خواب سا دیکھا ہے تعبیر نہ جانے کیا ہو 50

پاکستانی برآمدات اور ٹیکسٹائل صنعت

پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ہمیں غیر متوقع تیزی ملی جس کی وجہ کووِڈ 19 بنی۔ کورونا سے پہلے ٹکسٹائل کی برآمدات جمود کا شکار تھیں، اگر کوئی بڑھوتری تھی بھی تو وہ بہت ہی معمولی تھی۔ کورونا نے جب پوری دنیا پر حملہ کیا تو ا±س نے ہمیں پڑوسی ممالک کے مقابلے میں زیادہ متاثر نہیں کیا۔ ہمارے سامنے عوامی جمہوریہ چین، بھارت اور بنگلہ دیش کی مثالیں ہیں۔ بھارتی معیشت کو تو اس نے جام کر کے رکھ دیا، جس سے پوری دنیا میں ٹکسٹائل کی ضرورت بری طرح متاثر ہوئی۔ دنیا بھرمیں ٹیکسٹائل کی سب سے بڑی مارکیٹ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہے۔ امریکیوں کے دل میں یہ تھا کہ کووڈ کے پھیلانے میں شاید چین کا ہاتھ ہے۔ یہ بات امریکی کھلے عام کہتے تو نہیں لیکن اشارے کنائیوں میں کہہ بھی جاتے ہیں۔ بقول حضرت تنویر نقوی: ’ کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے ، کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے ‘۔ یہ بھی کورونا کے دوران چینی ٹیکسٹائل کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا سبب بنی۔ بھارت ایک بڑی ٹیکسٹائل معیشت ہے اور عوامی جمہوریہ چین ا±س سے بھی بڑی۔ جب امریکی منڈی میں اِن دو بڑے ممالک کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی شدید کمی واقع ہوئی تو اس خِلا کو پ±ر کرنے کا موقع خوش قسمتی سے پاکستان کو ملا۔ پھر جیسے ہی کورونا کی لہر ہمارے ملک میں آئی ویسے ہی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بہت ہی سبسِڈائز قرضے دیے اور جو پ±رانے قرضے تھے وہ بھی ری شیڈیول کر دیے کہ آپ پرانے قرضوں کی ادائیگی دو سال بعد کریں فی الحال صرف سود ادا کرتے رہیں، پرنسپل ادا نہ کریں۔ اس کے ساتھ ’ ٹیرف‘ TERF یعنی Temporary Economic Relief Fund کے تحت بہت ہی کم سود پر (تقریباََ دو فی صد) 10 سال کے لئے ٹیکسٹائل کمپنیوں کو قرضہ دیاگیا۔ اس طرح ہر ایک کمپنی نے اس پیشکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی ٹیکسٹائل مشینوں پر سرمایہ کاری کی۔ ان مثبت قدم سے فوراََ ہی ثمرات آنے شروع ہو گئے۔ یوں نئی مشینوں سے صنعت کاروںکی پیدا وار اور پیداواری صلاحیت بہت بہتر ہو گئی۔ ا±ن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اب بھی اپنی پالیسیوں اور صنعتی منصوبوں کو مزید بہتر کرے تو و ہ برآمدات مزید بڑھا سکتے ہیں۔ افسوس ہے کہ ہمارے ہاں آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد قدرتی گیس پر جھگڑا ہے کہ اگر و ہ سندھ میں نکلتی ہے تو اس پر اول حق صوبہ سندھ کا ہے۔ پھر درآمد ی گیس بھی آتی ہے جس کے ریٹ پر بھی جھگڑا ہے۔ یہاں ٹیکسٹائل ا نڈسٹر ی والوں کا کہنا ہے کہ ہمیں آج بھی بجلی اور گیس فراہمی کی بہت زیادہ تکلیف ہے۔ اس صنعت کے مالکان کا کہنا ہے کہ کراچی میں ’کے الیکٹرک‘ اور پنجاب میں واپڈا کا تو سرے سے کوئی اعتبار ہی نہیں۔ یہاں چار بوند بارش ہوتی ہے تو بجلی چلی جاتی ہے۔اس طرح سے تو انڈسٹری نہیں چل سکتی۔ اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ بجلی بغیر ر±کے مسلسل ملتی رہے۔ میری خود کراچی کی ایک ٹیکسٹائل مل کے مالک سے بات ہوئی۔ ا±ن کا کہنا ہے کہ اگر گیس اور بجلی کی سپلائی بہتر ہو جائے اور کچھ سہولتیں مہیا کردی جائیں تو ہماری برآمدات ڈبل ہو سکتی ہیں۔ ا±ن کا کہنا کہ ہمارے ملک کی کل برآمدات ایک لمبے عرصے سے مسلسل 24 بِلین ڈالر تھیں۔ اس میں ٹیکسٹائل کا حصہ 12بلین تھا۔ اتنے سالوں کے بعد آج یہ پہلا سال ہے ہم اس ہدف کو 16 بِلین ڈالر رکھ رہے ہیں۔ 12 سے 16 بلین ڈالر 25 فی صد چھلانگ ہے جو کہ اچھی بات ہے۔ جب یہ 12 بلین تھا تب ایک ڈالر بھی 100 روپے کا تھا ا±س وقت بارہ بلین کا سو روپے کے حساب سے زر مبادلہ مل رہا تھا۔ اب جب یہ 16 بلین ہو رہا ہے تو ڈالر کی قیمت بھی 178 روپے ہو چکی ہے۔اس سے بھی ہمیں فائدہ ہوا ہے۔ نئی مشینوں سے پورے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پیداوار بہتر ہو گئی۔ فرض کر لیں ہماری دس سال پرانی مشین اگر دن کا 600 میٹر کپڑا بناتی تھی اب نئی مشین اتنی ہی جگہ کے اندر اتنے ہی مزدوروں کے ساتھ 1000 میٹر کپڑا بناتی ہے۔ پرانی مشین اگر 600 ار پی ایم کی تھی تو نئی مشین 1000 آر پی ایم کی رفتار سے چلتی ہے۔ گویا اتنی ہی جگہ، توانائی اور لیبر کے ساتھ ہماری پیدا واری صلاحیت کہیں سے کہیں جا پہنچی! اب ایک سوال ذہن میں ایا کہ حکومت آخر کیوں نہیں چاہے گی کہ ٹیکسٹائل کی پیدا وار مزید بڑھے اور اس طرح برامدات مزید بہتر ہو سکیں؟ ظاہر ہے کون نہیں چاہے گا مگر یہاں پر ہم سیاست کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست، صوبائی سیاست (اٹھارویں ترمیم) وغیرہ۔ اب اگر اپ کسی بزنس مین کو بٹھا کر وزارتِ خزانہ یا پٹرولیم کی وزارت چلوائیں گے تو کام نہیں ہو سکے گا۔ ہر ایک کام کی کا میابی صحیح منصوبہ بندی میں ہوتی ہے۔ جو شخص جس شعبے میں ماہر ہے اسے وہی کام سونپنا چاہیے۔ صحیح جگہ پر صحیح شخص کی تعیناتی بے حد ضروری ہے۔ مفاد پرستی بھی ہم کو نظر آتی ہے۔ بجلی اور گیس کے ساتھ کراچی کی صنعتوں میں پانی مافیا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب کہ فیصل آباد اور پنجاب کے دوسرے علاقوں میں ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ جب سے پاکستان بنا ہے ٹیکسٹائل کی صنعت پاکستان کی برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے ادارے ہیں جیسے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز اسو سی ایشن APTMA ، پاکستان ہوزری ملز اسوسی ایشن پھر ہر شہر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری مستقل متعلقہ وزیروں، وزارتوں اور حکومت کے اعلی حکام سے رابطے میں رہتے ہوئے اپنی تجاوزات دیتے رہتے ہیں۔ اب اِن پر عمل کتنا ہوتا ہے؟ یہ الگ بات ہے۔ ا±ن ٹیکسٹائل اونر نے مزید بتایا کہ میں اپنی بات کرتا ہوں اگر مجھے یہ سب سہولیات فراہم کردی جائیں تو میں اپنی اِن مشینوں سے ایک سال کے اندر اندر 20 سے 25 گنا زیادہ پیدا وار حاصل کر سکتاہوں۔ یہاں جو بڑے ’گھر‘ ہیں ا±ن ہی میں سے قوم کے لیڈر بنتے ہیں تو جس کی وزیرِ اعظم تک رسائی ہے وہ پہلے اپنے آپ کو، شہر کو اور صوبے کو محفوظ کر لیتے ہیں۔ صوبائیت اور مفاد پرستی کا عنصر بد قسمتی سے موجود ہے۔ عام صنعتکاروں کے لئے یہ بھی ایک مسئلہ اور رکاوٹ ہے۔ پچھلے دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں کراچی کے ایک بڑے ٹیکسٹائل مل مالک فواد انور کریم صاحب اور پٹرولیم اور گیس کے وزیر حماد اظہر صاحب کی گفتگو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میںفواد صاحب شکایت کر رہے تھے کہ حکومت تو ہمیں گیس دیتی ہی نہیں ہے اور وزیرِ موصوف کہہ رہے ہیں کہ ہم تو دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہ دونوں حضرات تو ایک پیچ پر ہی نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں