Mullah Hasan Akhund, the new acting PM of Afghanistan 30

افغانستان عبوری حکومت کا اعلان: حسن اخوند وزیر اعظم

کابل (پاکستان ٹائمز) طالبان نے افغانستان میں نئی عبوری حکومت اور کابینہ کا اعلان کردیا ، ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی اسلامی حکومت کے قائم مقام سربراہ محمداحسن اخوند ہوں گے، ملا عبدالغنی برادر، مولوی عبدالسلام حنفی نائب وزیرِ اعظم، ملا محمد یعقوب مجاہد دفاع، سراج الدین حقانی داخلہ،امیر خان متقی وزیر خارجہ ،ملّا ہدایت اللہ بدری خزانہ، ملّا خیراللہ خیر خواہ اطلاعات و ثقافت، ملّا عبداللطیف منصور پانی و بجلی، عبدالباقی حقانی تعلیم، نجیب اللہ حقانی برقی مواصلات،خلیل الرحمان حقانی پناہ گزین افراد،عبدالحق وثیق انٹیلی جنس،حاجی ادریس سربراہ افغانستان بینک، قاری دین محمد حنیف اقتصادیات، مولوی عبدالحاکم شریعہ وزیرِ انصاف،نوراللہ نوری سرحد و قبائل،یونس اخوندزادہ دیہی ترقی،ملّا عبدالمنّان عمری عوامی بہبود، ملّا محمد عیسیٰ اخوند کان کنی، فصیح الدین چیف آف سٹاف، شیر محمد عباس ستانکزئی نائب وزیرِ خارجہ ا±مور، مولوی نور جلال نائب وزیرِ خارجہ، ذبیح اللہ مجاہد نائب وزیرِ اطلاعات و ثقافت، ملّا تاج میر جواد نائب سربراہ اوّل برائے انٹیلی جنس، ملّا رحمت اللہ نجیب نائب سربراہ انٹیلی جنس، ملّا عبدالحق نائب وزیرِ داخلہ برائے انسدادِ منشیات، ملا فاضل مظلوم معین وزارت دفاع ہونگے، ملا تاج، ملا رحمت، ملا عبدالحق کو بھی مخلتف وزارتینں دی گئی ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ نئی انتظامیہ عبوری ہے اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان کی مداخلت سے متعلق پروپیگنڈا 20 سال سے چل رہا ہے، ہمارے معاملات میں پاکستان سمیت کسی ملک کی مداخلت نہیں،کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ ہمارے اقدامات سے پاکستان کو فائدہ ہوا، پاکستان کی پنجشیر یا افغانستان میں مداخلت پروپیگنڈا ہے۔ طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ نے اپنی نئی حکومت کو پیغام دیا ہے کہ شرعی قانون کو برقرار رکھے۔ عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ملک کو اوپر لے جانے کیلئے سخت محنت کریں گے ، نئی قیادت پائیدار امن ، خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنائے گی، لوگوں کو ملک چھوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ سراج الدین حقانی جنہیں وزیر داخلہ بنایا گیا ہے امریکہ کو مطلوب ہیں اور جن پر انعام رکھا گیا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ایسے کسی شخص کو کابینہ میں شامل کریں گے جنہوں نے ماضی میں مغربی ممالک کے مفادات کا خیال رکھا ہے۔ جن میں عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی بھی شامل ہیں۔ امریکہ نے افغانستان کا پیسہ منجمد کردیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر طالبان متوازن حکومت نہیں بناتے جس میں تمام گروپوں کی شمولیت لازمی ہو۔ افغانستان کے فنڈز ریلیز نہیں کئے جائیں گے۔ دوسری جانب پوری دنیا کے ممالک کی نظریں طالبان کے آئندہ لائحہ عمل پر گڑھی ہیں کہ آیا طالبان اپنی پرانی روش جاری رکھیں گے یا پھر لبرل طریقہ سے حکومت کریں گے جن میں خواتین کے حقوق کا خیال رکھنا اور افغانستان کی سرزمین سے کسی ملک کے خلاف تخریب کاری کی اجازت نہ دینا شامل ہے۔ مزید افغانستان میں برسر پیکار دیگر گروپس جنہوں نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے سے مذاکرات کئے جائیں گے یا پھر اس خطہ میں دوبارہ جنگ و جدل کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ پرامن طریقہ سے سب گروپس کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ پرامن افغانستان کو فروغ دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں