خواب سا دیکھا ہے تعبیر نہ جانے کیا ہو 51

کورونا لہر اور معاشی سرگرمیاں

ہمارے ملک میں کیا کیا اور کہاں کہاں اللہ کا کرم نہیں ہے!! ہمارے ارباب اختیار اور عوام الناس اس کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ جب کورونا کی پہلی لہر نے پاکستان کا رخ کیا تو مختلف طرح کے کاروبار میں بے چینی نظر آئی۔ لیکن اس وقت کار فنانسنگ ایک ایسا کروبار تھا جو حیرت انگیز ترقی کرتا دکھائی دیا۔ میرے ایک دیرینہ دوست لاہور کے ایک نجی بینک میں کئی دہائیوں سے اسی شعبے سے منسلک ہیں جب میں لاہور آتا ہوں تو ان سے ضرور ملاقات ہوتی ہے۔ اب کی مرتبہ میری ان سے اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ موصوف کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں کووڈ 19 کی پہلی لہر اپنے ساتھ پوشیدہ نعمتیں بھی لائی انہوں نے کار فنانسنگ سے متعلق چونکا دینے والے حقائق بتائے جو حاضر خدمت ہیں:
جب کووڈ آیا تو ہر طرف ایک خوف اور مایوسی کی کیفیت تھی ایسے میں دیکھا گیا کہ کار فنانسنگ سمیت کچھ کاروبار خوب پھلے پھولے اس کی کچھ وجوہات تھیں، پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں کی ساٹھ سے ستر فیصد آبادی بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، چار پانچ مہینے بعد فصل آتی ہے تو پورے ملک میں ایک معاشرتی سرگرمی ہوتی ہے اس کی بدولت ہمارا معاشی نظام چل رہا ہے کیوں کہ ہماری درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں جب ہمارے ہاں کورونا کی پہلی لہر آئی تو زرعی شعبہ مکمل کھلا ہوا تھا۔ خوف اور مایوسیانہ کیفیات بڑے شہروں کی مارکیٹوں میں زیادہ تھیں۔ چھوٹے شہروں کے معاملات زندگی کسی حد تک متاثر ضرور ہوئے تھے لیکن دیہاتوں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا وہاں کورونا کے اثرات انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھے۔ زراعت سے متعلق تمام صنعت کھلی ہوئی تھی۔ پھر بڑے شہروں میں ڈپارٹمنٹل اسٹور رات کو جلدی بند ہونے لگے جس سے ان پر آنے والے اخراجات کم ہو گئے اور فروخت بہت بڑھ گئی۔ ایسا اس لئے ہوا کہ ہماری قوم کے مزاج میں مصیبت کے وقت ضرورت مندوں میں ضروریات زندگی مفت تقسیم کرنا شامل ہے اس کے لئے صاحب ثروت لوگوں نے بہت بھاری مقدار میں اشیائے خوردونوش خریدیں پھر لوگوں نے کچھ اشیاءکو گھروں میں ذخیرہ بھی کیا۔ ڈپارٹمنٹل اسٹوروں سے براہ راست کئی ایک فیکٹریاں اور تقسیم کار ادارے منسلک ہوتے ہیں ان بڑے اسٹوروں میں جو اشیاءموجود تھیں ان کی ترسیل و فراہمی مستقل جاری تھی۔ پھر تقسیم کار، ٹرانسپورٹر وغیرہ سب کھلے ہوئے تھے اسی طرح فارمیسیاں اور میڈیکل اسٹور کھلے رہے ان کا کاروبار بھی خوب عروج پر تھا بہت سے کاروبار جو بظاہر بند لگتے تھے وہ لوگ بھی اپنے گھروں سے کر رہے تھے اسی طرح کارفنانسنگ بھی ہے جو گاڑیاں پاکستان میں فروخت ہوتی ہیں فنانسنگ اس کا ایک حصہ ہے کئی ایک صارف نقد قیمت ادا کرکے گاڑیاں خریدتے ہیں دیہی علاقے خاص طور پر اس میں شامل ہیں جہاں ذاتی ضروریات کے لئے بینکوں سے قرض لینے کا چلن زیادہ نہیں ہے۔ کورونا کی وباءکے دنوں میں اللہ کا فضل یہ ہوا کہ ہماری فضلیں اچھی ہوئیں حکومت کی طرف سے قیمتیں بھی اچھی مقرر ہوئیں، قمیندار کے پاس جو پیسہ آیا وہ مارکیٹ میں گردش میں لگا دیا گیا اس کی وجہ سے نہ صرف گاڑیاں بلکہ اور بھی بہت ساری چیزیں چلتی رہیں یہ اس کاروبار میں بڑھوتری کی ایک بڑی وجہ ہے۔
میں نے ان دوست سے سوال کیا کہ کیا آپ کو کورونا کے پیش نظر کار فنانسنگ اور ریکوری کے شعبے میں کمیشن پر کام کرنے والوں کی بے روزگاری کا خطرہ تو محسوس نہیں ہوا اس کے جواب میں انہوں نے بتایا ”اصل میں بینک کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہی یہ تھا کہ جن گاڑیوں کی فنانسنگ کی ہوئی ہے ان کی ریکوری کیسے ہو گی؟ وہ تین ماہ بعد ہی کورونا کی صورت حال میں بہتر آنا شروع ہو گئی لوگوں پر سے نفسیاتی دباﺅ اور خوف کم ہوا کاروباری حالات اچھے ہونے لگے ہمارا بہت سا ایسا اسٹاف بھی ہوتا ہے جو تنخواہ کے ساتھ کمیشن بھی لیتا ہے، مجھ کو ان کی پریشانی تھی کہ یہ لوگ اب اپنا گزارا کیسے کریں گے؟ اس کا تجزیہ ہم محض بڑے شہروں کی مارکیٹ کو دیکھ کر صحیح نہیں کر سکتے تھے ہم نے سوچا کہ ہم یہ خطرہ مول لے سکتے ہیں، نئی گاڑیوں کی فنانسنگ کے لئے ہم نے اپنے بینک کی جانب سے ملک گیر بنیاد پر ایک مہم شروع کر دی جس میں قرض پر گاڑی لینے کی شرائط مزید نرم کردیں اس سے ہمارے ایسے تمام اسٹاف کی بہت مدد ہو گئی اور بینک کو بھی فائدہ ہوا گھر میں بیٹھ کر کام کرنے والے متوقع صارف کے پاس جب ہمارا اسٹاف گیا تو ان نرم شرائط کو دیکھتے ہوئے بہت سے لوگوں نے نئی گاڑیوں کی فنانسنگ کروائی اللہ کا شکر ہے کہ ان حالات میں کورونا کی پہلی لہر کے پس منظر میں ہمار ابینک نئی گاریوں کی فنانسنگ کا سرخیل ہے اگر نیک نیتی سے کوئی کوشش کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دیتا ہے ہماری نیت میں اپنے بینک، صارف اور بینک کے اسٹاف کے بہبود کا خیال تھا اس لئے الحمدللہ برکت ہو گئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انفرادی یا اجتماعی سطح پر حالات میں سرد و گرم آتے ہیں پھر یہ کہ حالات اچھے ہوں یا برے گزر ہی جاتے ہیں اگر مشکل حالات میں اپنی سوچ مثبت رکھی جائے اور ٹیم جڑ کر ہے تو توقع سے کہیں بڑھ کر نتائج حاصل ہوتے ہیں یہ ایک مصدقہ کہاوت ہے کہ گھر اگر اندر سے مضبوط ہے تو وہ بیرونی طوفان سہہ جائے گا“۔
میں اپنے اس دوست سے مل کر بے حد مسرور ہوا۔ پاکستان کو ایسے ہی نوجوان قیادت کی ضرورت ہے!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں