کراچی مقبوضہ۔1 96

ملت فروش۔ ضمیر فروش

ہندوستان میں پاکستان کے خلاف اگر ایک طرف فوج کے ذریعہ اپنا گھیرا تنگ کیا ہوا ہے اور دنیا بھر سے جدید ترین ہتھیار، طیارے، میزائل اور دیگر اسلحہ کا انبار لگا رہا ہے، دوسری طرف ان سیاستدانوں کے ذریعے جن کے مالی مفادات ہندوستان اور ہندوﺅں سے وابستہ ہیں جو پاکستان اور بیرون پاکستان بیٹھ کر ملک دشمن کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ اور ان کے اربوں کھربوں کا سرمایہ ہندوستانیوں کے ہاتھوں میں ہے، جو ان کی لوٹی ہوئی دولت کی ساری دنیا میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ان کی جائیدادوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ جب کہ پاکستان کے خلاف لابسٹ کے ذریعہ پاکستان کی انتہائی تاریک تصویر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں، اور نہ ہی حکومت کی مخالفت کرنے والی یہی عناصر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں تخریبی کارروائیاں کرنے کے لئے سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ اور ان تخریب کاروں کو سہولتیں بھی فراہم کرتے ہیں، ان پاکستان دشمنوں کا صرف اور صرف ایک ایجنڈا ہے کہ پاکستانی فوج کو بدنام کیا جائے اور کوئی بھی ایسا کام جو پاکستان کے مفاد میں ہو اس کی مخالفت کی جائے۔ اس میں سب سے بڑھ کر چین اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تاریخی سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ تاکہ پاکستان کسی طرح بھی خود انحصاری حاصل کر سکے۔ اور ہمیشہ مغربی ممالک کا محتاج رہے اس کے علاوہ پاکستان دشمن ممالک کو پاکستان کا ایٹمی اثاثہ بھی آنکھوں میں کھٹکتا ہے وہ ہندوستان اور اسرائیل کے اشاروں پر اسے رول بیک کرنے کے درپہ ہیں۔ اگر پاکستان اقتصادی طور پر مستحکم ہو گیا اور مغربی مالی اداروں کے چنگل سے آزاد ہو گیا تو پھر وہی ایشیا میں ایک طاقت ور ملک بن کر ابھرے گا۔
ان ساری سازشوں کے ساتھ ساتھ جس سے پاکستان کی حکومت اور فوج خاطر خواہ طور پر نمٹ رہی ہے اب ہندوستان نے ایک اور محاذ پر پاکستان کی سالمیت اور اس کی اساس پر حملہ کرنے کی تیاری تو کی بلکہ اس پر عمل کرنا شروع کردیا ہے اور اس قدر خوفناک حملہ ہے جس سے باہر کے کسی دشمن کا سامنا نہیں ہے بلکہ گھر کے بھیدیوں اور آستین کے سانپوں کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے جس کی واضح مثالیں اب سوشل میڈیا، جلسہ عام، مساجد، مذہبی اجتماعات اور زہر آلودہ بیانوں سے ظاہر ہو رہی ہیں اس مرتبہ دشمن مذہبی محاذ پر ان ضمیر فروش، بد کردار، ایمان باختہ، شرابی اور زانی مذہبی ٹھیکیداروں کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے جس کی واضح مثالیں بھارتی میڈیا پر نظر آرہی ہیں ان کے مطابق 15 سے 20 کروڑ روپیہ کے بجٹ کے ذریعہ پاکستانی نوجوانوں کو خرید کر فرقہ وارانہ فساد شروع کرائے جائیں اور اس طرح ملکی سالمیت پر ضرب کاری لگائی جائے۔ ان کے منصوبے کے مطابق بریلوی عقیدے کے مولویوں کو خریدا جائے اور ملک بھر میں ہر ضلع میں ایسے مولوی تلاش کے جائیں جو قابل فروخت ہوں۔
میڈیا کے مطابق ان مولویں کو پانچ چھ ہزار روپیہ تنخواہ ملتی ہے ان سے کہا جائے کہ انہیں ہر ماہ دو لاکھ روپیہ گھر بیٹھے ملیں گے جو دوبئی، ماریشش یا یمن آئی لینڈ سے انہیں بھیجے جائیں انہیں گھر دیا جائے ان کے بچوں اور اہل خانہ کو بہتر زندگی فراہم کی جائے، آئی فون، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر دیئے جائیں اور ایک میڈیا ٹیم جو دوبئی میں ہو ان سے منسوب پوسٹیں میڈیا پر لگائیں انہیں مساجد، مذہبی اجتماعات اور دیگر پلیٹ فارم سے دیوبندیوں کو کافر اور گردن زدنی قرار دینے کے لئے احادیث اور قرآنی حوالے دیئے جائیں۔ جیسے احمدیوں کو کافر اور واجب القتل قرار دینے کے لئے قرآن سے حوالے ڈھونڈے گئے تھے۔ گو کہ قرآن میں بریلوی، دیوبندی، شیعہ اور سنیوں کا کوئی ذکر نہیں ہے مگر یہ مولوی جنہوں نے یہ تفرقہ بازیاں تخلیق کی ہیں جب کہ قرآن سب کو مومن کہتا ہے اسی طرح دیو بندیوں میں سے بھی ایسے ہی مولویں کو تلاش کرکے انہیں بریلویوں کے خلاف استعمال کیا جائے اور یہ کام یہ مولوی ہی نہیں بلکہ سعودی عرب اور ایران بھی کررہے ہیں۔ سعودی عرب نے طاہر اشرفی جیسے مولوی کو جو کہ شام کے وقت جب کہ لوگوں کے ہاتھوں میں پانی کے گلاس ہوتے ہیں مگر سب جانتے ہیں کہ وہ شراب کے بے حد شوقین ہیں تو ان کے ہاتھوں میں خالص ولایتی شراب ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ ٹی وی پر بھی اس نشے میں ”ٹن“ بلکہ ہندوستان میں اسے ”بھنڈ“ کہا جاتا ہے اور عورتوں کے بیچ میں نشے کی حالت میں تقریر کرتے ہیں۔ میڈیا میں کہا گیا کہ اس مولوی کو ہم اترپردیش کی خالص وہسکی فراہم کریں گے اور اپنا کام نکلوائیں گے۔
ہندوستان کے مطابق ایک طرف مولوی یہ کام کررہے ہیں تو دوسری طرف یہی کام سعودی عرب کررہا ہے۔ جب گزشتہ دنوں آئی ایس آئی کے جنرل فیض اور جنرل باجوہ سے شہزادہ سلمان نے ملنے سے انکار کردیا مگر ایک خصوصی طیارہ بھیج کر مولویوں کو سعودی عرب بلوایا اور انہیں بریلویوں کے خلاف اور شیعوں کے خلاف مہم چلانے کے لئے کہا کہ یہ مولوی جو سعودی ریالوں پر پلتے ہیں اب پاکستان میں یہ ٹیم چلا رہے ہیں جب کہ ہندوستان کو بھی اب پورے زور و شور سے اس پر سرمایہ کاری کرنی چاہئے اور اس طریقے سے ہندوستان پاکستان کو ریزہ ریزہ کر سکتا ہے۔
میڈیا کا کہنا ہے کہ گو کہ ہندوستان میں بھی بریلوی بڑی تعداد میں ہیں مگر پاکستان میں جہالت بہت زیادہ ہے وہاں تعلیم کا معیار تباہ ہو چکا ہے، سائنس کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے، حالانکہ وہاں ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز ملا تھا مگر مولویوں نے ان پر احمدی کا ٹھپہ لگا کر انہیں واجب القتل قرار دیدیا۔ ہندوستانی ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے ایک اینکر نے کہا کہ مولوی نے اس ملک میں تفرقہ بازی کی گند ڈالی ہے جب کہ قرآن میں کسی فرقے کا ذکر نہیں ہے اور نہ کسی کو قتل کرنے کے لئے کہا گیا ہے بلکہ اس میں سب کو مومن کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس مہم کے ذریعے پاکستان میں چھ ماہ کے اندر اندر ایسا مذہبی طوفان اٹھے گا جس سے نمٹنا نہ حکومت کے لئے اور نا فوج کے لئے ممکن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام نہ ہندوﺅں نے کیا نہ یہودیوں نے بلکہ یہ کام ان مولویوں نے کیا ہے جو جاہل ہیں اور بکاﺅ مال ہیں۔ اس کے مطابق اس کام کے لئے دوبئی سے ہر ہفتے ایک ویڈیو جاری کی جائے اور ہر ہر ضلع میں ہندوستان کے زرخرید مولویوں کے ذریعہ یہ پوری قوم میں پھیلایا جائے تو جو کام ہندوستانی فوج نہ کر سکی وہ یہ مولوی انجام دیں گے کیونکہ ان سے کہا گیا ہے کہ احادیث اور دیگر مذہبی حوالوں سے مخالف فرقوں کے خلاف ایسے واقعات بیان کریں جس سے عوام کے جذبات بھڑکیں اس طرح ہمارا کام آسان ہو جائے گا۔ (ذرا اپنے ارگرد نظر ڈال لیجئے گزشتہ دنوں یہ بھارتی ایجنڈا کس طرح پاکستان میں کام کررہا ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں