60

کالعدم تحریک لبیک سے خفیہ معاہدہ، پردہ کے پیچھے کون؟

اسلام آباد (پاکستان ٹائمز) کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ خفیہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ سعد رضوی کو اور تمام گرفتار کارکنان کو رہا کیا جارہا ہے۔ معاہدہ کے لئے بنائی گئی اسٹرنگ کمیٹی کے سربراہ اور وزیر مملکت علی محمد خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ تحریک لبیک پاکستان کی شوریٰ کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے اور ہم بہت بڑے خون خرابے سے بچ گئے ہیں۔ نہ جانے لوگ کیوں اس معاملہ پر تنقید کررہے ہیں۔ کیا تنقید کرنے والے ایک اور لال مسجد کا واقعہ دھرانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ دونوں جانب عشاق رسول ہیں اور حکومت کے پاس طاقت اور وسائل بھی ہیں، وزیر اعظم عمران خان نے بہت بڑا فیصلہ کیا۔ چونکہ اس میں ہار جیت کا معاملہ نہیں ہے، نہ اسٹیٹ نے سرینڈر کیا ہے۔ عوام کی تکالیف کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے سنجیدگی سے مسائل کا حل نکالا ہے۔ یاد رہے کہ کابینہ نے گزشتہ ہفتہ فیصلہ کیا تھا کہ قانون شکنی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا اور پولیس پر حملہ کرنے والوں سے بھی آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا مگر اچانک حکومت کے گھٹنے ٹیک دیئے اور بلا مشروط تحریک لبیک پاکستان جسے دہشت گرد تنظیم کہا جارہا تھا، جس پر انڈیا سے فنڈنگ کے الزامات لگائے گئے تھے اور جنہوں نے پنجاب پولیس پر حملہ کیا تھا۔ اس سے معاہدہ کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟ اور کس کے دباﺅ پر یہ معاہدہ کیا گیا ہے؟ یہ ایک کھلا تضاد ہے۔ تحریک لبیک پاکستان پر لگائی گئی ساری پابندیاں بھی ختم کردی گئیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت کو اپوزیشن کو اعتماد میں لینا چاہئے کہ یہی جمہوری اقدار کا تقاضا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایک بار پھر حکومت نےuTurn کی نئی مثال قائم کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں