پاکستان نے FATF کی تمام شرائط پوری کردیں! 71

سیاست یا منافقت!

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پچھلے کئی ہفتوں سے سیاسی میدان میں جو ہیجان کی کیفیت طاری ہے۔ اس کا ڈراپ سین قریب آتا جا رہا ہے۔ آج قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی ہے اس پر بحث کا باقاعدہ آغاز 31 مارچ کو ہوگا اور مجموعی طور پر سات دن کے اندر اندر ووٹنگ ہو جائے گی۔ بظاہر اپوزیشن جماعتوں کا پلہ بھاری معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ان کے ساتھ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین اور اتحادی جماعت بی اے پی کے چار اراکین نے بھی انہیں حمایت کا باقاعدہ یقین دلایا ہے۔ شاہ زین بگٹی بھی حکومت کو خیرآباد کہہ چکا ہے۔
آج کی سب سے حیران کن اسٹوری مسم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے پر آمادگی کے بعد پی ٹی آئی کچھ سکون محسوس کررہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ ایم کیو ایم بھی شاید سودا کرکے حکومت کے ساتھ بنی رہے اور اس طرح منحرف اراکین بھی تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہ بنیں۔ وہ شاید منظرعام پر نہ آئیں بدستور اپنے بلوں میں چھپے رہیں۔
بطور پاکستانی مجھے آج چوہدری برادران کے اس بازاری رویہ پر سخت غصہ آرہا ہے اور احتجاج کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔ میرا تعلق چونکہ لاہور سے ہے اور میں ان کرداروں کو نوعمری سے بھی جانتا ہوں۔ اس لئے ان کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ چوہدری پرویز الٰہی کی آج کی منافقانہ چال کو دیکھ کر سر دھننے کو جی چاہتا ہے۔
پچھلے کئی ہفتوں سے انہوں نے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو چکمہ دے رکھا تھا۔ ہر کوئی ان سے سودے بازی کررہا تھا۔ ق لیگ میں سب سے خطرناک آدمی طارق بشیر چیمہ ہے جو کہ پرویز الٰہی کی بطور وزیراعلیٰ پیشکش کو قبول کرنے کے بعد وزارت سے مستعفی ہو گیا ہے اور کھل کر چوہدری برادران کے سامنے آگیا ہے۔ یعنی ق لیگ میں بھی پھوٹ پڑ چکی ہے۔ پرویز الٰہی کے حالیہ بے شمار انٹرویوز اٹھا کر دیکھ لیں وہ آصف زرداری کی تعریفیں کرتا نہیں تھکتا۔ اس کا کہنا تھا کہ آصف زرداری سب سے زیادہ زباں کا پکا آدمی ہے۔ عمران خان پر طنزیہ انداز میں تنقید بھی کرتا رہا ہے۔
عمران خان نے پے در پے جتنے بھی عوامی جلسے کئے ہیں اس میں عوام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی ہے۔ اسلام آباد کا جلسہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عمران خان کی عوامی طاقت میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ بہت اضافہ ہو چکا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر عمران خان تحریک عدم اعتماد کو ناکام کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو فوری طور پر اسمبلیاں تحلیل کرکے تازہ الیکشن میں چلا جائے اور امید واثق ہے کہ عمران خان کو واضح اکثریت حاصل ہو جائے گی اور شاید اتنی اکثریت مل جائے کہ اسے حکومت بنانے کے لئے کسی اتحادی کی ضرورت بھی نہ پڑے۔ عمران خان جیسے صاف شفاف آدمی کے لئے پاکستانی سیاست کا میدان بہت گندہ ہے اور یہاں لوٹوں اور لفافوں کا راج ہے، بلیک میلز کی کثیر تعداد ہے۔ آئے دن مفادات کے لئے پارٹیاں بدلنے والے اراکین زہرقاتل ہیں۔
اس بوسیدہ نظام کو مکمل ڈرائی کلین کرنے کی ضرورت ہے اور جب تک اس ملک میں صحیح معنوں میں احتساب یا انقلاب نہیں آئے گا اس کو چلانا انتہائی دشوار ہو گا۔ خان نے ان ساڑھے تین سالوں میں انتہائی جانفشانی، محنت، لگن اور دیانتداری سے کام کیا ہے جس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی کرپٹ سیاست دانوں کی حمایت کررہا ہے لیکن خوش آئند بات یہ لگ رہی ہے کہ اپوزیشن کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے جلسے اور ریلیاں کہیں زیادہ پاورفل تھیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ عوام میں شعور کا لیول بڑھا ہے۔ اگر ہم عمران خان جیسے قد آور لیڈر کو گندی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیں گے تو یہ پاکستان کی بڑی بدقسمتی ہو گی۔ اس جیسے لوگ روز پیدا نہیں ہوتے۔ پاکستان کو خوشحال ملک بنانے کے لئے خان نے ہر ممکن کوشش کی ہے اور کرتا رہے گا اور اگر پچھلی حکومتوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو یہ حکومت بہت بہتر ہے اس کے وزراءبہت حد تک کرپشن سے بچے ہوئے ہیں۔
عمران خان ایک ایسا ہیرو ہے کہ وہ حکمران نہ ہوتے ہوئے بھی ان سب میں ممتاز حیثیت کا حامل ہوگا اور یہ کرپٹ ٹولہ کچھ سالوں بعد تاریخ کے صفحوں میں دم توڑ جائے گا لیکن عمران خان کا نام ہمیشہ درخشاں رہے گا اور زندہ رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں