شکیل اشرف کے قتل نے پوری کمیونٹی کو لرزا دیا 20

شکیل اشرف کے قتل نے پوری کمیونٹی کو لرزا دیا

ستمبر 12 بروز پیر کی دوپہر ایم کے آٹو ریپیئر شاپ کے مالک شکیل اشرف کے بہیمانہ قتل نے پوری پاکستانی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا، اور نہ صرف ملٹن کے مکین بلکہ جی ٹی اے بھر کے پاکستانیوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ تفصیلات کے مطابق شکیل اشرف جو کہ ایک ماہر موٹو مکینک تھا، کمیونٹی میں ہر دلعزیز رہا، اس نے ہمیشہ کمیونٹی کی ہر آڑے وقت میں مدد کی۔ وہ دوستوں کا دوست تھا اور نہایت ہنس مکھ اور ملنسار انسان تھا کو اس کے ایک سابقہ ملازم نے جو اس کی مکینک شاپ پر کام کرتا رہا اور بعدازاں کام چھوڑ کر چلا گیا۔ اچانک پیر کی دوپہر نمودار ہوا اور پہلے اس نے ایک پولیس آفیسر کو مسی ساگا میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا اور پھر وہ ملٹن پہنچا اور شکیل اشرف اور اس کے ملازمین جو کہ لنچ پر تھے، انہیں ٹارگٹ کیا۔ شکیل اشرف فائرنگ سے موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ قاتل جو کہ ایک سیاہ فام شخص ہے نے دوبارہ میگزین لوڈ کی مگر وہاں موجود چند دیگر ملازمین اور کسٹمرز کی خوش قسمتی کہئے کہ پستول میں گولیاں پھنس گئیں اور وہ مزید قتل نہ کرسکا اور فرار ہو گیا۔ یہ واردت شکیل اشرف کی مکینک شاپ ایم کے آٹوز ملٹن پر ہوئی جب کہ اس سے قبل قاتل مسی ساگا میں ایک پولیس آفیسر کو قتل کرچکا تھا جو کہ پولیس پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے کہ کیونکر ایک قاتل مسی ساگا میں پولیس آفیسر کو قتل کرکے ملٹن تک پہنچا اور پھر مزید افراد کو قتل کرکے فرار ہو گیا۔ کمیونٹی نے اس معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور پولیس کو بھی اس معاملہ میں ذمہ دار ٹھہرایا ہے کہ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو اس دوسرے حادثہ سے بچا جا سکتا تھا۔ مقتول شکیل اشرف نہ صرف ایک مکینک تھا بلکہ ایک اچھا کرکٹر بھی تھا اور اسپورٹس میں دلچسپی رکھتا تھا اور مالی معاونت بھی کرتا رہتا تھا۔ مرحوم شکیل اشرف نے لواحقین میں بیوہ کے علاوہ تین معصوم بیٹیاں جن کی عمریں 15 سال، 12 سال اور 11 سال ہیں چھوڑی ہیں۔ جو یہ یقین کرنے پر آج بھی تیار نہیں کہ ان کے والد اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ آج بھی دروازہ کھولے اپنے والد کی راہ تک رہی ہیں۔ مرحوم شکیل اشرف کی نماز جنازہ بروز بدھ بعد نماز ظہر کوپر مسجد مسی ساگا میں ادا کی گئی۔ جہاں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ مرد و خواتین کی بڑی تعداد مرحوم شکیل اشرف کی نماز جنازہ میں موجود تھی۔ مسی ساگا کی میئر بونی کرامبی اور ڈپٹی قونصل جنرل ٹورنٹو یاسر بٹ نے کوپر مسجد آکر کمیونٹی اور مرحوم کی فیملی سے تعزیت کی اور اظہار افسوس کیا۔ اس موقع پر پولیس کے افسران اور جی ٹی اے کا میڈیا بھی موجود رہا۔ بعد ازاں مرحوم کو میٹروول کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ ادارہ پاکستان ٹائمز نارتھ امریکہ مرحوم کے لواحقین سے اظہار افسوس کرتا ہے اور دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے، آمین۔ کمیونٹی کی جانب سے Go Fund Me کے ذریعہ مرحوم شکیل اشرف کے لئے چندہ کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ کمیونٹی سے گزارش ہے کہ اس فنڈ میں دل کھول کر عطیات دیں تاکہ مرحوم کے لواحقین کی مالی امداد ہو سکے اور ان کی فیملی کسی مالی مشکل کا شکار نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں