آرمی چیف کی تقرری کا طریقہءکار؟ 87

فیصلے کی گھڑی!

گزشتہ کئی ماہ سے جاری اپوزیشن جماعتوں کے جلسے، ریلیاں، لانچ مارچ اور احتجاج رنگ لے آیا ہے خواہ اس کا طریقہ مختلف ہے گزشتہ اتوار یعنی 3 اپریل کو تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری طے تھی اور اپوزیشن حکومتی منحرف ممبران سمیت اتحادی جماعتوں کے ساتھ نمبر گیم میں بہت آگے تھی جس کا اندازہ ہر شخص کو ہو رہا تھا اور اس پر بیرون ممالک سمیت اندرون پاکستان لوگوں کی تشویش دیدنی تھی۔
عمران خان نے قوم کو پریشان نہ ہونے کی تلقین کی تھی اور اس میں وہ بڑے پراعتماد نظر آرہے تھے، ہمارے مبصرین، تجزیہ کار، اینکرز اور گہری سوچ رکھنے والے سے لے کر عام شہری تک سب حیران تھے کہ آخر خان کے پاس کون سا پتہ ہے جو وہ کھیلے گا اور بازی پلٹ جائے گی۔ اس ایک نقطہ پر کئی دنوں سے بہث جاری تھی مگر کسی کے پاس کوئی قابل عمل حل نہیں تھا، ہر کوئی اپنے اندازے لگا رہا تھا۔ عمران خان مخالف لابی یقینی ہار قرار دے رہی تھی جب کہ حکومتی بنچوں اور کچھ عمران خان کے ساتھ محبت کرنے والے لوگ کہہ رہے تھے کہ کپتان آخری بال تک کھیلے گا اور یہی دعویٰ عمران خان کا رہا ہے کہ وہ ہا رنہیں مانتا اور آخر وقت تک حالات کا مقابلہ کرتا ہے اور اس میں ہمیشہ اللہ نے اس کی غیبی مدد کی ہے اور تحریک عدم اعتماد کا جو حشر ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
میں نے ہمیشہ اپنے کالموں میں عمران خان کی حمایت کی ہے اور وہ صرف اور صرف اس بنیاد پر کہ وہ ایک محب وطن شخص ہے، انتہا کا دیانتدار اور محنتی انسان ہے، اس نے پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی طرف کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس کی وراثت میں کوئی جائیداد نہیں ہے وہ سب کچھ شوکت خانم کو دے چکا ہے۔ صحیح معنوں میں فقیر منش شخص ہے۔ اس نے کچھ ذاتی منفعت کی بات نہیں کی اور نہ ہی اپنی فیملی کے کسی فرد کو قریب آنے دیا ہے البتہ پی ٹی آئی میں بہت سارے مفاد پرست لوگ شامل ہیں جن کا اس دوران بھانڈہ پھوٹ چکا ہے اور آئندہ خان ایسے لوگوں کو پارٹی میں لینے سے باز رہے گا جیسا کہ اس کی پارٹی کے لوگوں اور عام پبلک نے بھی اس کا ظہار کیا ہے جب کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے تمام ادوار ہمارے سامنے ہیں جس میں اقرباءپروری اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رہا ہے۔ بدمعاشی اور بھتہ خوری، قبضہ مافیا، کاروباری مافیا سب کا راج رہا ہے اور انہیں حکومتی آشیرباد حاصل رہی ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ قوم آئندہ آنے والے انتخابات میں پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت دلوائے تاکہ وہ آزادی کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے کام کر سکے۔ صحیح قانون سازی اور تعمیراتی منصوبے وقت پر کرسکیں اس وقت قوم کا پارہ بڑا ہائی ہے اس میں دو تین کلیدی وجوہات ہیں سب سے پہلے لوگوں نے اس بات پر بہت احتجاج کیا ہے کہ سب کے سب کرپٹ لوگ اکٹھے ہو کر ایک ایماندار حکمران کو نیچا دکھانے کے لئے سرگرم عمل ہیں دوسر اشہباز شریف نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کے عوام فقیر ہیں اور فقیر اپنے فیصلے نہیں کرسکتے اس پر قوم بھڑکی ہوئی ہے اور اس کی سوشل میڈیا سمیت ہر فورم پر سخت تنقید کی جارہی ہے اور تیسرا یہ کہ عمران خان کا ساتھ چھور جانے والے اراکین کو جس طرح خریدا گیا ہے اور انہوں نے بھی جس ڈھٹائی کے ساتھ یہ سارا عمل کیا وہ بھی قوم کو ہضم نہیں ہو رہا۔
پاکستانی قوم اگر چاہتی ہے کہ ہمارا لیڈر باوقار شخص ہو اور پاکستان ایک خوددار، آزاد اور خودمختار ملک بنے تو ہمیں عمران خان کو آنے والے انتخابات میں بہت بھاری اکثریت دلانی ہو گی تاکہ وہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی بلیک میلنگ سے نکل سکے اور بہترین فیصلے کرسکے۔ ہم عوام ووٹ کی پرچی سے پاکستان کی تقدیر بدلیں گے۔ آئیے اس کا عہد کریں۔ فیصلے کی گھڑی آگئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں