمکش!

پچھلے کئی ہفتوں سے جاری سیاسی رسہ کشی بڑی تیزی سے اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد حکومت کے روزمرہ کے کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ عوام اور اسٹیبلشمنٹ رزلٹ کا انتظار کررہے ہیں۔ ہمارے ہاں عام لوگوں کے پاس بھی اتنا وقت ہے کہ وہ گھروں میں اور عوامی مقامات پر سیاسی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ مغرب میں ہم دیکھتے ہیں کہ عام عوام کو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ماسوائے ان لوگوں کے جن کا سیاست سے براہ راست تعلق ہے وگرنہ یہاں لوگوں کو اپنے ممبر پارلیمنٹ کا نام بھی پتہ نہیں ہوتا۔
یہاں عوام کو اس قدر شعور دے دیا گیا ہے کہ وہ اچھے اور برے کی تمیز کرنا جانتے ہیں۔ کوئی بدکردار شخص سیاست کا کھلاڑی نہیں سکتا اور اگر کوئی سیاسی آدمی کسی بدعنوانی یا بدکرداری میں پکڑا جائے تو وہ معاشرے کا سامنا نہیں کر سکتا، وہ باقی ماندہ زندگی کے لئے گوشہ گمنامی میں چلا جاتا ہے۔ عوام اس کو ہمیشہ کے لئے مسترد کر دیتے ہیں بلکہ اس کی آنے والی نسل بھی اپنی راہ تبدیل کر لیتی ہے۔ ان معاشروں نے اسلام کے ذریں اصول اپنا کر ترقی کی منزلیں طے کی ہیں۔
یہاں آپ کو حضرت عمر فاروقؓ کے دور حکومت کی جھلک ملتی ہے۔ جہاں انصاف کا بول بالا تھا، غریب اور بے سہارا کی آواز سنی جاتی ہے، ریاست ماں کے جیسی تھی، ہر طرف امن و امان کا دور تھا، اس دور میں مسلمانوں نے بے شمار فتوحات کیں اور اسلام کو دنیا بھر میں پہنچا دیا۔ انہی بنیادوں پر پاکستان کو آگے لے کر چلنے کے لئے عمران خان نے دو دہائیوں سے زیادہ جدوجہد کی اس کا اولین مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی طرز پر کھڑا کرنا ہے اس کا مشن ملک سے رشوت اور بدعنوانی کو ختم کرنا ہے، معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ عمران خان کا مقصد حیات بدعنوان ٹولے کو ان کے انجام تک پہنچانا ہے۔ ملک بھر میں پھیلے ہوئے مختلف قسم کے مافیاز کو شکست فاش دینی ہے۔ وطن عزیز کو ایک عظیم ریاست بنانا ہے۔ ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی طرف لے کر جانا ہے۔ پچھلے ستر سال کے گند کو صاف کرنا ہے مگر اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عدلیہ ہے۔ جہاں آصف زرداری اور شہباز شریف اور ان کے حواریوں کے خلاف سالہا سال سے بدعنوانی کے کیس چل رہے ہیں مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ احتساب صرف نام کی حد تک رہ گیا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ ابھی تک دیکھنے کو نہیں ملا۔
عمران خان کی شبانہ روز محنت اور کوشش کے باوجود بھی کرپٹ لوگوں کو سزائیں نہیں ہو سکیں۔ ان کا قلعہ قمعہ نہیں ہو سکا، جس کے لئے عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا تھا۔ عمران خان نے کئی بار عدلیہ کو ہاتھ جوڑ کر درخواست کی ہے کہ میگا کرپشن کیسز کو روانہ کی بنیاد پر سن کر نمٹائیں مگر ہمارے عدالتی نظام میں اتنی خرابیاں ہیں کہ مقننہ کو بہت بڑے پیمانے پر عدالتی ریفارمز کرنے کی ضرورت ہے۔ ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار سے لے کر انصاف کی فراہمی تک سب کچھ ڈرائی کلین کرنا پڑے گا۔ ججز اپنے آپ کو قانون سے اوپر سمجھتے ہیں جس کا مظاہرہ قاضی فائز عیسیٰ کیس میں دیکھنے کو ملا ہے۔ شرم آتی ہے ایسی سسٹم پر بات کرتے ہوئے۔
وزیر اعظم عمران خان نے عوامی جلسوں سے خطاب کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ انتہائی خوش آئند ہے اس سے لوگوں میں جوش و جذبہ بیدار ہوتا ہے اور مخالفین نفسیاتی طور پر انڈر پریشر رہتے ہیں۔ خیال کیا جارہا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر عمران خان کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس اثر کو زائل کرنے کے لئے عوامی جلسے کرنا موثر اقدام ہے۔
پی ٹی آئی کی اتحادی پارٹیوں، جہانگیر ترین اور علیم خان گروپ نے مخالفین کو ٹرمپ کارڈ دیا ہوا ہے ان کے آسرے پر یہ مطمئن ہیں لیکن میری ناقص رائے میں یہ ایک چال ہے کہ اپوزیشن کو اس قدر یقین دہانی کروا دو کہ وہ تحریک عدم اعتماد پیش کردیں اور پھر آخری روز ایسی چال چلی جائے کہ ان کے ہوش اڑ جائیں۔
امید واثق ہے کہ اپوزیشن کی یہ کوشش ناکام ہو گی اور وہ عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی۔ سو اختلافات کے باوجود ترین اور علیم خان عمران خان کے خلاف نہیں جائیں گے اور اتحادی پارٹیاں بھی کہیں نہیں جائیں گی یہ سب مل کر اپویزشن کو بندر کی طرح نچا رہے ہیں اور یہ ڈگ ڈگی وزیر اعظم کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جب چاہیں گے پانسہ پلٹ دیں گے۔
عمران خان خطرناک ہے اور سونے پہ سہاگہ وزیر اعظم عمران خان تو بہت ہی خطرناک ہے۔ عمران خان کو پاکستانی سیاست کا خودکش بمبار کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا اگر وہ گیا تو سب کو لے ڈوبے گا، نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں