کورونا کی نئی قسم دریافت،پہلے سے زیادہ خطرناک 25

کورونا کی نئی قسم دریافت،پہلے سے زیادہ خطرناک

ٹورونٹو/شکاگو (پاکستان ٹائمز) دنیا کے طبی ماہرین نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ موجودہ وائرس اپنے خلیات کو تبدیل کررہا ہے اور نہایت سرعت کے ساتھ اور خوفناک انداز میں دنیا بھر میں پھیل رہا ہے جن سے بچے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ گزشتہ سال کے مقابلہ میں سال 2021ءتک یہ وبا مزید شدت اختیار کرے گی اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ستمبر میں سامنے آنے والے وائرس میں نومبر میں تبدیلی آئی اور اس کے پھیلنے کی شرح میں 62 فیصد تک اضافہ ہو گیا۔ موجودہ صورتحال کے نتیجہ میں نیوزی لینڈ، سعودی عرب اور کئی ایک ممالک نے اپنی فلائٹس کینسل کردیں ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈنمارک میں اس نئی قسم کے وائرس کے 9 کیسز سامنے آئے جب کہ ایک کیس کی تشخیص آسٹریلیا میں ہوئی۔ بتایا جارہا ہے کہ وائرس کی یہ نئی قسم چھوٹے بچوں کے لئے بھی نہایت خطرناک ہے۔ برطانیہ میں کورونا وائرس کی اس نئی قسم نے 5 سے 6 ہفتوں کے دوران 15 سال سے کم عمر بچوں کو نشانہ بنایا ہے۔ کورونا وائرس انسانی دماغ کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جس سے لوگوں میں ذہنی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ کورونا وائرس ویکسین تیار کرنے والی ایک تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ولیم اے بیلکس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس پھیپھڑوں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے مریضوں کے چکھنے اور سونگھنے کی صلاحیت کو بھی ختم کر دیتا ہے اور یہ گردوں تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ دوسری جانب فائزر کی ویکسین کے سائیڈ افیکٹ آنے شروع ہو گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق سخت الرجی کی ہسٹری والے افراد کو فی الحال فائزر کی بنی ویکسین لینے سے گریز کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل برطانیہ میں طبی عملہ سے ویکسین لگانے کا آغاز کیا گیا تھا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ جنہیں الرجی کا مرض لاحق تھا ان ہو ان میں اس ویکسین کا ری ایکشن دیکھنے میں آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں