عمران خان کا طلسم ٹوٹ رہا ہے 17

عمران خان کا طلسم ٹوٹ رہا ہے

عمران خان نے اپنی حکومت کی برطرفی کے بعد جو بیانیہ اپنایا تھا اس نے عوام میں ایک جوش ولولہ پیدا کردیا تھا، حکومت بھی لرز گئی تھی اور عمران خان نے جس انداز میں نیوٹرل اور امپورٹڈ حکومت کا نعرہ لگایا تھا وہ کافی حد تک کامیابی سے ہمکنار ہوتا دکھائی دیتا تھا مگر پھر عمران خان نے لانگ مارچ کی کال دی جو کہ سیاسی مبصرین کے خیال میں جلدبازی تھی مگر شاید عمران خان کا وہ فیصلہ درست تھا، وہ ڈی چوک پہنچ گئے تھے مگر انہوں نے کسی ناگہانی سازش اور خطرہ کے پیش نظر لانگ مارچ ختم کرنے کا اچانک اعلان کردیا جس کے سبب عوام کا موڈ بھی بدل گیا۔ پھر عمران خان کو جان سے مار دینے کی خبریں تیزی سے گردش کرنے لگیں اور یوں عمران خان بنی گالہ کے ہو کر رہ گئے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہیں اپنی گرفتاری کا بھی خوف تھا کہ کہیں باہمی تصادم کروا کر انہیں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے ویڈیو لنک کا سہارا لے لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نے بھی روڈ پر نکلنا مناسب نہ سمجھا اور عمران خان کی مقبولیت سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئی، حکومت کو بھی اندازہ ہو گیا کہ اب معاملات سنگین نہیں رہے اور عوام ٹھنڈے ہو گئے ہیں جوکہ کسی حد تک درست بھی ہے۔ حال ہی میں آئی ایم ایف سے معاہدہ اور چین سے قرضہ ملنے کی امیدوں نے حکومت کے اعتماد میں اضافہ کردیا ہے اور امپورٹڈ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ اپنا ڈیڑھ سال کا عرصہ پورا کرکے نئے الیکشن کے لئے خود کو تیار کرے گی۔
عمران خان نیوٹرل نیوٹرل کا نعرہ لگانے کے باوجود اپنی طاقت کھوتے نظر آرہے ہیں، انہوں نے اپنے غلط بیانات کی وجہ سے بھی جو انہوں نے فوج کے بارے میں دیئے، اپنی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ماضی میں ان کا ملک کے تین ٹکڑوں میں بٹنے کا اعلان بھی لوگوں کو پسند نہیں آیا جب کہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو عمران خان کا یہ بیان حقیقت سے قریب تر ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط پاکستان کو مزید گہرائیوں میں لے جارہی ہے۔ اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گیا ہے۔ جولائی تک امریکی ڈالر کے 250 پاکستانی روپے تک جانے کے امکانات ہیں جب کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام بھی خطرہ میں دکھائی دیتا ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ کو افغانستان میں اپنے قدم جمانے کا ایک بار پھر موقع مل رہا ہے۔ یوں پاکستانی فوج اور حکومت بری طرح امریکہ کے دام میں پھنس چکی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سنگین صورت حال میں پاکستان کی موجودہ حکومت یا آئندہ الیکشن کے نتیجہ میں بننے والی حکومت کس طرح معاشی طور پر تباہ ہوتے پاکستان کی معیشت کو سہارا دے پائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں