trump supporters in white house 13

ٹرمپ کے حامی وائٹ ہاﺅس میں مورچہ ذن

واشنگٹن (پاکستان ٹائمز) گزشتہ تین روز میں امریکی تاریخ میں کئی اہم اور غیر متوقع واقعہ پیش آچکے ہیں اور یوں صدر ٹرمپ امریکہ کے واحد صدر بن گئے ہیں جس نے الیکشن میں شکست کو نہ تو تسلیم کیا ہے بلکہ انہوں نے اپنے عہدے سے فارغ ہونے کے بجائے سیکریٹری دفاع کو فارغ کرکے ایک بہت بڑا پیغام امریکیوں کو دیا ہے انہوں نے الیکشن رزلٹ رکوانے اور الیکشن معطل کرانے کے لئے عدالت سے بھی رجوع کیا ہوا ہے۔ جیتنے والے صدر کے لئے وہائٹ ہاﺅس خالی ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وہاں ہارنے والے ٹرمپ کے حامی قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور جوبائیڈن کے عملہ سے کوئی تعاون نہیں کیا جارہا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صدر ٹرمپ، اگلی ٹرم کے لئے بھی صدر رہنا چاہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سارے حالات مل کر امریکہ کو خانہ جنگی کی جانب دھکیل رہے ہیں یہاں تک کہ جنرل ایڈمنسٹریٹر سروسز کے ایڈمنسٹریٹر ایملی ڈیبلومرفی نے اسرٹینمنٹ کے لیٹر جوبائیڈن کی ٹیم کو دینے سے انکار کردیا ہے یعنی وائٹ ہاﺅس خالی کرانے کے پراسس اور انتقال اقتدار کی منتقلی میں رخنہ ڈال دیا گیا ہے اور یہی چیز امریکہ میں خطرناک صورتحال کو جنم دیتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں امریکہ میں افراتفری ہی نہیں بلکہ خانہ جنگی اور خود کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کے سپرد کرنے جارہا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کے تمام اقدامات محض الیکشن میں ہارنے کا غصہ نکالنے کے لئے ہیں یا کوئی نہایت ہی خوفناک منصوبہ بندی پس منظر میں ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے تو امریکہ کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا امریکہ کی اسٹیبلشمنٹ کوئی کردار ادا کر پائے گی یا نہیں۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر امکان یہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جس خطرناک کھیل کا آغاز کیا ہے وہ اسے اتنی آسانی سے اور بغیر جیتے ختم کرتے دکھائی نہیں دیتے خواہ امریکی عوام کو اس کی جو بھی قیمت چکانا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں