عمران خان دہشت گردی مقدمہ میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش 19

عمران خان دہشت گردی مقدمہ میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش

اسلام آباد (فرنٹ ڈیسک) عمران خان دہشت گردی کے مقدمہ میں جے ئی ٹی میں پیش ہوئے تو انہیں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سے ان کے عام جلسوں میں عدلیہ اور اداروں کو کئے گئے حملوں کے متعلق دیئے گئے بیانات پر استفسار کیا گیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے معاشی حالات اور بعدازاں سیلاب کی صورتحال کے سبب چپ بیٹھا رہا وگرنہ میرے پیچھے عوام کا سمندر نکل سکتا ہے۔ جے آئی ٹی نے عمران خان سے سوال کیاکہ کیا یہ درست ہے کہ آپ نے تقریر میں کہا آئی جی ڈی آئی جی شرم کرو، زیبا چوہدری آپ پر ہم ایکشن لیں گے؟ جس پر عمران خان نے جواب دیاکہ ہاں میں نے بولا ہے ایسا،سوال کیاگیاکہ کیا آ پ کو علم کے آپ کی اس تقریر کے بعد افسران کے ماتحت فورس میں خوف پیدا ہوا؟ عمران خان نے جواب دیاکہ نہیں میرا مطلب ڈرانا خوف پھیلانا نہیں تھا۔ سوال کیاگیاکہ آپ کی تقریر اور مقدمے کے بعد کیس کے تفتیشی افسر کو ڈرایا جا رہا ہے۔ عمران خان نے جواب دیاکہ نہیں یہ بات میرے علم میں نہیں ہے۔ سوال کیاگیاکہ شہباز گل کیس زیر سماعت ہے اس کا فیصلہ آنا باقی ہے، عمران خا ن نے جواب دیاکہ جی میرے علم میں۔ ذرائع کے مطابق پولیس حکام نے بتایاکہ آپ کے یہ بیانات دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں، عمران خان نے جواب دیاکہ میرا مقصد یہ نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق عمران خان سے تفتیش ایس ایس پی انوسٹی گیشن، ایس پی سی آئی اے،کیس کے تفتیشی متعلقہ ایس ایچ او موجود تھے۔ پولیس نے عمران خان کا بیان ریکارڈ کرکے تفتیش کا حصہ بنا دیا۔ پولیس ٹیم کی جانب سے عمران خان کو تحریری طور پر 21 سوالات پر مشتمل سوالنامہ دیا گیا جب کہ پولیس کی جانب سے کچھ سوالات زبانی بھی کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان سے تفتیشی ٹیم نے تقریباً 20 منٹ تک تفتیش کی۔ جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ میری آج جے آئی ٹی میں پہلی پیشی ہوئی۔ میرے خلاف دہشت گردی دفعات لگائی گئیں، حکومت کو پیغام ہے جتنا تنگ کریں گے اتنی ہی تیاری کر لیں، ہم اتنے ہی مضبوط ہوں گے، دہشت گردی کا مقدمہ اور جے آئی ٹی میں حاضری بھی ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حکومت کو واضح پیغام دے رہا ہوں کہ اسی ماہ عوام کا سمندر نکلے گا، ہر کام قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر کیا، جتنا دیوار سے لگائیں گے ہم اتنا ہی مضبوط ہوں گے، میں نے 26 سال کی سیاست میں کبھی قانون کی خلاف وزری نہیں، دنیا دہشت گردی کی تعریف جانتی ہے، مقدمے کی وجہ سے دنیا ہم پر ہنس رہی ہے، ہمیں کہہ رہے ہیں سیلاب پر سیاست نہ کریں، دوسری طرف مجھے ختم کیا جارہا ہے، ہمیں سیاسی فنڈنگ کرنے والوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہاہے کہ ہم سیلاب زدگان کیلئے پیسے اکٹھے کر رہے ہیں، اس دوران حکومت حربے نہ اپنائے، سیلاب سے تباہی بڑا امتحان ہے اور قوم کو اکٹھا ہوکر ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی، صرف 5گھنٹے میں 10ارب روپے پاکستانیوں نے اکٹھا کر کے مجھے دیا، حکومت نے مجھ سے خوفزدہ ہو کر ٹیلی تھون کی نشریات ہی بند کرا دیں، بڑے مجرموں کو خوف ہے کہ ان کی کرسی نہ چلی جائے اور ان کی کرپشن نہ پکڑی جائے۔ بدھ کو تونسہ شریف میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس وقت قوم کو اکٹھا ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا، وزیراعلی پرویز الٰہی سے گزارش کروں گا کہ تونسہ کو ضلع کا درجہ دیں، ڈیم بن جائے تو تونسہ کے مسائل حل ہو جائیں گے، ہمارے ساڑھے 3 سالہ دور میں ڈیم کیلئے فزبلٹی بن چکی اور ٹینڈر بھی دیا گیا تھا،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ تونسہ میں آنے کا مقصد یہ تھا کہ ریلیف کا کام ٹھیک ہو رہا ہے یا نہیں، تونسہ کے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا، پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے زیادہ مشکلات پیدا ہوئیں، ڈرنیج سسٹم خراب ہونے کی وجہ سے پانی کھڑا ہوا، سیلاب متاثرین کے جو بھی نقصانات ہوئے ہم ہر طرح مدد کریں گے، متاثرین کی ریلیف کے بعد دوبارہ بحالی بھی بڑا امتحان ہوگا،انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت انڈس ہائی وے کو فوری طور پر بحال کرائے، حکومت ڈیول کیرج وے دوبارہ سے بحال کرے، دریائے سندھ رائٹ سائیڈ پر بینک کینال ہے وہاں نہر 20 سال سے بن رہی ہے، واپڈا نے سیہون تک نہر مکمل کرلی اور سندھ حکومت اب تک آگے نہ بڑھ سکی، آر بی او ڈی کام کر رہی ہوتی تو سندھ میں اتنی تباہی نہیں ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں