Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 93

منصوبہ بندی

عمر کی کئی حدیں پھلانگنے کے بعدگزرا ہوا دور بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔نئی نسل کے ساتھ دوڑنے کی طاقت نہیں رہتی اور نہ ہی نئے دور کے تقاضے سمجھ میں آتے ہیں۔لہذا زچ ہوکر یہی کہنا پڑتا ہے کہ نئی نسل بگڑی ہوئی ہے ہمارا دور جوانی اچھّا تھا۔ یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ہمیشہ سے ہی نئی اور پرانی نسل میں کھینچا تانی چلی آرہی ہے پچھلی صدی کے اکبر الہ آبادی نے کہا تھا۔۔ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں کہ جن کو پڑھ کے بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں۔
جس وقت یہ شعر کہا گیا تھا اس وقت کے لوگ اپنی اگلی نسل کو برا بھلا کہتے ہوئے کوچ کرچکے ہیں۔جب کہ یہ شعر ان کے لئے ہی کہا گیا تھا جب وہ جوان تھے۔یہ تو ٹھیک ہے کہ ہر دور اپنے ساتھ کچھ خرابیاں بھی لے کر آتا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ صدیوں سے اس بات کا علم رکھتے ہوئےبھی مستقبل کے لئے کسی نے یہ کوشش نہیں کی کہ خرابیوں سے بچا جاسکے اس کے لئے کوئی منصوبہ بندی کوئی پیش بندی نہیں کی جاتی ہے۔البتّہ ایسا بھی نہیں ہے کہ آنے والے وقت کے لئے کہیں بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی ہے دنیا بھر میں آنے والے وقت کے لئے کچھ پیش رفت ہوتی ہے لیکن صحیح پیمانے پر ہر جگہ نہیں ہوتی یہاں تک کے ترقّی یافتہ ممالک میں بھی مستقبل کی منصوبہ بندی سو فیصد نہیں ہوتی ہے ان ممالک میں اس کی شرح چالیس سے ساٹھ فیصد ہے جب کے ہمارے ملک اور ہمارے جیسے کئی ممالک میں اس کی شرح دس فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔جہاں اس کی شرح زیادہ ہے وہاں ایک خاص پروگرام کے تحت بچّے کو اس کی ابتدائی تعلیم سے ہی ایک خاص تربیتی ماحول ملنا شروع ہوجاتا ہے جو کہ اس کی تکمیل تعلیم تک جاری رہتا ہے اور عملی زندگی میں آنے کے بعد اس تربیت میں ڈھلے ہوئے افراد ملک اور معاشرے کی ترقّی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں آج کے غیر ترقّی یافتہ ممالک میں سے کچھ ممالک کے پاس وسائل بھی تھے اور اچھّے ذہن بھی تھے لیکن اچھّی قیادت نا ہونے کی وجہ سے تعلیمی اور تربیتی پروگرام سے محروم رہے لہذا ان وسائل اور ذہنوں کو زنگ لگنا شروع ہوگیا بد قسمتی سے ہماری قیادت ایسے لوگوں پر مشتمل رہی جن میں سے کچھ تو تعلیم اور تربیت سے ہی نا واقف تھے۔اور جو اس پروگرام کو چلانے کی صلاحیت رکھتے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ پڑھ لکھ کر ان کے مقابل کھڑے ہوں۔
بہرحال ان نوجوان ذہنوں سے ہمارے آقاوں نے تو کام نہیں لیا لیکن ان ممالک کے ماہرین نے جن کے پاس وسائل اور تربیتی پروگرام تھے اپنی جوہر شناس نظروں سے ان ہیروں کو چن لیا یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے بے شمار ڈاکٹر سرجن ، انجینئرز سائنسدان دوسرے ممالک کی ترقّی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور بے شمار گمنامی کی زندگی بسر کررہے ہیں جن سے دوسرے ہم وطن نا آشنا ہیں۔ تعلیم اور تربیتی ماحول نا ہونے کا ایک بڑا نقصان ہمارے جیسے ممالک کو یہ بھی ہے کہ نئی نئی ایجادات کے صحیح استعمال کا فائدہ اور غلط استعمال کے نقصانات سے آگہی نا ہونے کے برابر ہے۔حالانکہ یہ ایجادات انسان کی بھلائی اور آرام دہ زندگی گزارنے کے لئے بھی ہیں لیکن کچھ تخریب کار اس کا غلط استعمال دریافت کرلیتے ہیں جس سے معاشرے میں برائیاں جنم لیتی ہیں۔ تعلیم کے فقدان کی وجہ سے ان چیزوں کے صحیح اور غلط استعمال کا بتانے والا کوئی نہیں ہے ترقّی یافتہ ممالک میں چالیس فیصد اور ہمارے ملک جیسے ممالک میں نوّے فیصد افراد ان چیزوں کے غلط استعمال کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں۔آنے والے وقت اور ان چیزوں کے استعمال کے لئے منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔ امریکن نے ڈیڑھ سو سال پہلے جب برطانوی سامراج کے تسلّط سے آزادی حاصل کی۔تو ان کو آئین بنانے کی ضرورت پیش آئی چونکہ تمام یوروپ کے لوگ یہاں آکر بس چکے تھے اور اس کو ہی اپنا وطن بناچکے تھے۔لہذا آئین کی تیّاری کے وقت تمام ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے نمائندے ایک میز کے گرد بیٹھے اور بڑی عرق ریزی سے آئین کی تیّاری میں حصّہ لیا مبادہ کسی کے ساتھ کوئی حق تلفی نا ہو ۔مستقبل کے بارے میں لائحہ عمل طے کیا اور اگلے سو سال تک کی پلاننگ کرڈالی اور ترقّی کی راہ پر گامزن ہوگئے۔ٹیکس ،انشورنس،انسانی حقوق،قانون سب پہلے ہی طے کرلیا گیا اور آج تک ایک اصول کے تحت تمام کام ہورہے ہیں۔ہمارا ملک بنتے ہی لوگ مال غنیمت کی طرح ٹوٹ پڑے۔ بیٹھ کر منصوبہ بندی کرنے کے بجائے کرسی ہتھیانے کے منصوبے بنائے جانے لگے اور آج تک صرف ان ہی منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں تہتّر سال سے سیاسی کشمکش اقتدار کے لئے رسّہ کشی اس کے علاوہ کیا دیکھا۔اور زرا ان ممالک کی طرف دیکھیں جو ہمارے بعد یا ہمارے ساتھ ہی یا ہم سے بھی برے حالات میں چلے تھے آج کہاں کھڑے ہیں۔کوریا۔چین ، جاپان خوش قسمتی سے راقم کو جاپانی قوم کے ساتھ کچھ عرصہ گزارنے کا موقع ملا ۔ٹوکیو ،یوکوہامہ سے لے کر سائتامہ کین کے چھوٹے چھوٹے دیہات تک دیکھنے کا موقع ملا میں آج تک حیران ہوں کے جاپان میں رہنے سے پہلے میں برطا نوی قوم کو ہی تہذیب یافتہ قوم سمجھتا تھا۔لیکن جو تہذیب و تمدّن جاپان میں دیکھنے کو ملا شائید وہ کہیں بھی نا ہو ۔بہرحال یہ ایک طویل موضوع ہے لیکن میں چند ایک مثالیں ضرور بیان کرنا چاہوں گا جس سے یہ معلوم ہو کہ ملک اور قوم کو کس طرح بنایا جاتا ہے۔مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے جاپان اور پھر چین میں اس کی شرح سب سے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ یہ اقوام آہستہ آہستہ دنیا کی کئی ترقّی یافتہ قوموں کو پیچھے چھوڑتی جارہی ہیں۔جاپان کی سردیوں کی صبح چھ بج رہے ہیں کڑاکے کی سردی میں کسی بھی فٹ پاتھ پر نظر ڈالیں چھ سے آٹھ سال کے بچّوں کی قطار جاتی نظر آرہی ہے گلے میں چھوٹے چھوٹے تھیلے لٹکے ہوئے ہیں۔ آگے آگے ٹیچر اور پیچھے بچّوں کی قطار راستے میں جو کاغذ کے ٹکڑے ،سگریٹ کے ٹوٹے ،گرے ہوئے پتّے پڑے ہوئے ہیں ان کو اٹھاکر تھیلے میں ڈال رہے ہیں یہ صبح کا پہلا پیریڈ ہے۔پھر یہ اپنے اسکول دوبارہ جائیں گے اسمبلی ہوگی اور پھر کلاس میں جائیں گے۔یہ روز کا معمول ہے یہ دراصل صرف فٹ پاتھ کی صفائی نہیں ہے بلکہ یہ ان بچّوں کے ذہنوں کی بھی صفائی ہے۔اس کے علاوہ بڑے بچّے ہفتے میں ایک دن اسکول کے آس پاس رہائشی گھروں میں جاتے ہیں اور ان کی گاڑیاں دھوتے ہیں یہ ایک لگے بندھے اصول کے تحت ہورہا ہے ۔کوئی شخص گاڑی کو صاف کرنے یا دھونے کو منع نہیں کرتا ہے چپ چاپ چابیاں دے دیتا ہے۔ان بچّوں میں کوئی تفریق نہیں ہے چاہے کسی سرمایہ دار کا بیٹا ہو یا چپراسی کا سب کو یکساں کام کرنا پڑتا ہے ہمارے یہاں بیس سال کے نوجون کو اگر ابّا کوئی کام بتادیں تو امّاں چلّاتی ہیں ارے ابھی بچّہ ہے کھیلنے کودنے کے دن ہیں ابھی سے اس کے سر پر بوجھ نا ڈالو بلکہ شادی کے بعد تک بچّہ ہی رہتا ہے کہ بہو میرے بچّے کو بے وقوف بنا رہی ہے۔بہرحال جاپان میں کسی بھی فیکٹری کا مالک چاہے اس کے پاس پچاس ملازم ہوں یا پانچ سو صبح وہ فیکٹری ورکرز کے لباس میں نظر آتا ہے اور ان کے ساتھ کام کرتا ہے اپنے کام کی جگہ کی صفائی بھی خود ہی کرتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ کوئی ورکر آگے بڑھ کر کہہ دے سر میں کردیتا ہوں۔کوئی خصوصی رعائت نہیں ہوتی ہے فیکٹری کے مالک کے بچّے اسکول کالجز کی چھٹّیوں میں فیکٹری میں آکر مزدوروں کی طرح کام کرتے ہیں لائن میں لگ کر اپنا ڈیوٹی کارڈ پنچ کرتے ہیں۔یہ ہوتی ہے ذہنی ،جسمانی اور روحانی تربیت جس کے لئے بہت زیادہ محنت یا وسائل کی ضرورت نہیں پڑتی ہے صرف اپنی ذہنیت کو تبدیل کرنا پڑتا ہے اتنی بے شمار خوبیاں ہونے کے بعد کیا وہ قوم ترقّی نہیں کرے گی وہ تمام احکامات جو ہمارے دین کے زریعے ہمیں ملے ہیں ان پر یہ قومیں عمل کررہی ہیں تو خدا بھی ان کو نواز رہا ہے۔تہذیب ،شائستگی ،بڑوں کی عزّت۔غریبوں کی مدد،سچائی ،ایمان داری۔عفو ،درگزر ،مصالحت کوئی ایسی اچھّائی باقی نہیں رہ جاتی ہے جو اس قوم میں نا ہو اور اس کی سب سے بڑی وجہ مستقبل کی منصوبہ بندی کہ بچپن سے ہی انسان کس طرح بنانے ہیں۔جو آنے والے کل کے لئے اپنے لئے معاشرے کے لئے اور ملک کے لئے کچھ کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں