فنکاروں کی سرکاری حوصلہ افزائی 71

”جو کرے گا ، وہی بھرے گا“

جیسا کرو گے ویسا بھرو گے …یہ اور اس قسم کی کئی ایک سبق آموز کہانیاں ہم اور آپ نے اپنے اپنے بچپن میں بہت سنیں!! میں آج بہ حیثیت نانا آپ کو ایک مختلف لیکن سچی کہانی سناتا ہوں۔ وہ 1958ء کا سال اور اکتوبر تھا جب ملک میں مارشل لاءلگایا گیا۔ نہ جانے کیوں ایوب خان کو اس کا قصور وار ٹہر ایا جاتا ہے حالاں کہ یہ اسکندر مرزا نے نافذ کیا۔کچھ ہی عرصہ بعد اسکندر مرزا کے ساتھ ایسے کو تیسا ہوا اور ایوب خان اسکندر مرزا کو معزول کر کے خود صدارت کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ ایوبی دور 1958ءسے 1968ءتک دس سالہ ترقی کا کہلاتا ہے۔ اس دوران پاکستان میں ریکارڈ صنعتی ترقی ہوئی۔ اِن دس سال میں ملک میںبظاہر کوئی زیادہ عوامی بے چینی نظر نہیں آئی۔ رہی سیاسی ابتری تو سیاست کا بیڑا غرق تو ایوب خان کے صدر بننے سے کہیں پہلے خود اسکندر مرزا کر چکے تھے۔لہٰذا ایوبی دور میں اگر سیاسی گھٹن تھی تو اس کے ذمہ دار ایوب خان کے پیشرو ہیں پھر 1969 کا سال کیا آیا، ملک میں سیاسی ہل چل ہونے لگی۔ 1970 کے پہلے عام انتخاب تک پہنچتے پہنچتے پہلی مرتبہ سرکاری املاک کو توڑنے پھوڑنے اور جلانے کی باتیں سنیں۔عجیب بات ہے کہ اگر ایوبی دور اتنا ہی برا تھا تو سیاسی اور مذہبی قوتیں دس سال تک کیوں چپ سادھے بیٹھی رہیں ؟ کیا کسی بیرونی اشارے کی منتظر تھیں؟ اس کے بعد انتخابات کے نتائج کو ” میں نہ مانوں “ کہہ کر رد کر دیا گیا۔تب جمہور کی ڈفلی بجانے والی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے لیڈروں کی بصیرت کو نہ جانے کیا ہوا کہ وہ کچھ بھی نہیں کر سکے اور ملک دو لخت ہو گیا!! وہ سیاسی اور مذہبی قوتیں /پارٹیاں جو ملک کے اِس نازک ترین دور میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے چین کی بانسری بجا رہی تھیں تو جلد ہی انہیں اس کا مزا چکھنا پڑا۔ اب نئی حکومت کی باری تھی۔ اس نے بہت سے لیڈران اور کارکنان پابندِ سلاسل کر دیئے تو کچھ کو ملکِ عدم روانہ کر دیا۔ایک عجب طوفانی دور شروع ہو گیا۔ایوبی دور کی صنعتی ترقی کا پہیہ الٹا چلا۔صنعتیں، بینک اور دیگر اداروں کو قومیا کر ان کا ستیا ناس کر دیا۔ اس کے جواب میں حکومت مخالف سیاسی پارٹیوں نے اتحاد بنایا پھر 7 مارچ 1977 کو دوسرے عام انتخاب ہوئے۔ دیکھا جائے تو اِس انتخاب کا نتیجہ وہی نکلا کہ ” جو کرو گے وہی بھرو گے “۔ ایک فریق نے ماضی میں کہا تھا ’ میں نہ مانوں ‘ اور جیتنے والے کو حکومت نہیں بنانے دی تھی اور اس کے نتیجہ میں ملک ہی ٹوٹ گیا۔اب اسی کی نام نہاد جیت کو دوسرے فریق یعنی نو جماعتوں کے قومی اتحاد نے ماننے سے انکار کر دیا اور جمہوریت کی بساط لپیٹ کر 1977 میں ضیا الحق سے ایک اور مارشل لاءلگوا لیا۔ یوں سیاست دانوں نے سیاست کو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھا دیا اور حکمران پھانسی چڑھ گیا۔ ضیا الحق ملک کے چھٹے صدر ہوئے۔یہ 1988 میں پراسرار حالات میں فضائی حادثہ کا شکار ہو گئے۔ 70 کی کہانی کے اہم کردار شیخ مجیب الرحمن بنگلہ دیش کے پہلے صدر اور اس کے بعد وزیرِ اعظم ہوئے۔انہیں 16 اگست 1975 کو پورے خاندان سمیت گھر میں قتل کر دیا گیا۔صرف ایک بیٹی حسینہ واجد بچیں۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں سب سے بڑا ہاتھ بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کا تھا۔انہیں 31 اکتوبر 1984 کو صبح 9:29 بجے صفدر جنگ روڈ نئی دہلی میں خود ان ہی محافظوں نے اگلے جہاں پہنچا دیا۔کہا جاتا ہے کہ اندرا گاندھی کا قتل امرتسر میں سکھوں کے مقدس ترین گو لڈن ٹیمپل
میںبھارتی فوج کے ظالمانہ آپریشن بلیو اسٹار کا ردِ عمل تھا۔ ادہر 1988 میں طیارے کے حادثے کے بعد بینظیر بھٹو وزیرِ اعظم ہوئیں جو 1990 تک رہیں۔اس کے بعد دوبارہ 1993 سے 1996 تک وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہیں۔ مشرف دور میں یہ پھر پاکستان آئیں اور راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پراسرار حالات میں 27 دسمبر 2007 کو شہید کر دی گئیں۔اس کے بعد پورے ملک میں جلا ﺅ گھیراﺅ شروع ہو گیا۔سرکاری املاک کی بے دریغ توڑ پھوڑ کی گئی۔ پاکستان ریلوے کے اچھی خاصی تعداد میں بوگیاں جلا دی گئیں۔دوسری طرف میاں نواز شریف 1990 سے 1993 تک پہلی وزارتِ عظمیٰ پر فائز ہوئے۔دوسری مرتبہ 1997 سے 1999 تک رہے۔پھر تیسری مرتبہ 2013 سے 2017 تک۔اس دوران سیاسی افق پر بہت کچھ ہوا۔اِس قصے کے درمیان جو 9 سال کا ’ خلا ‘ ہے وہ پرویز مشرف صاحب نے پورا کیا۔یہ 1999 میں نواز حکومت کو مارشل لاءسے رخصت کرنے کے بعد پاکستان کے دسویں صدرِ مملکت بنے جو 2008 تک رہے۔پاکستان کے گیارہویں صدر آصف زرداری 2008 سے 2013 تک صدر رہے۔یہ پہلے پیدائشی پاکستانی صدر ہیں اور وہ واحد صدر ہیں جنہوں نے اپنی مدتِ صدارت پوری کی۔یہ تمام لوگ آج تک ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے“ کی عملی تفسیر ہیں!! ہماری کہانی کے اِن کرداروں کے علاوہ بھی صدور اور وزرائے اعظم ہوئے۔ سات دہایوں پر پھیلی یہ مختصر کہانی اِس لئے یاد آئی کہ گزشتہ سال اگست کی ابتدائی تاریخوں میں رحیم یار خان میں بھونگ کے مقام پر واقع ایک مندر کی توڑ پھوڑ کی گئی۔ تب اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان کے 27 ویں چیف جسٹس جناب گلزار ا حمد نے ا ز خود نوٹس لیا۔ نیزملزمان کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہندووں کا مندر گرا نے سے ان کے دلوں پر کیا گزری ہو گی! اگر مسجد گرا دی جاتی تو مسلمانوں کا ردِ عمل کیا ہوتا ؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ مندر حملے کے ملزمان اور شر پسندی پر اکسانے والوں کو فوری گرفتار کرکے مندر کی بحالی کے اخراجات ہر صورت وصول کئے جائیں۔ ہم اِن کالموں میں لکھتے آرہے ہیں کہ جب کسی جلسے، جلوس یا دھرنوں کے دوران سرکاری اور نجی املاک تباہ کی جاتی ہیں تو ان کی قیمت اور نقصان کا ازالہ اس جلسے، جلوس یا دھرنے کے ذمہ داروں سے وصول کیا جائے۔تا کہ انہیں اور دوسروں کو نصیحت ملے ! لیکن سرکاری اور نجی املاک کو ارادتاََ نقصان پہنچانے پر جو دفعات لگنی چاہییں وہ انتظامیہ کی جانب سے نہیں لگائی جاتیں۔توڑ پھوڑ کے مر تکب ملزمان کچھ ہی دن بعد جیل اور تھانوں سے باہر ہوتے ہیں۔سرکار کو تو چھوڑیں نجی املاک کے نقصان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ یہ سلسلہ 70 کی دہائی سے شروع ہے۔امید ہے کہ انتظامیہ آئندہ ہونے والے ’ جلسوں ، جلوسوں اور دھرنوں میں اس قسم کی ٹوٹ پھوٹ کے فوری ازالے کی ادائیگی یقینی بنائے گی!! اے کاش کہ ایسا ہو جائے اور ہم ایک نیا محاورہ س±نیں ”جو کرے گا وہی بھرے گا“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں