کل پیراں دی خیر 37

الوداع 2021ء

2021ءبھی چلا گیا، کئی دوستوں، عزیزوں اور رشتہ داروں کو ہزاروں من مٹی تلے دفن کر گیا۔ فروری 2019ءسے شروع ہونے والا کورونا اپنی شکلیں تبدیل کرتے ہوئے مستقل ہمارے سروں پر چھایا ہوا ہے۔ دنیا مکمل ویکسین کے ڈوز لینے کے باوجود آج بھی خوف کی کیفیت سے باہر نہ نکل سکی یا یوں کہ نکلنے نہیں دیا جارہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور کینیڈا میں ایک بار پھر کیسز بڑھنے شروع ہو گئے ہیں لیکن حکومت اس انتظار میں ہے کہ کرسمس اور نئے سال کی تقریبات اختتام پذیر ہوں تو ایک بار پھر لوگوں پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ کرسمس اور نئے سال کی تقریبات میں SOP’s کا خیال نہیں رکھا گیا۔ ایک بار پھر قدغن لگا دی جائے۔ یوں دنیا کو ایک بار پھر بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
گزشتہ دو سالوں سے لوگوں سے جینے کا انداز ہی چھین لیا، خونی رشتہ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہو گئے، میل جول ختم ہو گیا، وقت بھی کس قدر ظالم شہہ ہے کہ تیزی سے گزر جاتا ہے اور انسان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس قدر آگے نکل گیا ہے اور زندگی کی اس دوڑ میں تیزی سے اپنی آخری منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ گزشتہ دو سالوں نے بہت کچھ سکھایا، زندگی کی حقیقت آشکار ہوئی مگر دنیا کی رنگینیاں انسان کو سب کچھ بھولنے پر مجبور کر دیتی ہیں اور انسان دوبارہ بدمست ہاتھی کی طرح اپنے حال پر توجہ دینے لگتا ہے۔ انسان خود کو حال میں دیکھ کر حقیقت پسند ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے جب کہ کچھ لوگ مستقبل کو آنکھوں میں سجائے ترقی پسندی کی جانب گامزن دکھائی دیتے ہیں۔ یوں زندگی کی چکاچوند ماضی کے جھروکوں میں جھانکے کا موقع ہی نہیں دیتی مگر حقیقت یہی ہے کہ ایک اور دسمبر آگیا ہے اور ہم اس شمارے کی آمد تک نئے
سال کے جشن منا رہے ہوں گے۔ اس ایک امید اور آس پر کہ شاید نیا سال نئی خوشیاں دے کر آئے گا مگر یاد رہے کہ یہ دنیا رہنے کے قابل نہیں رہی۔ یہاں محبتوں کی جگہ مفاد پرستی نے لے لی ہے۔ ہر شخص ایک دوسرے کا گلا کاٹ کر آگے بڑھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ دیکھتے ہیں یہ نیا سال 2022ءکن نئے مسائل اور کن نئے حل کے ساتھ ہمارے سروں پر مسلط ہوتا ہے۔
دسمبر جانے والا ہے
چلو اک کام کرتے ہیں
پرانے باب بند کر کے
نظرانداز کرتے ہیں
بھلا کر رنجشیں ساری
مٹا کر نفرتیں دل سے
معافی دے دلا کر اب
دلوں کو صاف کرتے ہیں
جہاں پر ہوں سبھی مخلص
نہ ہو دل کا کوئی مفلس
اک ایسی بستی اپنوں کی
کہیں آباد کرتے ہیں
جو غم دیتے نہ ہوں گہرے
ہوں سانجھے سب وہاں ٹھرے
سب ایسے ہی مکینوں سے
مکاں کی بات کرتے ہیں
نہ دیکھا ہو زمانے میں
پڑھا ہو نہ فسانے میں
اب ایسے جنوری کا ہم
سبھی آغاز کرتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں