انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند 85

زندگی، پانی کا بلبلہ

سلمان افضال ایک نہایت ملنسار اور محبت والے انسان تھے جو اپنے والدین، اہلیہ اور دو بچوں کے ہمراہ 15 سال قبل کینیڈا تشریف لائے۔ وہ کراچی سے فزیوتھراپی میں ڈگری حاصل کرکے کینیڈا میں اپنی سروسز دے رہے تھے۔ کون جانتا تھا کہ ایک خوش و خرم فیملی یوں پلک جھپکتے میں خالق حقیقی سے جا ملے گی۔ یہ پورا خاندان نہایت پڑھا لکھا تھا۔ سلمان افضال مرحوم کی اہلیہ بھی سول انجینئرنگ میں ڈگری یافتہ تھیں اور اسی شعبہ میں پی ایچ ڈی کررہی تھیں۔ یوں یہ پورا خاندان لندن اونٹاریو میں پُرسکون زندگی گزار رہا تھا۔ دونوں بچے بھی اپنے اسکول میں آنر رول تھے، نہ کسی مذہبی جنونیت سے کوئی تعلق نہ کوئی نفرت انگیز عمل، مگر نہ جانے اس خاندان کو کس کی نظر کھا گئی کہ آناً فاناً پوری فیملی خون میں لت پت ہو گئی اور 9 سالہ معصوم بچہ اس دنیا میں تن تنہا رہ گیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس بچہ فائز سلمان کا مستقبل کیا ہوگا۔ اس وقت تو وہ زندگی و موت کی کشمکش میں ہے۔ ہماری اللہ تبارک و تعالیٰ سے یہی دُعا ہے کہ پرورگار اُسے صحت مند زندگی دے اور کسی کا محتاج نہ کرے۔ یہ بچہ جو اچانک اپنے پورے گھرانے سے بچھڑ گیا اور بدنصیبی دیکھیئے کہ ایک ساتھ یتیم بھی ہو گیا اور یسیر بھی۔ یعنی باپ بھی چلا گیا اور ماں بھی۔ دلاسہ دینے والی بہن بھی رُخصت ہو گئی۔ نہ جانے قدرت کی کیا مصلحت ہے۔ یہ وہ رب کائنات ہی سمجھ سکتا ہے کہ معشیت ایزدی کیا ہے؟ جہاں یہ واقعہ کینیڈا بھر کے مسلمانوں کو صدمہ سے دوچار کر گیا ہے وہیں یہ درس بھی دے گیا ہے کہ اب حالات بدل چکے ہیں۔ ہمیں ہر وقت اپنے اردگرد کا جائزہ لینا چاہئے اور چوکنا رہنا چاہئے۔ لندن اونٹاریو ایک ایسا شہر ہے جہاں یونیورسٹی ہونے کے سبب بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ یہ کوئی ایسا علاقہ بھی نہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہو۔ یہاں ایک بہت بڑا اسلامک سینٹر بھی ہے۔ جہاں مسلمانوں کے اجتماعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ یوں یہ شہر مسلمانوں کے لئے کسی طور بھی غیر محفوظ نہیں مگر کوئی نہیں جانتا کہ کب، کیسے اور کیونکر موت کا فرشتہ گردن دبوچ لے۔ چنانچہ ہمیں ہر لمحہ استغفار پڑھنا چاہئے اور خدائے بزرگ و برتر سے اپنے گناہوں کی معافی کا خواستگار ہونا چاہئے کہ سب کا وقت قریب ہے۔ آج اس فیملی کا نمبر تھا، کل ہمارا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں