حامد میر کا ایک مرتبہ پھر فوج پر حملہ! 118

کیا ایرانی سائنسدان کی ہلاکت بائیڈن انتظامیہ کیلئے مشکل پیدا کریگی؟

گزشتہ دنوں ایرانی سائنسدان ”فخرے زادے“ کی ہلاکت آئندہ آنے والے دنوں میں بائیڈن حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرے گی؟ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ 2020ءجنوری 2021ءسے پہلے ٹرمپ حکومت آئندہ آنے والی جوبائیڈن انتظامیہ کے لئے داخلی مسائل کے ساتھ ساتھ خارجی مسائل بھی کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ ایرانی سائنسدان کی مبینہ طور پر ”موساد“ کے ہاتھوں ہلاکت ٹرمپ، نیتن یاہو اور ایم بی ایس کی ملی بھگت نظر آرہی ہے۔ ایرانی حکومت، فوجی حلقوں اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے اور ان کا عزم ہے کہ وہ اس کا بہت بڑا بدلہ لیں گے لیکن تاحال ایرانی حکومت کی طرف سے ایسا کچھ دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ مڈل ایسٹ میں امریکن میرینز کی تعداد چالیس ہزار کے قریب ہے، جنہیں ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ایران کی طرف سے اگر کوئی حملہ کیا جائے تو وہ اس کا جواب دے سکیں۔ ہاری ہوئی ٹرمپ انتظامیہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ نئے آنے والوں کے لئے ایسے مسائل کھڑے کردیں کہ ان کو بات چیت کی گنجائش بھی نہ ملے۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے مابین ”نیو کلیئر ڈیل“ کے یکطرفہ خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ جیسی کیفیت تھی۔ جسے بائیڈن کے منتخب ہونے کے بعد محسوس کیا جارہا ہے کہ یہ ڈیل دوبارہ بحال ہو جائے گی اور دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر بہتر ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران پہلے روس اور چین کو انتخابات میں مداخلت کرنے کے خدشے کا اظہار کیا اور پوسٹل بیلٹ کے ذریعے بڑے پیمانے پر دھاندلی ہونے کے امکانات کو نشانہ بنایا۔ کئی مہینے پہلے ہی ٹرمپ نےالیکشن میں مبینہ دھاندلی کے الزامات لگانے شروع کردیئے تھے۔ انتخابات سے کچھ پہلے روس، چین کے ساتھ ساتھ ایران کوبھی مورد الزام ٹھہرایا جانے لگا کہ وہ بھی اس گیم کا حصہ ہے حالانکہ ایران جیسے کمزور ملک کے پاس اتنے وسائل کہاں ہیں کہ وہ امریکی انتخابات میں دھاندلی کرو اس کے یا اثر انداز ہو سکے۔ ٹرمپ نے ایران کا نام منصوبہ بندی کے تحت لیا تھا کہ وہ اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ”فخری زادے“ کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ امریکہ روس اور چین کا توکچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا لہذا انہوں نے ایران کو ٹارگٹ کیا جو کہ سراسر نا انصافی ہے۔ بدقسمتی دیکھنے کہ پچاس سے زائد اسلامی ممالک کے باوجود ایران کے ساتھ کرتی نہیں کھڑا۔ سعودی عرب اور ایران کی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ایران پر کسی قسم کے (Aggression) کے نتیجے میں خطے میں بڑے بھیانک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
سعودی عربکے نئے تعمیر ہونے والے شہر (NEOM) میں ہونے والی ایم بی ایس، مائیک پومپیو اور نیتن یاہو کے درمیان ملاقات میں جہاں اور بھی بہت سارے خفیہ معاملات طے پاتے ہیں۔ ”فخری زادے“ کی ہلاکت کی منظوری بھی دی گئی۔ سعودی عرب کو اعتماد میں لینا ضروری تھا کیوں کہ اس کارروائی کا سعودی عرب پر نزلہ گر سکتا ہے جیسے کہ پہلے ہی حوثی باغیوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً سعودیہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ٹرمپ کی شکست سے سعودی عرب، اسرائیل اور ہندوستان سخت اضطراب میں ہیں۔ اس ٹرائیکا نے مڈل ایسٹ اور ساﺅتھ ایشیا کا امن تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جو کہ بائیڈن کے برسر اقتدار آنے سے مکمل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا کیوں کہ اس وقت امریکہ کو بڑے بڑے اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے جس میں کرونا سے نمٹنا، امریکی معیشت کو سنبھالا دینا، ملک میں بڑھتے سماجی فاصلوں کو دُور کرنا اور امیگریشن کے معاملات وغیرہ۔ جوبائیڈن کو خارجہ محاذ پر بھی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہو گا جن میں چین کے ساتھ تجارتی جنگ کا خاتمہ، یورپی یونین، میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات کو بہتر بنانا۔ اس کے ساتھ ساتھ مڈل ایسٹ اور ساﺅتھ ایشیا کے ممالک کو اعتماد میں لینا۔ خصوص بالخصوص پاکستان اور ہندوستان میں بڑھتی کشیدگی کو دور کرنا، کشمیر اور فلسطین جیسے پرانے مسائل کو توجہ دینا۔ افغانستان سے امریکی فوجوں کے مکمل انخلاءکے بعد کی صورت حال کو سنبھالنا، جہاں پچھلے کچھ دنوں میں طالبان کی طرف سے افغانی فوجوں پر کئی خوفناک حملے ہو چکے ہیں جس میں کافی جانی نقصان ہو چکا ہے جس کا شکار پاکستان بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بات بعداز قیاس نہیں کہ ”فخری زادے“ کی ہلاکت سے بائیڈن انتظامیہ کے لئے ٹرمپ کی طرف سے ایسے مسائل کھڑے کئے جارہے ہیں کہ جن کا تدارک جلد ممکن نہیں۔ ٹرمپ شکست کے بعد بڑا خطرناک کھیل کھیل رہا ہے اس سے دنیا کا امن تباہ ہو گا، دنیا میں بے چینی پھیلے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں