پاکستانی سیاست، فوجی جنرلز اور تلخ حقیقت 13

پاکستانی سیاست، فوجی جنرلز اور تلخ حقیقت

موجودہ صورت حال جس میں آرمی چیف کی تقرری کی بات گزشتہ ایک سال سے کھینچ تان چلی آرہی ہے۔ جنگ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فوج اس وقت تک سیاست میں مداخلت سے باز نہیں آئے گی جب تک پنجاب فوج کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا۔ وہ وقت ہمارے محترم نواز شریف صاحب لے آئے حالانکہ ہماری تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان اپنے قیام کے بعد سے ہی فوجی بالادستی کے زیردست آچکا تھا اور برطانوی مہمانوں نے جاتے جاتے برٹش آرمی کے سدھائے ہوئے جنرلز ہمارے سروں پر مسلط کردیئے تھے۔ یوں اسکندر مرزا سے شروع ہونے والا کھیل ایوب خان کے ذریعہ تناور درخت بنا اور پھر یکے بعد دیگرے فوجی جنرلز نے ملک کو فوجی اسٹیٹ بنا کر رکھ دیا۔ ہر طرف فوجی چھاﺅنیاں اور گیریژن قائم ہو گئے۔ ملک بھر میں ناکہ بنا دیئے گئے اور رینجرز کو جس کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے، شہروں میں تعینات کرکے اپنے ہی ہم وطنوں کو یرغمال بنا لیا گیا۔ نعرہ یہ لگایا گیا کہ اگر فوج نہیں ہوتی تو پھر ملک غیر محفوظ ہو جائے گا اور یہ ایک حقیقت بھی ہے چنانچہ لوگوں نے اعتبار کیا۔ پاکستانی فوج زندہ باد کے نعرے لگتے رہے۔ سیاسی پارٹیوں کو شطرنج کے کھیل کی طرح مہروں کی صورت میں استعمال کرکے ملک کا بیڑا غرق کردیا گیا۔
فوجی جنرلز، عدالت کے ججوں اور بیوروکریٹس نے باہمی تعاون کے ذریعہ ملک کو لوٹنا شروع کیا اور سیاستدانوں میں بھی وہ لوگ ڈھونڈے جو لالچی خودغرض اور کمینے تھے۔ یوں سب نے مل جل کر کھایا مگر جب دانے ختم ہو گئے تو پھر جنگ شروع ہوئی اور یہ جنگ تمام بڑے ہاتھیوں کے درمیان جاری ہے۔ فوج کے خلاف الطاف حسین بولے جو تاریخ کا حصہ بنا دیئے گئے کیونکہ مہاجروں کی آواز تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سر اٹھانے کی کوشش کی تو لٹکا دیئے گئے۔ بے نظیر نے آنکھیں دکھائیں تو دن دھاڑے ہزاروں جیالوں کی موجودگی میں کھوپڑی اڑا دی گئی۔ اس سے قبل لیاقت علی خان، فاطمہ جناح اور قائد اعظم محمد علی جناح بھی سازشیں کرکے ختم کردیئے گئے مگر فوج حب الوطن رہی۔ باقی غدار قرار پاتے رہے مگر فوجی جنرلز کے بارے میں زبان کھولنا گناہ کبیرہ بنا دیا گیا۔ نہ جانے کتنے بلوچوں، پٹھانوں، مہاجروں، صحافیوں اور قوم کی آواز بننے والوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا مگر کب تک؟ مکافات عمل کا ایک وقت ہے اور وہ ان کے اپنے نواز شریف لے آئے۔
پنجاب سے اٹھنے والی آواز کو فوجی جنرلز خاموش یوں نہیں کر پائے کہ پنجاب کے ہر گھر سے ایک شخص فوج میں ضرور موجود ہے اور اسی کو کہتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی چکی بہت باریک پیستی ہے۔ یوں آج فوجی جنرلز بے بس اور بے یارو مددگار نظر آتے ہیں۔ اپنی پوزیشن واضح کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور وہ قوم جو پاک فوج زندہ باد کا نعرہ لگاتے نہ تھکتی تھی اور فوجی ٹینکوں پر چڑھ کر فوج کو مغظات بک رہی ہے۔ ”یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے“ جیسے نعرہ آج عوامی نعرہ بن رہے ہیں۔ پنجاب سے فوج کو گالیاں پڑ رہی ہیں۔ ریٹائرڈ فوجی جنرلز کی تنظیمیں فوجی جنرلز کے کرتوتوں کے پردہ چاک کررہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کی فوج اس ملک کا اثاثہ ہوتی ہے مگر وہ عام فوجی ہوتا ہے۔ اپنی فوجی فورسز کو بنیاد بنا کر اگر چند جنرلز اپنے مفادات کی بھینٹ پورے ملک کے عوام کو چڑھا دیں۔ ایٹم بم سے دنیا کو ڈرا کر اپنی فوجیں کرائے پر دوسرے ملکوں کو دینا شروع کردیں، ملک کی زمینوں کے سودے میں ملوث ہوں، ڈیفنس اتھارٹی بنا کر غریبوں اور امیروں میں تفریق پیدا کی مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم خفیہ طور پر جو کچھ بھی کرلیں اچھا یا برا اس کا نتیجہ اسی دنیا میں ملے گا اور اب فوج کو اپنے کئے گئے کردہ اور ناکردہ گناہوں کا حساب دینا ہوگا کیونکہ ان کی گردن جکڑ لی گئی ہے۔ اب ہر وہ شخص جس نے عوام کا خون چوسا، خواہ وہ کسی ادارے میں بیٹھا ہو، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال رہا ہے اور قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔
عمران خان کو اس بات کا کریڈٹ یوں دینا پڑے گا کہ اس نے کم از کم ان چہروں سے نقابیں اتار کر انہیں ننگا تو کردیا۔ غلطیاں تو عمران خان نے بھی کی ہیں مگر شاید اس قدر سنگین نہیں جس قدر ماضی میں ہو گئی ہیں۔ اس وقت کے فرعون کے لئے تو عمران خان کسی موسیٰ سے کم نہیں، کوئی مانے یا نہ مانے، سمجھے نہ سمجھے، یہی ایک تلخ حقیقت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں