Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 118

بے حسی

ایک چھوٹا سا گاﺅں تھا جہاں تقریباً 200 افراد رہتے تھے ان کا کام مویشی پالنا اور کھیتی باڑی تھا۔ امن اور سکون سے رہ رہے تھے کہ اچانک اس علاقے میں ایک شیر آنے لگا۔ پہلے تو اس نے ان کے مویشیوں کو مارنا شروع کیا۔ گاﺅں والوں نے کسی طرح باڑ وغیرہ لگا کر مویشیوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کی پھر ایک دن اس شیر نے گاﺅں کے ایک شخص پر حملہ کرکے اسے مار دیا اور اسے کھا گیا یعنی یہ شیر دراصل آدم خور تھا۔ اس صورت حال سے لوگ بہت پریشان ہوئے۔ شیر کی کارروائیاں بڑھتی گئیں، اب ہر روز وہ ایک دو آدمی مار دیتا تھا۔ کچھ حوصلہ مند لوگوں نے گاﺅں والوں سے کہا کہ اگر ہم سب اکھٹا ہو کر شیر پر حملہ کردیں تو اسے مار سکتے ہیں لیکن گاﺅں والے کسی طور نا مانے۔ ان کے خیال میں شیر بہت خطرناک تھا اور وہ لوگ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ سمجھانے والے بھی دو تین افراد تھے اور وہ خود شیر پر حملہ نہیں کرسکتے تھے۔ دن گزرتے گئے اور شیر کو جب موقعہ ملتا وہ ایک دو افراد کو مار دیتا۔ آہستہ آہستہ گاﺅں خالی ہوتا گیا، صرف چند ایک وہ افراد بچے جو باہر کم نکلتے تھے اور شیر سے حتی الامکان دور رہنے کی کوشش کرتے تھے۔
ایک وقت ایسا آیا کہ گاﺅں میں صرف کچھ افراد ہی بچے، وہ بھی گاﺅں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ شیر نے گاﺅں خالی پا کر کسی اور طرف رخ کیا۔ شیر جس گاﺅں پہنچا یہاں بھی تقریباً دو سو افراد ہی رہتے تھے۔ شیر نے اپنی کارروائی شروع کی اور یکے بعد دیگرے چند دنوں میں تین آدمی کھا گیا۔ گاﺅں میں کھلبلی مچ گئی وہ سب سر جوڑ کر بیٹھے۔ اس گاﺅں کے لوگ بہادر، حوصلہ مند اور حساس تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سب مل کر شیر کا مقابلہ کریں گے لہذا ایک دن وہ کلہاڑیاں، ڈنڈے سریے لے کر شیر کی تلاش میں نکل گئے۔ شیر نے ان کو دیکھ کر حملہ کیا لیکن وہ سب اس پر پل پڑے اس کے باوجود شیر نے تین آدمی مار دیئے لیکن گاﺅں والوں نے بڑی ہمت سے شیر کو جہنم واصل کیا۔
گاﺅں سے چھ آدمی تو کم ہو گئے لیکن انچ سو چورانوے لوگوں کی جان کا خطرہ ٹل گیا۔ اگر پہلے گاﺅں والے اس طرح ہمت کر لیتے تو شاید شیر کو پہلے ہی مار دیا جاتا لیکن بزند لوگ اس طرح ایک ایک مارے جاتے ہیں۔
ہمارے ملک کی حالت بھی اس گاﺅں سے کم نہیں ہے۔ ایک جاہل یم پی اے جس کا علاقے میں اثر و رسوخ ہو اپنے علاقے کا بادشاہ اور وہاں کے رہنے والے اس کے غلام ہوں، جہاں پولیس بھی اس کی غلام ہو اور ہر ادارہ یعنی حکومت تک اس کے غیر قانونی دھندوں اور بے گناہوں کے قتل پر اس پر ہاتھ نا ڈال سکتی ہو اس ملک کا نظام کیا ہوگا؟ یہ نظام کون سے نظام کے تحت چل رہا ہے۔ پوری کائنات بیلنس پر قائم ہے، ہر ترقی یافتہ ملک ایک بیلنس کے تحت چل رہا ہے، ہمارے ملک کسی بیلنس پر کیوں نہیں قائم ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے فارمولے پر چلے جارہا ہے۔ لاکھوں قربانیوں سے بنا ہوا یہ ملک جان و مال کی قربانی، اولاد اور والدین کی قربانی، عزیزوں دوستوں رشتہ داروں کی قربانی اور ان تمام قربانیوں کے بعد یہ وطن ملا تھا جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان، جہاں کا اسلامی قوانین کا اور نا ہی جمہوریت کا کوئی تصور ہے۔ ہمارے آباﺅ اجداد نے آنے والی نسلوں کے لئے یہ ملک بنایا تھا کہ یہی ان کے خواب تھے، وہ کہا کرتے تھے ہم نے بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں، بہت مشکلوں سے اس ملک کی بنیاد رکھی ہے، اب عمارت ہماری نسلیں تعمیر کریں گی۔ جب وہ یہ کہتے تھے تو ان کی آنکھوں میں ضرور آنسو ہوتے ہوں گے۔ خوشی اور غم کے ملے جلے آنسو لیکن کاش وہ زندہ ہوتے تو انہیں آنے والی ملی جلی نسلوں کے کارنامے دیکھنے کو مل جاتے۔ انہیں معلوم ہو جاتا کہ اس نسل کے نزدیک اس ملک کی کیا اہمیت ہے جو کچھ ہو رہا ہے کیا اس لئے پاکستان بنا تھا۔
ہندوستان میں تو یہ خطرہ تھا کہ ہندو جینے نہیں دیں گے، لیکن یہاں اپنے ہی جان کے دشمن ہیں یہاں تو جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار ہندوﺅں سے بدتر ہیں جس غریب کا چاہے گھر اجاڑ دیں۔ ایم پی اے، ایم این اے، وزیر بننا صرف ان کا حق ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھوں میں نچاتے ہیں، قتل کرکے بھی بچ جاتے ہیں۔ غریبوں کے لئے صرف بربادیاں ہیں اور برباد کرنے کا الزام کوئی بھی اپنے سر لینے کو تیار نہیں ہے۔ ہر شخص الزام دوسرے پر ڈالتا ہے۔
بزرگ کہتے ہیں ہندوستا میں فسادات کا وہ وقت یاد آتا ہے جب ہم بچوں سے کہتے تھے باہر مت جاﺅ، باہر خطرہ ہے، تب ان بچوں کی آنکھوں میں یہ سوال نہیں ہوتا تھا کہ ہمیں خطرہ کس سے ہے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ہندو ہمارے دشمن ہیں۔ آج ہم نے اپنے پوتے پوتیوں کو بٹھایا ہوا ہے، باہر مت جانا وڈیرہ کسی کو مارنے آیا ہوا ہے، کہیں گولی تمہیں نا لگ جائے، باہر خطرہ ہے، اب ان بچوں کی آنکھوں میں سوال پڑھا جا سکتا ہے کہ ہمیں خطرہ کیوں ہے، کیوں کہ باہر تو سب ہمارے ہی ہم مذہب اور ہم وطن ہیں اب ان کو کون سمجھائے کہ اس طرح کے وڈیروں کا نا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نا ہی کوئی وطن ہے اور عوام ان کی مثال بھیڑ بکریوں سے بڑھ کر نہیں ہے، نا خود اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور نا ہی کسی اور کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ بس سیاسی لیڈروں کے پیچھے چلتے رہو، ان سیاست دانوں کے پیچھے جن کی سیاست خونی سیاست ہے، خون سے رنگے ہاتھوں کے ساتھ لہو میں ڈوبی ہوئی لاشوں کے اوپر رقص کرتی سیاست سب دیکھ رہے ہیں لیکن کسی کو انجام کی کوئی فکر نہیں ہے۔
یہ ہے ہمارا وہ پاکستان جو کہتے ہیں آزاد ہوا تھا۔ غریبوں کے لئے یہ کبھی آزاد ہوا ہی نہیں تھا۔ آزاد صرف وہ ہے جس کے پاس دولت ہے جو جاگیردار ہے، وڈیرہ ہے، سیاست دان ہے یا پھر ایم پی اے، ایم این اے یا وزیر بن گیا ہے۔ ان میں سے بھی چند ایک ہی ہوں گے جو پہلے سے دولت مند نا ہوں لیکن یہ عہدہ ملنے کے بعد تو ان کی صف میں آرام سے شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ سب آزاد ہیں، جسے چاہے قتل کردیں، قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور قانون بھی آزاد ہے جس بے گناہ کو چاہے پھانسی پر لٹکوادے اور جس قاتل کو چاہے آزاد کردے۔
میں نے سوشل میڈیا پر جب کہا کہ سوشل میڈیا پر ناظم جوکھیو کے قاتلوں کے بارے میں مہم چلائی جائے تو میں بہت حیران ہوا کہ ردعمل وہی تھا جو شیر کے معاملے میں پہلے گاﺅں والوں کا تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ قوم صرف ٹی ایل پی کا ساتھ دے کر پی ڈی ایم کا پی پی کا صرف ایسے لوگوں کا ساتھ دے کر ان کے مطالبات منوا سکتی ہے لیکن کسی بے گناہ کے خون کا انصاف نہیں دلا سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں