Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 87

پی ڈی ایم، نیا وائرس

دنیا میں بے شمار ایسے واقعات ہوئے اور ہو رہے ہیں جن کے باعث دنیا میں بہت بڑی بڑی تبدیلیاں ہوئیں، ان بہت ساری تبدیلیوں کے بعد دنیا پھر اپنے راستے پر چل پڑتی ہے۔ یہ واقعات انسانی جنون اور قدرتی آفات دونوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ قدرتی آفات سے کئی ممالک متاثر ہوئے لیکن کچھ قدرتی آفات جو کسی وبا کی صورت میں پھیلیں اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا۔
کئی شیطانی آفات جو انسانی کی پیدا کردہ تھیں مختلف جنگیں اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہلاک اور برباد ہوئے۔ جب بھی انسان کے پیدا کردہ یہ شیطانی کام انجام پائے کئی ممالک معاشی طور پر کنگال ہو گئے اور دوسری بڑی طاقتوں کے رحم و کرم پر ہو گئے۔ خاص طور پر دوسری جنگ عظیم جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا جس میں بہت تباہی پھیلی، خاص طور پر جاپان پر تباہی نازل ہوئی جس کے بعد وہ امریکہ سے 99 سال کا معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اسی طرح اس کے آس پاس کی ریاستیں تھیں جو کسی نا کسی دوسرے ملک کی تابع ہو گئیں۔ انسانوں کی شیطانی سازشوں کے باعث دنیا میں کافی تباہی پھیلی۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات نے بھی انسانی بستیوں کو اجاڑ کر رکھ دیا لیکن بغور جائزہ لیا جائے تو قدرتی آفات سے زیادہ انسان کی اپنی پیدا کردہ تھیں۔
ہمارے دور میں سب سے بڑا واقعہ نائن الیون کا ہوا اس میں سازشی کون تھا آج تک یہ معمہ بنا ہوا ہے لیکن اس واقعے نے تمام دنیا کو بدل کر رکھ دیا اور اس ہی کے نتیجے میں عراق اور افغانستان میں تباہی پھیلی، لاکھوں افراد ہلاک ہوئے، اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا ہی رہا، شام، لیبیا، یمن اور کئی ممالک تک پھیل گیا اور ابھی تک صورت حال مکمل امن والی نہیں ہے۔ ظاہر نائن الیون کے واقعے سے ساری دنیا کی معیشت پر اثر پڑا اور اس کے اثرات کچھ ممالک میں ابھی تک موجود تھے کہ ایک نئی آفت نے جنم لیا جو کورونا وائرس کی صورت میں نازل ہوئی۔ جس نے پوری دنیا کو خوف اور دہشت میں لپیٹ لیا، لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور وبا ابھی تک بے قابو ہے اور یہ آفت ایک بہت بڑی سازش نظر آتی ہے جو اپنے اصل مقصد سے ہت کر حادثاتی طور پر دنیا میں پھیل گئی اور تجربات کے دوران ہی بے قابو ہو گئی۔
تحقیق اور تجربے کئی صدیوں سے جاری ہیں جو انسانی فلاح کے لئے بھی ہیں اور انسانی تباہی کے لئے بھی کئے جارہے ہیں۔ مختلف ایٹمی ہتھیار سے لے کر سامان آسائش، طب اور معیشت کے لئے یہ تجربات ہوتے ہیں۔ مختلف بیماریاں مثلاً کینسر، طاعون، ٹی بی اور ایڈز جیسی خطرناک بیماریوں کے جراثیم اور وائرس پر تحقیق ہوتی ہے اور اس کے توڑ کے لئے بعض اوقات دوسرے جراثیم اور وائرس تخلیق کئے جاتے ہیں۔ یہ تجربات چاہے وہ ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق ہوں، طب سے یا کسی اور شعبے سے ہوں، بہت خطرناک ہوتے ہیں اور ذرا سی غلطی کسی بڑی تباہی کا باعث بن جاتی ہے لہذا یہ تجربات ماہرین کی نگرانی میں لیبارٹریز میں بہت احتیاط سے ہوتے ہیں۔ کیونکہ دوران تجربات وائرس، جرثیم یا کوئی الیکٹرونک شعاعیں بہت خطرناک ہو جاتی ہیں لہذا ان کے خطرات کو ختم کرنے یا کم کرنے پر تجربات ہوتے ہیں اور نقصان پھیلانے والی چیزوں کو لیبارٹریز کے اندر ہی ختم کردیا جاتا ہے اور جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نا ہو جائیں ان اشیاءکو لیبارٹریز سے باہر نہیں جانے دیا جاتا۔
کورونا وائرس بھی کسی ایسے ہی تجربے یا تحقیق کا نتیجہ ہے جو کسی کی غلطی سے کسی طرح لیبارٹریز میں مکمل ہونے سے پہلے ہی باہر آگئی اور اس پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ اس وائرس کو بنانے کا کیا مقصد تھا، اس پر ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ امریکہ کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لئے بنایا جارہا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور چائنا کی سرد جنگ جو معاشی بھی ہے، کافی عرصے سے جاری ہے۔ امریکہ نے چائنا کی معیشت کو دھچکا پہنچانے کے لئے کئی اقدامات کئے جن میں چائنا فوڈ کو مشکوک قرار دے کر اربوں ڈالر کی مصنوعات سمندر برد کردی گئیں اور دنیا بھر میں برآمد رک گئی۔ جواب میں چائنا نے ایک ایسا وائرس بنانے کی کوشش کی جو ایک محدود علاقے میں امریکہ کے صنعتی اور کاروباری شہروں کو نشانہ بنائے گا۔ خوف و دہشت کی فضاءمیں کاروبار بند ہو جائیں گے اور امریکہ معاشی طور پر نقصان اٹھائے گا۔ منصوبے کے تحت وائرس بن جانے کے بعد ایک منصوبے کے تحت اسے امریکہ کے چند شہروں میں لانا تھا لیکن پہلے اس کے بدترین نقصانات کو کم کرنا تھا، بدقسمتی سے تجربات کے دوران ہی یہ وائرس خطرناک صورت میں ہی باہر آگیا اور بڑی تیزی سے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ سب سے پہلے قابو بھی چائنا نے پالیا اور مزید شہروں میں پھیلنے سے روک لیا کیوں کہ جنہوں نے بنایا تھا وہ اس کا توڑ بھی جانتے تھے لیکن دوسرے ممالک جس میں امریکہ، یورپ، ایشیاءاور عرب کے ممالک تھے وہ اس کا توڑ نا جان سکے اور وائرس تباہی پھیلاتا رہا اور ابھی تک بے قابو ہے۔ اس وائرس سے امریکہ سمیت کئی ممالک معاشی طور پر کمزور ہوئے۔
اس کا اثر ہمارے ملک پر بھی پڑا ظاہر ہے اس میں کسی بھی حکومت کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ہمارے ملک میں پی ٹی آئی کو جن حالات میں حکومت ملی پوری قوم جانتی ہے ابھی حالات سنبھالنے کی کوششیں ہو رہی تھیں کہ کورونا کی وباءآگئی، مخالفین کو تو بہانہ چاہئے تھا حالانکہ وہ جانتے تھے صرف پاکستان نہیں بلکہ کئی ترقی پذیر ممالک مشکل کا شکار ہیں، ہمارے ملک میں تمام سیاسی لیڈران کے درمیان جنگ یہ نہیں ہے کہ ہم نے ملک کو ترقی دینا ہے، عوام کا معیار زندگی بہتر کرنا ہے، معیشت کو مضبوط کرنا ہے، مہنگائی ختم کرنا ہے، ہمارے یہاں جنگ صرف یہ ہے کہ کرسی مجھے چاہئے۔ آج پی ڈی ایم کے نام سے تمام منافق چور لٹیرے جنہوں نے پہلے ہی ملک کو تباہی کے کنارے پر لاکھڑا کیا ہے ایک ہو گئے ہیں ان کا مقصد پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرنا ہے اور پھر اقتدار کے لئے کتوں کی طرح لڑنا ہے۔ مریم نواز اور بلاول جیسے لوگوں کا معیار زندگی عرب کے شہزادوں جیسا ہے اور وہ غریبوں کے حالات کا رونا رو رہے ہیں۔ پوری قوم ان منافقوں کو اچھی طرح جانتی ہے۔ جن کے آباﺅ اجداد نے پیپلزپارٹی اور بھٹو کے خلاف نو ستارے بنائے تھے۔ وہ آج پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف نے زرداری کو چور لٹیرا کہا کہ اس نے قوم کی دولت لوٹی ہے، خزانہ خالی کیا، ہم اس کے پیٹ سے پیسہ نکلوائیں گے۔ آج یہ لوگ زرداری کو ایمان دار کہہ رہے ہیں یا تو یہ اس وقت جھوٹ بول رہے تھے یا آج بول رہے ہیں۔ دونوں صورتوں میں جھوٹے ہی ہیں۔ ایسے لوگ کیا اعتبار کے قابل ہیں؟ قوم سوال کیوں نہیں کرتی؟ سوال تو ان جاہلوں سے ہے جو پی ڈی ایم کو سپورٹ کررہے ہیں ان کے جلسوں میں جارہے ہیں یا تو یہ خود چور ہیں جو جانتے بوجھتے چوروں کی حمایت کررہے ہیں یا پھر بالکل جاہل اور بے شعور ہیں۔ یہ پی ڈی ایم کا وائرس غلطی سے باہر نہیں آیا ہے بلکہ اسے مکمل کرکے صرف پاکستان کے لئے بھیجا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں