ہما ناز ندیم 42

کڑوا سچ

مجھے یاد ہے وہ زمانہ کہ جب پاکستان ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا، کس قدر معیاری گانے، پروگرام اور ڈرامے دیکھنے کو ملتے تھے، اس وقت ہم شاید اس قدر ترقی یافتہ نہیں تھے۔ وہ زمانہ تھا کہ جب وی سی آر پر انڈین فلموں کا دور شروع ہوا تو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ہندوستانی فلمیں دیکھنا گناہ عظیم سمجھا جاتا تھا پھر ہم ترقی کرتے چلے گئے، ہم تعلیم یافتہ کہلانے لگے، ہم ماڈرن ہو گئے۔ ہمارا ملک جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلاتا ہے، وہاں کی مقامی نوجوان نسل امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں بسنے والے پاکستانیوں سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے۔ اگر آج کے پاکستان میں ٹی وی چینلز پر چلنے والے پروگراموں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم کسی اسلامی ملک کے ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں اپنا کلچر کو دور دور نظر نہیں آتا۔ کسوٹی، نیلام گھر یا ففٹی ففٹی، اسٹوڈیو ڈھائی یا اس سے قبل پی ٹی وی کے پروگراموں کا موازنہ اگر آج کے پروگراموں سے کیا جائے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم تعلیم حاصل کرنے کے باوجود جہالت کی جانب گامزن ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ تعلیم کے ساتھ تربیت کا فقدان ہے۔ اب ہم تعلیم یافتہ تو بہت ہیں مگر تربیت کی کمزوری کے سبب اچھے اور برے کی تمیز سے معذور ہو چکے ہیں۔
آپ آج کے ٹی وی چینلز کے ڈرامہ دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گاکہ کس خوبصورتی سے آپ کا کلچر آپ سے چھین لیا گیا ہے۔ آج ہم تعلیم یافتہ تو بہت ہیں مگر اخلاقی طور پر قلاش ہو چکے ہیں۔ رہی سہی کسر ہمارے مارننگ شوز نے پوری کردی ہے۔ اس کی تازہ مثال حال ہی میں عائشہ نامی لڑکی ہے جس نے ایک ہندوستانی گانے پر ٹھمکے لگا کر سوشل میڈیا کے ذریعہ دنیا بھر کو اپنی جانب متوجہ کیا اور اسے یوں سراہا گیا کہ جیسے ا سنے کوئی بہت ہی نیک کام سر انجام دیا ہو۔ اول تو کسی تقریب کے پرائیویٹ فنگشن شادی بیاہ میں ڈانس کرنا معمول کی بات ہے مگر گھر کی تقریبات کو یوں سوشل میڈیا پر ڈالنا کسی طور مناسب نہیں۔ خصوصاً خاندانی لوگوں کو بھول کر بھی ایسی غلطی نہیں کرنا چاہئے۔ آج کا سوشل میڈیا، فیس بک، ٹک ٹاک فضولیات سے لبریز ہو چکا ہے۔ جہاں کسی اچھے اور برے کی تمیز نہیں رہی، ایسے حالات میں اچھے گھرانوں کی بچیوں کو اور ان کے والدین کو اس جانب توجہ مرکوز کرنا ہوگی اور اس سلسلہ کو ختم کرنا ہوگا۔ یہی حال فیس بک کا ہے کہ جہاں خواتین اپنے پرائیویٹ فنگشن تک سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں اور مردوں اور عورتوں کا آپس میں اجتماعی ڈانس فیشن بن چکا ہے۔ نہ کوئی روکنے والا ہے اور نہ ہی کوئی ٹوکنے والا۔ اکثر تو ایسی پردہ دار خواتین کو ان پروگراموں میں دیکھا جاتا ہے جو خود کو اسلام اور دین کا داعی سمجھتی ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ وقت کتنی تیزی سے بدلا ہے اور ہم اپنی روایتوں اور قدروں کو فراموش کرکے خوش ہیں۔ یوں تو شادی بیاہ میں بھی ناچ گانا ممنوع ہے مگر چلیں اپنے گھر میں، اپنے ماحول میں اگر بچے کچھ ناچ گانا کرلیں تو ٹھیک مگر اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا کسی طور مناسب نہیں کہ اس تشہیر سے آپ اس شوق کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور ایک غلط کام جسے کرنے کے آپ خود مرتکب ہوتے ہیں۔ اسے مشتہر کررہے ہیں یقیناً اس عمل کی حوصلہ شکنی کی جانا چاہئے۔
میں حیران ہوں کہ ہمارے ٹی وی چینلز کے مالکان اور پروڈیوسرز ایسے پروگرام ترتیب کیوں نہیں دیتے جس سے ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ امتیازی نمبروں سے پاس ہونے والے طالبعلموں کو انٹرویو لیا جائے، ان سے آئیڈیاز پر بات کی جائے تاکہ ان کے پیچھے آنے والے نوجوانوں کو ہمت ملے اور ان میں تعلیم حاصل کرنے کی لگن پیدا ہو۔ اس طرح اسپورٹس کے میدان میں لوہا منوانے والوں کو سامنے لایا جائے، ان کے ٹیلنٹ پر بات کی جائے، ٹیکنیکل اسکولوں سے فارغ التحصیل بچوں سے نت نئے پروجیکٹس پر بات کی جائے۔ بہت کچھ ایسا ہے جو ہم نہیں کررہے اور صرف اور صرف فضولیات میں پڑ گئے ہیں۔ اب تو ایسے اسٹیج پروگرام ترتیب دیئے جارہے ہیں کہ جو سب سے اچھا ڈانس کرے گا وہ انعام کا مستحق قرار پائے گا اور ہم مسلمان یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ہم صرف ایک انعام کی لالچ میں زمانے کے سامنے ناچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیئے کہ ایسے پروگراموں کو آرگنائز کرنے والوں کو اور ایسے عمل پر عمل درآمد کرنے والوں کو کیا نام دیا جانا چاہئے۔ ہمیں نظرثانی کرنا ہوگی۔ اگر ہم اپنی آنے والی نسل کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالنا چاہتے ہیں وگرنہ یہ طوفان ہمارا سب کچھ بہا کر لے جائے گا اور ہم نہ تیتر میں شمار ہوں گے اور نہ بٹیر رہیں گے۔
اس کالم سے میرا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا یا کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں بلکہ ”شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات“ کو ذہن میں رکھتے ہوئے لکھ رہی ہوں پھر بھی اگر کوئی دکھی ہو تو مجھے معاف کردے کہ دلوں کو دکھانا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارا رہبر ہو اور ہمیں اپنی اور اپنے معاشرہ کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں